17.
Statement of Governance and Judiciary
١٧-
بيان الإمارة والقضاء


Description of judgments and witnesses

بيان الأحكام والشهادات

Mishkat al-Masabih 3781

‘A’isha reported God’s Messenger as saying, “The testimony of a deceitful man or woman, or of one who has been flogged for transgressing the bounds set by God, or of one who harbours rancour against his brother, or of one suspected regarding the patrons he claims or relationship, or of one who is dependent on a family is not allowable." Tirmidhi transmitted it, saying this is agharibtradition and that the traditions of Yazid b. Ziyad ad-Dimashqi, the transmitter, are rejected.


Grade: Da'if

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خیانت کرنے والے مرد کی گواہی جائز نہیں اور نہ خیانت کرنے والی عورت کی ، جس شخص پر حد قائم کی گئی ہو اس کی گواہی بھی منظور نہیں اور نہ دشمنی رکھنے والے شخص کی اپنے بھائی کے خلاف ، اور ولاء (آزادی) کے بارے میں متہم شخص کی گواہی جائز نہیں اور نہ قرابت کے بارے میں متہم شخص کی اور نہ ہی اہل بیت (یعنی خاندان) کے بارے میں ایسے شخص کی گواہی جائز ہے جس کا خرچہ اس کے خاندان کے ذمہ ہو ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی ؒ نے کہا : یہ حدیث غریب ہے اور یزید بن زیاد دمشقی راوی منکر الحدیث ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Ayesha بیان کرتی hain, Rasool Allah ne farmaya: '' خیانت کرنے والے مرد کی گواہی جائز نہیں اور نہ خیانت کرنے والی عورت کی, جس شخص پر حد قائم کی گئی ہو اس کی گواہی بھی منظور نہیں اور نہ دشمنی رکھنے والے شخص کی اپنے بھائی کے خلاف, اور ولاء (آزادی) کے بارے میں متہم شخص کی گواہی جائز نہیں اور نہ قرابت کے بارے میں متہم شخص کی اور نہ ہی اہل بیت (یعنی خاندان) کے بارے میں ایسے شخص کی گواہی جائز ہے جس کا خرچہ اس کے خاندان کے ذمہ ہو. '' Tirmidhi. Aur Imam Tirmidhi ne kaha: یہ حدیث غریب ہے اور Yazid bin Ziyad Damishqi raavi munkar al-hadees hai. Zaeef, Riwayat al-Tirmidhi.

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا مَجْلُودٍ حَدًّا وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلَا ظَنِينٍ فِي وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غريبٌ ويزيدُ بن زيادٍ الدِّمَشْقِي الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث