28.
Statement of Virtues and Qualities
٢٨-
بيان الفضائل والخصائص


Description of the virtues and merits of the Seal of the Prophets, Muhammad (SAW)

بيان أسماء نبي الله ﷺ وصفاته

Mishkat al-Masabih 5752

Ata' bin Yasar (may Allah be pleased with him) reported: I met Abdullah bin Amr bin Al-'As (may Allah be pleased with him) and said: Tell me about the description of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) which is mentioned in the Torah. He said: Yes, by Allah! Some of his qualities mentioned in the Qur'an are also found in the Torah, such as: "O Prophet! We have sent you as a bearer of good tidings, a warner, and a guardian of the illiterates. You are My servant and My Messenger. I have named you 'Al-Mutawakkil' (the one who relies on Allah). You are not harsh, nor hard-hearted, nor one who shouts in the marketplaces. You do not respond to evil with evil, but rather you pardon and forgive. Allah will not take your soul until He straightens the crookedness of this nation through you, until they say: 'There is no deity worthy of worship but Allah.' And through you, He will open blind eyes, deaf ears, and closed hearts." (Sahih al-Bukhari)


Grade: Sahih

عطا بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ملاقات کی ، میں نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ کی اس صفت کے متعلق بتائیں جو تورات میں مذکور ہے ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اللہ کی قسم ! آپ کی جو صفات قرآن کریم میں ہیں ، ان میں سے بعض تورات میں مذکور ہیں ، جیسا کہ :’’ اے نبی ! ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا ، ڈرانے والا اور اَن پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ، آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں ، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے ، آپ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ہیں ، آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں ، بلکہ آپ درگزر کرتے ہیں ، معاف کرتے ہیں ، اور اللہ ان کی روح قبض نہیں کرے گا حتی کہ وہ ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا کرا لے ، اور وہ ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار کر لیں اور وہ اس (کلمے) کے ذریعے اندھی آنکھوں کو قوت بینائی ، بہرے کانوں کو قوت سماعت اور غلاف میں بند دلوں کو کھول دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Ata bin Yasar بیان کرتے ہیں، میں نے Abdullah bin Amro bin Aas سے ملاقات کی، میں نے کہا: مجھے Rasul Allah کی اس صفت کے متعلق بتائیں جو تورات میں مذکور ہے، انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! آپ کی جو صفات قرآن کریم میں ہیں، ان میں سے بعض تورات میں مذکور ہیں، جیسا کہ: ''اے نبی! ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا، ڈرانے والا اور ان پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے، آپ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ہیں، آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں، بلکہ آپ درگزر کرتے ہیں، معاف کرتے ہیں، اور اللہ ان کی روح قبض نہیں کرے گا حتی کہ وہ ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا کرا لے، اور وہ ''لا الہ الا اللہ'' کا اقرار کر لیں اور وہ اس (کلمے) کے ذریعے اندھی آنکھوں کو قوت بینائی، بہرے کانوں کو قوت سماعت اور غلاف میں بند دلوں کو کھول دے گا۔'' رواہ البخاری۔

وَعَنْ\عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لموصوف بِبَعْض صفتِه فِي القرآنِ: (يَا أيُّها النبيُّ إِنَّا أرسلناكَ شَاهدا ومُبشِّراً وَنَذِيرا)\وحِرْزا للاُمِّيّينَ أَنْت بعدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\