4.
Statement of Prayer
٤-
بيان الصلاة
Explanation of the recitation during prayer
بيان قراءة في الصلاة
Mishkat al-Masabih 857
Abu Huraira reported God’s Messenger as saying, “Theimamis appointed only to be followed, so when he says thetakbir, say it also; and when he recites, listen silently.” Abu Dawud, Nasa’i and Ibn Majah transmitted it.
Grade: Sahih
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ امام تو اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، پس جب وہ اللہ اکبر کہہ چکے تو پھر تم اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Abu Hurairah بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ نے فرمایا :’’ Imam تو اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، پس جب وہ اللہ اکبر کہہ چکے تو پھر تم اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ قرات کرے تو تم خاموش رہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ Abu Dawud و Nisai و Ibn Majah ۔.
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه