4.
Statement of Prayer
٤-
بيان الصلاة
Explanation of the recitation during prayer
بيان قراءة في الصلاة
Mishkat al-Masabih 854
‘Ubada b. as-Samit said:We were behind the Prophet at the dawn prayer, and he recited a passage, but the recitation became difficult for him. Then when he finished he said, “Perhaps you recite behind your imam?” We replied, “Yes, Messenger of God.” He said, “Do it only when it isFatihat al-Kitab, for he who does not include it in his recitation is not credited with having prayed.” Abu Dawud and Tirmidhi transmitted it, and Nasa’i has something to the same effect. In a version by Abu Dawud he said, “I am wondering what is the matter with me that the Qur’an should be at variance with me. So do not recite any of the Qur’an when I recite aloud, exceptUmm al-Qur'an."
Grade: Sahih
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نماز فجر میں نبی ﷺ کے پیچھے تھے ۔ آپ نے قراءت کی تو آپ پر قراءت گراں ہو گئی ، چنانچہ جب آپ ﷺ (نماز سے) فارغ ہو گئے تو فرمایا :’’ شاید کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ فاتحہ کے علاوہ قراءت نہ کیا کرو ، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی بالمعنی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں بھی (اپنے دل میں) کہتا تھا کہ قرآن پڑھنا مجھ پر دشوار کیوں ہے ، جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو تم سورۂ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Ibadat bin Samit بیان کرتے ہیں ، ہم نماز فجر میں نبی کے پیچھے تھے ۔ آپ نے قرات کی تو آپ پر قرات گران ہو گئی ، چنانچہ جب آپ (نماز سے) فارغ ہو گئے تو فرمایا :’’ شاید کہ تم اپنے امام کے پیچھے قرات کرتے ہو ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا :’’ سورہ فاتحہ کے علاوہ قرات نہ کیا کرو ، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔‘‘ ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی بالمعنی ۔ اور ابو داؤد کی روایت میں ہے : آپ نے فرمایا :’’ میں بھی (اپنے دل میں) کہتا تھا کہ قرآن پڑھنا مجھ پر دشوار کیوں ہے ، جب میں بلند آواز سے قرات کروں تو تم سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابو داؤد و الترمذی و النسائی ۔.
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كُنَّا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «لَعَلَّكُمْ تقرؤون خَلْفَ إِمَامِكُمْ؟» قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَلِلنِّسَائِيِّ مَعْنَاهُ وَفِي رِوَايَةٍ لأبي دَاوُد قَالَ: «وَأَنا أَقُول مَالِي يُنَازعنِي الْقُرْآن؟ فَلَا تقرؤوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآن»