نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو (مکہ میں) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ذوالحجہ کی چار تاریخ کو صبح کے وقت مکہ مکرمہ میں پہنچے جبکہ وہ حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرے میں بدل لیں، ہاں! جو شخص ہدی (قربانی) ساتھ لایا ہے وہ اپنے حج کو فسخ نہ کرے۔ عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر ؓ سے بیان کرنے میں ابوالعالیہ کی متابعت کی ہے۔
Hazrat Abdullah bin Abbas (Radi Allahu Anhu) se riwayat hai, unhon ne farmaya: Nabi (Sallallahu Alaihi Wasallam) aur Aap ke sahaba-e-karam Zul-Hijjah ki char tareekh ko subah ke waqt Makkah Mukarramah mein pahunche jabke wo hajj ka talbiya keh rahe thay. Nabi (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne unhein hukm diya ke wo ise umre mein badal lein, haan! jo shakhs hadi (qurbani) sath laya hai wo apne hajj ko faskh na kare. Ata bin Abi Rabah ne Hazrat Jabir (Radi Allahu Anhu) se bayan karne mein Abul-Aaliya ki mutabiat ki hai.
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ ، تَابَعَهُ عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ .