21.
Statement of Clothing
٢١-
بيان اللباس


Description of covering utensils and other items

بيان التحنيط وغيرها من الأشياء

Mishkat al-Masabih 4361

‘A’isha said ; The Prophet wore two coarse striped garments, and when he sat and sweated he felt them heavy. A certain Jew received a consignment of cloth from Syria, so I suggested he should send to him and buy two garments from him to be paid when circumstances were easier. He did so, and when the man replied, “I know what you want; all you want is to go off with my property,” God’s messenger said, “He has lied; he knows I am one of the most pious of them and most accustomed to pay what is given on trust.” Tirmidhi and Nasa’i transmitted it.


Grade: Sahih

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ پر دو یمنی موٹے کپڑے تھے ، جب آپ (دیر تک) بیٹھتے تو آپ کو پسینہ آ جاتا اور وہ کپڑے آپ پر ثقیل ہو جاتے ، فلاں یہودی کا ملک شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا : اگر آپ اس کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر خوشحالی کے وعدے تک اس سے دو کپڑے خرید لیں (تو بہتر ہے) ، آپ ﷺ نے اس کی طرف آدمی بھیجا تو اس نے کہا : مجھے پتہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو ، تم تو میرا مال ہتھیانا چاہتے ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جھوٹا ہے ، حالانکہ اسے پتہ ہے کہ میں ان سب سے زیادہ متقی اور ان سب سے زیادہ بر وقت ادائیگی کرنے والا ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

Ayesha بیان کرتی ہیں نبی پر دو یمنی موٹے کپڑے تھے جب آپ دیر تک بیٹھتے تو آپ کو پسینہ آ جاتا اور وہ کپڑے آپ پر ثقیل ہو جاتے فلاں یہودی کا ملک شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا اگر آپ اس کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر خوشحالی کے وعدے تک اس سے دو کپڑے خرید لیں تو بہتر ہے آپ نے اس کی طرف آدمی بھیجا تو اس نے کہا مجھے پتہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو تم تو میرا مال ہتھیانا چاہتے ہو رسول اللہ نے فرمایا وہ جھوٹا ہے حالانکہ اسے پتہ ہے کہ میں ان سب سے زیادہ متقی اور ان سب سے زیادہ بر وقت ادائیگی کرنے والا ہوں اسنادہ صحیح رواہ الترمذی و النسائی

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ وَكَانَ إِذا قعد فرق ثَقُلَا عَلَيْهِ فَقَدِمَ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ. فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا تُرِيدُ إِنَّمَا تُرِيدُ أَنْ تَذْهَبَ بِمَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ وآداهُم للأمانة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ