29.
Kitab al-Manaqib
٢٩-
كتاب المناقب
Description of the virtues of the household of the Messenger of Allah (SAW)
بيان مناقب أهل بيت رسول الله ﷺ
Mishkat al-Masabih 6140
Zaid bin Arqam (may Allah be pleased with him) narrated: One day, at a place called Khum, between Makkah and Madinah, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) delivered a sermon to us. He (peace and blessings of Allah be upon him) praised and glorified Allah, gave us advice and admonition, then said, "Now then, O people, listen! I am also a human being. The time is near when my Lord's messenger will come and I will respond to his call. I am leaving behind two weighty things amongst you. The first of them is the Book of Allah. It contains guidance and light. So hold fast to the Book of Allah and adhere to it." He (peace and blessings of Allah be upon him) urged and encouraged (us) to act upon the Book of Allah. Then he (peace and blessings of Allah be upon him) said, "(The second is) My Ahlul Bayt (household). I remind you of Allah concerning my Ahlul Bayt. I remind you of Allah concerning my Ahlul Bayt.” In another narration it is stated: "The Book of Allah is the Rope of Allah. Whoever holds fast to it will be guided and whoever abandons it will go astray." (Sahih Muslim)
Grade: Sahih
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز مکہ اور مدینہ کے درمیان پانی کی جگہ پر خم نامی مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، وعظ و نصیحت کی پھر فرمایا :’’ امابعد ! لوگو ! سنو ! میں بھی انسان ہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی بات قبول کر لوں ، میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ان دونوں میں سے پہلی چیز اللہ کی کتاب ہے ، اس میں ہدایت اور نور ہے ، تم اللہ کی کتاب کو پکڑو اور اس سے تمسک اختیار کرو ۔‘‘ آپ نے اللہ کی کتاب (پر عمل کرنے) پر ابھارا اور اس کے متعلق ترغیب دلائی ، پھر فرمایا :’’ (دوسری چیز) میرے اہل بیت ، میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں ، اپنے اہل بیت کے متعلق میں تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں ۔‘‘\nایک دوسری روایت میں ہے :’’ اللہ کی کتاب ، وہ اللہ کی رسی ہے ، جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر ہے ، اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n
Zaid bin Arqam بیان کرتے ہیں ، ایک روز مکہ اور مدینہ کے درمیان پانی کی جگہ پر خم نامی مقام پر رسول اللہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، وعظ و نصیحت کی پھر فرمایا :’’ امابعد ! لوگو ! سنو ! میں بھی انسان ہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی بات قبول کر لوں ، میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ان دونوں میں سے پہلی چیز اللہ کی کتاب ہے ، اس میں ہدایت اور نور ہے ، تم اللہ کی کتاب کو پکڑو اور اس سے تمسک اختیار کرو ۔‘‘ آپ نے اللہ کی کتاب (پر عمل کرنے) پر ابھارا اور اس کے متعلق ترغیب دلائی ، پھر فرمایا :’’ (دوسری چیز) میرے اہل بیت ، میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں ، اپنے اہل بیت کے متعلق میں تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اللہ کی کتاب ، وہ اللہ کی رسی ہے ، جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر ہے ، اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى: خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ: أمَّا بعدُ أَلا أيُّها النَّاس فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» وَفِي رِوَايَة: «كتاب الله عز وَجل هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ» . رَوَاهُ مُسلم