10.
Statement of the Acts of Hajj (Pilgrimage)
١٠-
بيان أعمال الحج
Description of delivering sermon on Eid days, throwing pebbles during the Days of Tashriq, and farewell
بيان خطبة النهار في أيام التشريق ورمي الجمار والوداع
Mishkat al-Masabih 2676
She said that God’s messenger hastened to Mecca at the ending of the day when he prayed the noon prayer. He then returned to Mina and remained there over the nights of the.tashriqdays. (The 11th, 12th and 13th of Dhul Hijja. The nametashriqis explained as a reference to pieces the flesh of the sacrifices which pilgrims dry in the sun) He would throw pebbles at thejamrawhen the sun passed the meridian, throwing seven at eachjamraand saying “God is most Great” with each pebble. He would stand a long time at the first and second and make supplication, but while he threw pebbles at the third, he did not stand beside it. Abu Dawud transmitted it.
Grade: Sahih
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا ، پھر آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے ، آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے ، لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے ، اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Ayesha بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا ، پھر آپ منی واپس تشریف لے آئے ، آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے ، لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے ، اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداود ۔
وَعَنْهَا قَالَتْ\: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\