5.
Statement of Funerals
٥-
بيان الجنائز
Description of visiting the sick and the reward for illness
بيان زيارة المريض وأجر المرض
Mishkat al-Masabih 1538
‘Abdallah b. Mas'ud said:I went in to visit the Prophet when he was jaded by fever, and touching him with my hand, I said, “You are seriously jaded by fever, messenger of God.” The Prophet replied, “Yes, I am twice as jaded as any of you.” I said, “That is because you have a double reward.” He replied that that was so and then said, “No Muslim is afflicted by injury, be it illness or something else, without God thereby causing his sins to drop away just as a tree sheds its leaves.” (Bukhari and Muslim.)
Grade: Sahih
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بخار میں مبتلا تھے ، میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگایا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ﷺ ! آپ تو بہت سخت بخار میں مبتلا ہیں ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، مجھے تمہارے دو آدمیوں جیسا بخار ہوتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا ، یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مسلمان کو کسی مرض یا کسی اور وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس وجہ سے اس کے گناہ اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح (موسم خزاں میں) درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Abdullah bin Masood بیان کرتے ہیں، میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بخار میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگایا تو میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! آپ تو بہت سخت بخار میں مبتلا ہیں ۔ نبی نے فرمایا :’’ ہاں، مجھے تمہارے دو آدمیوں جیسا بخار ہوتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا، یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ پھر آپ نے فرمایا :’’ جب مسلمان کو کسی مرض یا کسی اور وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس وجہ سے اس کے گناہ اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح (موسم خزاں میں) درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ» . قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ فَقَالَ: «أَجَلْ» . ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»\