6.
Statement of Zakat (Charity)
٦-
بيان الزكاة
To whom giving Sadaqah is not permissible
بيان من لا يجوز أن يتصدق
Mishkat al-Masabih 1825
‘A’isha said that threesunnasconcerned Barira.* One was that she became free and was given her choice regarding her husband. God’s messenger said, "The right of inheritance from an emancipated slave belongs to the one who set him free.”* God’s messenger once came in when the pot was boiling with meat in it, and he was presented with some of the bread and condiments which were in the house. He asked, “Did I not see a pot containing meat?” and was told, “Yes, but that is meat which was given assadaqato Barira and you do not eat thesadaqa.” He replied, “It issadaqafor her and a gift to us.” *** (Bukhari and Muslim.) * A slave-woman whom 'A’isha bought and set free. ** The context shows that these words are said to have been spoken in connection with Barira. *** This is the part of the tradition which makes it relevant in this chapter, as it declares that one who may not lawfully receivesadaqamay accept as a giftsadaqawhich has been received by one who may lawfully receive it.
Grade: Sahih
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، بریرہ ؓ کی وجہ سے تین احکام شریعت کا پتہ چلا ، انہیں آزاد کیا گیا تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا ، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ولاء (حق وراثت) آزاد کرنے والے کو ملے گا ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے تو ہنڈیا میں گوشت ابل رہا تھا ، پس روٹی اور گھر کا سالن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا ؟ اہل خانہ نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور دیکھا ہے ، لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں دیا گیا ہے جبکہ آپ صدقہ تناول نہیں فرماتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس کے لیے صدقہ ہے جبکہ ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Ayesha بیان کرتی ہیں، بریرہ کی وجہ سے تین احکام شریعت کا پتہ چلا، انہیں آزاد کیا گیا تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا، اور رسول اللہ نے فرمایا: ’’ولاء (حق وراثت) آزاد کرنے والے کو ملے گا۔‘‘ اور رسول اللہ گھر تشریف لائے تو ہنڈیا میں گوشت ابل رہا تھا، پس روٹی اور گھر کا سالن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا؟ اہل خانہ نے عرض کیا، کیوں نہیں، ضرور دیکھا ہے، لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں دیا گیا ہے جبکہ آپ صدقہ تناول نہیں فرماتے، آپ نے فرمایا: ’’وہ اس کے لیے صدقہ ہے جبکہ ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‘‘ متفق علیہ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا عُتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» . وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟» قَالُوا: بَلَى وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلنَا هَدِيَّة»