10.
Statement of the Acts of Hajj (Pilgrimage)
١٠-
بيان أعمال الحج


Description of comprehensive supplications

بيان الدعاء الجامع

Mishkat al-Masabih 2527

He said that a man asked God’s messenger to describe a pilgrim, and he replied, “Unkempt and unperfumed." Another got up and asked which part of the pilgrimage was most excellent, and he replied, “Raising the voice in thetalbiyaand shedding the blood of sacrificial victims." Another got up and asked the meaning ofsabil(This refers to the words translated "those who can afford the journey" in Qur’an 3:97, quoted above in ’All’s tradition), and he replied, “Provisions and a riding-beast." It is transmitted inSharh as-sunna, and Ibn Majah transmitted it in hisSunanwithout mentioning the last section.


Grade: Da'if

2527 : ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا : حاجی کی صفت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پراگندہ ، بکھرے ہوئے بال اور میل کچیل ۔‘‘ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا حج افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور قربانی کا خون بہانا ۔‘‘ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا ، راستے سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا لیکن انہوں نے آخری بات (راستے سے کیا مراد ہے ؟) ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔

Ibne Umar بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے رسول اللہ سے مسئلہ دریافت کیا : حاجی کی صفت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ پراگندہ، بکھرے ہوئے بال اور میل کچیل ۔‘‘ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا، اللہ کے رسول! کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور قربانی کا خون بہانا ۔‘‘ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا، راستے سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ زاد راہ اور سواری ۔‘‘ شرح السنہ، اور امام ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا لیکن انہوں نے آخری بات (راستے سے کیا مراد ہے؟) ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البغوی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔.

وَعَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْحَاج؟ فَقَالَ: «الشعث النَّفْل» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: «زَادٌ وَرَاحِلَةٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر الْفَصْل الْأَخير