9.
Statement of Supplications
٩-
بيان الدعاء


Description of various supplications for different times

بيان أدعية مختلف الأوقات

Mishkat al-Masabih 2432

Mu'adh b. Jabal said the Prophet heard a man making supplication saying, “O God, I ask Thee for complete favour,” and asked him what complete favour meant. On his replying that it was a supplication by which he hoped to receive good, he said, “Part of complete favour is to enter paradise and be safe from hell.” He heard a man saying, “O Possessor of majesty and splendour,” and said, “Your prayer is answered, so make request.” The Prophet also heard a man who was saying, “O God, I ask Thee for endurance,” and said, “You have asked God for trial; now ask Him for wellbeing.” [Or, "ask Him for health."] Tirmidhi transmitted it.


Grade: Sahih

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کون سی چیز اتمام نعمت ہے ؟‘‘ اس نے کہا : دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے ۔‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے جلال و اکرام والے !‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری دعا قبول ہو گئی ، اب سوال کرو ۔‘‘ اسی طرح نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے ، اس سے عافیت کا سوال کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Moaz bin Jabal بیان کرتے ہیں، نبی نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا: ’’ اے اللہ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’ کون سی چیز اتمام نعمت ہے؟‘‘ اس نے کہا: دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’ اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے۔‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا: ’’ اے جلال و اکرام والے!‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’ تمہاری دعا قبول ہو گئی، اب سوال کرو۔‘‘ اسی طرح نبی نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا: ’’ اے اللہ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’ تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے، اس سے عافیت کا سوال کرو۔‘‘ حسن، رواہ الترمذی۔

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو يَقُولُ: اللهُمَّ إِني أسألكَ تمامَ النعمةِ فَقَالَ: «أيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ؟» قَالَ: دَعْوَةٌ أَرْجُو بِهَا خَيْرًا فَقَالَ: «إِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ» . وَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ: «قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ» . وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ فَقَالَ: «سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَاسْأَلْهُ الْعَافِيَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ