10.
Statement of the Acts of Hajj (Pilgrimage)
١٠-
بيان أعمال الحج


Description of delivering sermon on Eid days, throwing pebbles during the Days of Tashriq, and farewell

بيان خطبة النهار في أيام التشريق ورمي الجمار والوداع

Mishkat al-Masabih 2670

‘Amr b. al-Ahwas said he heard God’s messenger ask at the Farewell Pilgrimage, “What day is this?” and receive the reply that it was the day of the greatest pilgrimage. He then said, “Your lives, property and honour must be regarded by you with a sacredness like that of this day of yours in this town of yours. No wrongdoer must do wrong to himself,( This phrase has given rise to different explanations.Mirqat, 3, 250 prefers the one which says that this is a command not to wrong one another As this is a cause of wrongdoing to oneself the command has been worded in this manner) no wrongdoer must do wrong to his child, nor any child to his parent. The devil has despaired of ever being worshipped in this town of yours, but he will receive obedience in your actions which you consider of little importance and will be satisfied with that.” Ibn Majah and Tirmidhi transmitted it, the latter saying that it issahih.


Grade: Sahih

عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ آج کون سا دن ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : حج اکبر کا دن ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں ، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے ، سن لو ! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو ، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو ، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسناد حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Amr bin Ahwas بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ آج کون سا دن ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : حج اکبر کا دن ہے، آپ نے فرمایا :’’ تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں، سن لو! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے، سن لو! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے، سن لو! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا۔‘‘ ابن ماجہ، ترمذی۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اسناد حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ