9.
Statement of Supplications
٩-
بيان الدعاء
Description of the rewards of Tasbih, Tahmeed, Tahlil, and Takbeer
بيان أجر التسبيح والتحميد والتهليل والتكبير
Mishkat al-Masabih 2299
Sa'd b. Abu Waqqas said:Once when we were with God’s messenger he asked whether any of us was incapable of acquiring a thousand blessings daily, and when one of those who were sitting with him asked how any of them could acquire a thousand blessings he replied, “If he says ‘Glory be to God' a hundred times, a thousand blessings will be recorded for him or a thousand sins will be removed from him.” Muslim transmitted it. In his book, in all the versions on the authority of Musa al-Juhani, “or . . . will be removed” is given, but Abu Bakr al-Burqani said that Shu'ba, Abu ‘Awana and Yahya b. Sa'id al-Qattan quoted Musa’s authority, saying “ and . . . will be removed.” Thus it is stated in al-Humaidi’s book.
Grade: Sahih
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے ؟‘‘ تو آپ کی مجلس میں شریک کسی نے عرض کیا ، ہم میں سے کوئی ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سو مرتبہ ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنے سے اس کے لئے ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا اس کے ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ مسلم ۔ اور انہی کی کتاب میں موسیٰ الجہنی کی تمام روایات میں ((اَوْیُحَطُّ)) ’’ یا مٹا دیے جاتے ہیں ‘‘ کے الفاظ ہیں ، ابوبکر برقانی نے فرمایا : اور اس حدیث کو شعبہ ، ابوعوانہ اور یحیی بن سعید قطان نے موسیٰ سے روایت کیا تو انہوں نے ((وْیُحَطُّ)) کے الفاظ روایت کیے ہیں یعنی الف کے بغیر ’’ اور مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ کتاب الحمیدی میں بھی اسی طرح ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Saad bin Abi Waqas بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی روزانہ ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے تو آپ کی مجلس میں شریک کسی نے عرض کیا ہم میں سے کوئی ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے آپ نے فرمایا سو مرتبہ ((سبحان اللہ)) کہنے سے اس کے لئے ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا اس کے ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں مسلم اور انہی کی کتاب میں موسی الجہنی کی تمام روایات میں ((اویحط)) یا مٹا دیے جاتے ہیں کے الفاظ ہیں ابوبکر برقانی نے فرمایا اور اس حدیث کو شعبہ ابوعوانہ اور یحیی بن سعید قطان نے موسی سے روایت کیا تو انہوں نے ((ویحط)) کے الفاظ روایت کیے ہیں یعنی الف کے بغیر اور مٹا دیے جاتے ہیں کتاب الحمیدی میں بھی اسی طرح ہے رواہ مسلم
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ أَوْ يُحَطُّ عَنهُ ألفُ خطيئةٍ» . رَوَاهُ مُسلم\وَفِي كِتَابه: فِي جَمِيعِ الرِّوَايَاتِ عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ: «أَوْ يُحَطُّ» قَالَ أَبُو بكر البرقاني وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُو عَوَانَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقطَّان عَن مُوسَى فَقَالُوا: «ويحُطُّ» بِغَيْر ألف هَكَذَا فِي كتاب الْحميدِي\