17.
Statement of Governance and Judiciary
١٧-
بيان الإمارة والقضاء


Description of warning against and punishment for drinking alcohol and being a habitual drinker

بيان وعيد الخمر وشاربها

Mishkat al-Masabih 3682

Abu Dharr told that he asked God’s Messenger to make him a governor, but he struck him on his shoulder with his hand and said, “You are weak, Abu Dharr, and it is a trust which will be a cause of shame and regret on the day of resurrection except for him who undertakes it as it ought to be undertaken and fulfils his duty in it.” In a version he said to him, “I see that you are weak, Abu Dharr, and I wish for you what I wish for myself. Do not accept rule over two people and do not become guardian of an orphan’s property.” Muslim transmitted it.


Grade: Sahih

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ مجھے عامل (گورنر) کیوں نہیں مقرر فرما دیتے ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ ابوذر ! تم کمزور آدمی ہو ، جبکہ وہ ایک امانت ہے ، جس شخص نے اسے اس کے حق کے مطابق نہ لیا اور نہ اس کی ذمہ داریوں کو نبھایا تو وہ روزِ قیامت اس شخص کے لیے باعث رسوائی و ندامت ہو گی ۔‘‘\n ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ ابوذر ! میں تمہیں کمزور سمجھتا ہوں ، میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں ، تم کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کی سرپرستی قبول کرنا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

Abuzar بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ مجھے عامل (گورنر) کیوں نہیں مقرر فرماتے؟ وہ بیان کرتے ہیں، آپ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: "ابوذر! تم کمزور آدمی ہو، جبکہ وہ ایک امانت ہے، جس شخص نے اسے اس کے حق کے مطابق نہ لیا اور نہ اس کی ذمہ داریوں کو نبھایا تو وہ روز قیامت اس شخص کے لیے باعث رسوائی و ندامت ہو گی۔" ایک دوسری روایت میں ہے، آپ نے انہیں فرمایا: "ابوذر! میں تمہیں کمزور سمجھتا ہوں، میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں، تم کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کی سرپرستی قبول کرنا۔" رواہ مسلم۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي؟ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ لَهُ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ