44.
Book of Military Campaigns
٤٤-
كِتَابُ الْمَغَازِي


The Battle of Hudaybiyyah

‌غَزْوَةُ الْحُدَيْبِيَةِ

Musannaf Ibn Abi Shaybah 36855

Narrated by Hazrat Urwah bin Zubair: On the day of Hudaybiyyah, the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) set out with a group of 1,800 people. He sent a man from the Banu Khuza'ah tribe ahead, named Najiyah, to gather information about the people. The Prophet (peace be upon him) reached a well called Ghadeer Ashtat in Asfan, where his spy met him. The spy informed the Prophet (peace be upon him) that the Quraysh, including the tribes of Ka’b bin Lu’ayy and ‘Amir bin Lu’ayy, had mobilized a mixed group of people who were preparing to fight. Khalid bin Waleed was sent ahead with a group of cavalry. 2. The Prophet (peace be upon him) stood up and asked the companions, "What do you say? What is your command? Twice, you have received reports about the Quraysh and their preparations, and now Khalid bin Waleed is stationed in Ghamim." The Prophet (peace be upon him) asked whether they should continue their journey and fight anyone who tried to stop them from reaching the Ka’bah, or turn towards the rear of the Quraysh and defeat any group that followed them. The companions responded, "O Messenger of Allah (peace be upon him)! The command is yours, and so is the opinion." They moved to the right and left of a hill without Khalid’s army noticing, and they successfully bypassed them. 3. The Prophet's (peace be upon him) camel, named Qaswa, suddenly sat down in a low-lying area called Baldah. The Prophet (peace be upon him) tried to move it by saying, "Hāl Hāl," but the camel did not rise. The people said, "Qaswa has become stubborn!" The Prophet (peace be upon him) replied, "By Allah, Qaswa is not stubborn, nor is it her nature to be so. But she has been stopped by the One who stopped the elephants." The Prophet (peace be upon him) added that if they were invited to a place of honor or kinship, he would respond positively. The camel rose, and they continued until they stopped at Hudaybiyyah, where the water supply was scarce. People complained to the Prophet (peace be upon him), and he instructed a man to place an arrow from his quiver into the well. Water gushed out, and everyone drank to their fill. 4. While the Prophet (peace be upon him) was there, Budayl bin Warqa from the Khuza’ah tribe passed by with a group and said, "O Muhammad (peace be upon him)! Your people have left with their women and children and have sworn by Allah that they will not let you enter Makkah." The Prophet (peace be upon him) replied, "I have not come to fight anyone. I only came to perform my acts of worship and circumambulate the Ka’bah. If the Quraysh want peace and to establish a period of security, I will agree, allowing them to be safe for a time. If I succeed, they will have the option to join the religion or fight, and by then, they will have prepared well." Budayl offered to convey the message to the Quraysh. 5. Budayl left and relayed the message to the Quraysh. The foolish among them said, "Do not listen to what he has to say." But Budayl told them what the Prophet (peace be upon him) had offered. Among the Quraysh was Urwah bin Mas'ud al-Thaqafi, who stood up and said, "O Quraysh! Am I not one of your own? Have I not defended you at the fair of 'Ukaz? You should listen to what Muhammad (peace be upon him) offers." They agreed, and Urwah went to the Prophet (peace be upon him). 6. Urwah met the Prophet (peace be upon him) and relayed the message that the Quraysh had sworn not to let him pass. The Prophet (peace be upon him) repeated that he had not come for war. Urwah saw the strong loyalty of the Prophet’s (peace be upon him) companions and realized their devotion, noting that no king had subjects as loyal as the Prophet (peace be upon him) did. 7. The Quraysh sent Suhayl bin Amr to write the terms of a treaty. Suhayl demanded that the treaty be written in the traditional way of the Quraysh, without using the title "Messenger of Allah." Despite protests from the companions, the Prophet (peace be upon him) agreed and instructed them to write "Muhammad, son of Abdullah" instead. 8. During the writing of the treaty, Abu Jandal, Suhayl’s son, appeared in chains, having escaped from Makkah. Suhayl insisted on taking him back as part of the treaty's conditions. Though the companions were outraged, the Prophet (peace be upon him) upheld the treaty, returning Abu Jandal to the Quraysh. 9. Eventually, those who had accepted Islam but were returned to the Quraysh formed a group along the coast, intercepting Quraysh trade caravans. This pressure led the Quraysh to request the Prophet (peace be upon him) to take them under his protection, thus resolving the conflict. 10. The treaty allowed the Muslims to return the following year for the pilgrimage, marking a turning point in the relations between the Muslims and the Quraysh.

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے دن اٹھارہ سو کی تعداد کو لے کر نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آگے بنو خزاعہ کے ایک شخص ۔۔۔ جس کا نام ناجیہ تھا۔۔۔ کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کی خبر لائے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام عسفان کے کنویں پر پہنچے جس کا نام غدیر اشطاط تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا جاسوس غدیر اشطاط پر ملا اور اس نے کہا : اے محمد ! میں نے تیری قوم ۔۔۔ کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی ۔۔۔ کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انھوں نے آپ کے لیے متفرق لوگوں کو اور جو کوئی ان کی مانتا ہے ان کو نفیر عام کیا ہے۔ انھوں نے تیرے چلنے کی خبر سن لی ہے۔ اور میں نے ان کے غلاموں کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انھیں گھروں میں خزیر (خاص کھانا) کھلایا جاتا ہے۔ اور خالد بن ولید کو تو انھوں نے یہ سامنے گھڑ سواروں کی جماعت کے ہمراہ بھیجا ہے۔ ٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صحابہ سے) پوچھا۔ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہارا کیا حکم ہے ؟ مجھے بتاؤ۔ قریش اور ان کی تیاریوں کی خبر تمہیں دو مرتبہ پہنچ چکی ہے۔ اور یہ مقام غمیم میں خالد بن ولید بھی پہنچ چکا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا۔ کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم اپنے رُخ پر چلتے رہیں اور جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے ہم اس سے لڑائی کریں۔ یا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم ان کے برخلاف ان کے پچھلوں کی طرف بڑھیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی جماعت پیچھے آئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حُکم، آپ کا حکم ہے۔ اور رائے بھی آپ کی رائے ہے۔ پھر یہ لوگ اس ٹیلے کے دائیں بائیں چل دیئے۔ اس بات کا خالد اور اس کے ہمراہ لشکر کو پتہ نہیں چلا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ لشکر کے غبار کو کر اس کر گئے۔ ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بلند ٹیلے سے ایک پست زمین کی طرف لے گئی۔ جس کا نام بلدح تھا۔ اور (وہاں جا کر) بیٹھ گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حَلْ حَلْ ۔ لیکن وہ اونٹنی نہیں اٹھی۔ لوگوں نے کہا۔ قصوائ (اونٹنی کا نام ہے) اڑ گئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا یہ اونٹنی نہیں اَڑی اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے لیکن اس کو ہاتھیوں کو روکنے والے نے روک دیا ہے۔ سنو ! بخدا اگر آج کے دن وہ مجھے کسی مقام کی طرف ۔۔۔جس کا وہ بہت احترام کرتے ہیں ۔۔۔ بلائیں گے یا مجھے وہ کسی صلہ رحمی کی طرف بلائیں گے تو میں انھیں مثبت جواب دوں گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹنی کو دوڑایا تو وہ اچھل پڑی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قدم کے نشانات پر وہیں واپس ہوگئے جہاں سے تشریف لائے تھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو لے کر حدیبیہ کے ایک مقام پر فروکش ہوئے جہاں پر پانی اتنا قلیل تھا کہ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لے رہے تھے۔ تو (اس پر) لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کی قلت کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے اس تیر کو کنویں کے درمیان میں گاڑ دیا۔ پس پانی نے اتنا جوش مارا کہ لوگ اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ ٤۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی، اپنی قوم خزاعہ کے ایک گروہ کے ہمراہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تیری قوم کے لوگ عورتوں اور بچوں سمیت نکل چکے ہیں اور وہ خدا کے نام پر اس بات کی قسم کھا رہے ہیں کہ ضرور بالضرور تیرے اور مکہ کے درمیان حائل ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ بچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے بدیل ! میں تو کسی کے ساتھ بھی لڑنے نہیں آیا۔ میں تو صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ اپنے افعال عبادت ادا کرسکوں اور اس خانہ خدا کا طواف کروں۔ اور اگر یہ کام نہ ہو تو پھر کیا قریش کا کوئی اور ارادہ ہے ؟ کیا وہ اس بات پر راضی ہیں کہ میں ان کے ساتھ ایک مدت طے کرلوں جس میں وہ مامون رہیں گے اور اتنی مدت تک وہ اکٹھے بھی ہوجائیں۔ اور اس دوران وہ مجھے اور لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں۔ اگر میرا معاملہ لوگوں پر غالب آگیا تو انھیں اس بات کا اختیار ہوگا ۔ چاہے تو لوگوں کی طرح یہ بھی دین میں داخل ہوجائیں اور چاہے تو یہ لڑائی کرلیں درآنحالیکہ انھوں نے اپنی تعداد بڑھا کر خوب تیاری کرلی ہوگی۔ بدیل نے کہا۔ میں یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم کو پیش کروں گا۔ ٥۔ پس بدیل سوار ہو کر (چل پڑا) یہاں تک کہ وہ قریش کے پاس سے گزرا تو قریش نے اس سے پوچھا۔ تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ بدیل نے کہا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آ رہا ہوں۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس بات کی خبر دیتا ہوں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنی اور کہی ہے۔ قریش مں ت سے بیوقوف قسم کے لوگوں نے کہا۔ تم ہمیں اس کی بات نہ بتاؤ جو تم دیکھ کر اور سن کر آئے ہو۔ بدیل نے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدت کی پیش کش کی تھی وہ بیان کی۔ راوی کہتے ہیں : اس دن قریش (کے اس گروہ) میں عروہ بن مسعود ثقفی بھی موجود تھا۔ وہ اچھل پڑا اور اس نے کہا۔ اے گروہ قریش ! کیا تم مجھ پر کسی شئی کی تہمت لگاتے ہو۔ کیا میں (تمہارا) بچہ نہیں ہوں ؟ اور کیا تم (میرے) والد نہیں ہو ؟ کیا میں نے تمہارے لیے اہل عکاظ سے مدد طلب نہیں کی اور جب انھوں نے مجھے منع کردیا تو مں ش خود اور اپنے بچوں اور ما تحتوں کو لے کر تمہارے پاس نہیں آگیا۔ انھوں نے جواباً کہا : کیوں نہیں ! تو نے ایسا ہی کیا ہے۔ عروہ نے کہا : پھر تم بدیل کی اس بات کو قبول کرلو جو وہ تمہارے پاس لے کر آیا ہے اور جو تمہارے اوپر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش کی ہے۔ اور تم مجھے بھیجو تاکہ میں تمہارے پاس اس خیر کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توفیق لے کر آؤں۔ قریش نے (اس سے) کہا۔ چل جا۔ ٦۔ عروہ وہاں سے نکلا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مقام حدیبیہ مں اُترا اور اس نے کہا ۔ اے محمد ! یہ تیری قوم۔۔۔ کعب بن لوی اور عامر بن لوی۔۔۔ کے لوگ ہیں جو عورتوں اور بچوں سمیت باہر نکلے ہیں۔ انھوں نے قسم اٹھائی ہے کہ یہ لوگ تجھے مکہ کی طرف راستہ نہیں دیں گے حتی کہ ان کے نوجوان ہلاک ہوجائیں ۔ اور اب آپ کو اپنی قوم سے لڑائی کی دو صورتیں ہیں۔ (ایک تو یہ ہے کہ) تو اپنی قوم کو (لڑائی کر کے) نیست و نابود کر دے اور تو نے کسی آدمی کے بارے میں نہیں سنا ہوگا کہ اس نے تجھ سے پہلے اپنی قوم کو تباہ و برباد کیا ہو۔ اور (دوسری صورت یہ ہے کہ) جن کو میں آپ کے ہمراہ دیکھ رہا ہوں یہ آپ کو حوالہ کردیں ۔ مجھے تو تمہارے ہمراہ اجنبی قسم کے متفرق لوگ نظر آ رہے ہیں۔ مجھے تو ان کے ناموں اور شکلوں سے بھی معرفت نہیں ہے۔ ٧۔ حضرت ابوبکر ۔۔۔ کو غصہ آگیا اور ۔۔۔ارشاد فرمایا : تم لات کی فرج چوسو۔ کیا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسوا کریں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوالہ کریں گے ؟ عروہ نے کہا : بخدا ! اگر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا میں نے بدلہ نہیں دیا۔ تو میں تمہیں تمہاری بات کا ضرور جواب دیتا۔ ٨۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور ان کے چہرے پر خود تھی۔ (جس کی وجہ سے) عروہ نے ان کو نہ پہچانا۔ اور عروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باتیں کررہا تھا۔ اور جب بھی عروہ اپنا ہاتھ پھیلاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کو چھوتا۔ حضرت مغیرہ کے ہاتھ میں جو نیزہ تھا آپ نے اس کے ساتھ عروہ کو خبردار کیا۔ جب مغیرہ نے عروہ کو پریشان کیا تو اس نے پوچھا۔ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا ۔ کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ عروہ نے کہا۔ اے عہد شکن ! تم یہاں ہو۔ تم نے کل مقام عکاظ میں اپنی عہد شکنی کو خود سے کیوں نہ دھو ڈالا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عروہ بن مسعود کو وہی بات کہی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل سے کہی تھی۔ ٩۔ عروہ وہاں سے کھڑا ہوا اور چل دیا یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں آیا اور اس نے کہا۔ اے گروہ قریش ! میں شاہوں کے دربار میں بھی گیا ہوں۔ میں قیصر کے پاس اس کے ملک شام میں گیا ہوں اور نجاشی کے پاس ارض حبشہ میں گیا ہوں اور عراق میں کسریٰ کے پاس بھی گیا ہوں۔ (لیکن) بخدا میں کسی بادشاہ کو اپنے لوگوں میں اس قدر عظمت والا نہیں دیکھا جس قدر میں محمد کو اس کے صحابہ میں باعظمت دیکھا ہے۔ بخدا وہ محمد کی طرف نظر گاڑھ کر نہیں دیکھتے اور اس کے پاس آواز اونچی نہیں کرتے۔ اور محمد جس پانی سے وضو کرتا ہے تو اس کے ساتھی اس دھو ون پر جمع ہوجاتے ہیں کہ کس کو اس میں سے کتنا حصہ ملتا ہے ؟ پس بدیل جو خبر تمہارے پاس لایا ہے اس کو قبول کرلو کیونکہ یہ سمجھ داری والا معاملہ ہے۔ ١٠۔ قریش نے کہا : تم بیٹھ جاؤ۔ اور قریش نے بنی حارث بن عبد مناف کے ایک آدمی کو بلایا جس کا نام ” حُلَیس “ تھا اور (اس کو) کہا۔ تم جاؤ اور جو تمہیں اس آدمی (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف سے نظر آئے اور معلوم ہو اس کو دیکھو۔ ١١۔ حُلیس وہاں سے نکلا۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہچان لیا اور ارشاد فرمایا : یہ ” حُلیس ہے۔ اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہدی کی تعظیم کرتے ہیں۔ پس تم اس کے رُخ پر ہدی کو چلا دو ۔ “ صحابہ نے اس کے رُخ پر ہدی کو چلا دیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ حُلیس کے بارے میں احادیث (میں بیان) مختلف نقل ہوا ہے۔ بعض راویوں نے بیان کیا ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو وہی بات ارشاد فرمائی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل اور عروہ سے کہی تھی۔ اور بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ جب اس نے ہدی (کے جانور کو) دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس چل دیا اور اس نے (قریش سے) کہا۔ یقیناً میں ایسی بات دیکھی ہے کہ اگر تم ان کو روکو گے تو مجھے خوف ہے کہ تم غلطی کا ارتکاب کرو گے۔ پس (اب) تم اپنا معاملہ خود ہی دیکھ لو۔ ١٢۔ قریش نے (اس سے بھی) کہا۔ تم بیٹھ جاؤ اور قریش کے ایک آدمی کو بلایا۔ جس کا نام ” مکرز بن حفص بن الاخیف “ تھا۔ یہ شخص بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس کو بھیجا۔ پس جب اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ ایک فاجر آدمی ہے جو آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی مدت کے بارے میں ویسی بات کہی جیسی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل اور اس کے دیگر ساتھیوں سے کہی تیے۔ مکرز وہاں سے مشرکین کے پاس واپس آیا اور اس نے (آ کر) انھیں خبر دی۔ ١٣۔ اس پر قریش نے بنو عامر بن لؤی کے سہیل بن عمرو کو بھیجا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ بات تحریر کروائے جس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دے رہے ہیں۔ سہیل بن عمرو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا۔ مجھے قریش نے آپ کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے ایسا فیصلہ تحریر کرواؤں جس پر میں اور آپ راضی ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں (ٹھیک ہے) ، لکھو، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ راوی کہتے ہیں : سہیل بن عمرو کہنے لگا۔ میں تو اللہ کو نہیں جانتا اور نہ ہی مجھے رحمن کی معرفت ہے۔ لیکن میں تو ایسے ہی لکھوں گا جیسا کہ ہم لکھتے ہیں۔ یعنی۔ باسمک اللّٰہم۔ لوگوں کو اس بات پر غصہ آگیا اور کہنے لگے۔ ہم تمہارے ساتھ کسی بھی طرح کی مکاتبت نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو رحمٰن و رحیم کا اقرا ر کرے۔ سہیل نے کہا : پھر تو میں تمہارے ساتھ کسی طرح کی مکاتبت نہیں کروں گا اور لوٹ جاؤں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لکھو۔ باسمک اللّٰھم۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر ” محمد رسول اللہ “ نے باہم صلح کی ہے۔ سہیل نے کہا۔ میں اس بات کا اقرار نہیں کرتا۔ اگر میں آپ کو اللہ کا رسول جانتا ہوتا تو میں آپ کی مخالفت نہ کرتا اور نہ ہی آپ کی نافرمانی کرتا۔ لیکن میں تو ” محمد بن عبداللہ “ لکھوں گا۔ اس بات پر بھی لوگوں کو غصہ آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لکھو۔ (محمد بن عبداللہ ، سہیل بن عمرو) ١٤۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوگئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کیوں نہیں (ایسا ہی ہے) ۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین میں یہ گھٹیا پن گوارا کر رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں خدا کا رسول ہوں۔ اور میں ہرگز اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اور وہ ہرگز مجھے ضائع نہیں ہونے دے گا۔ حضرت ابوبکر ایک کونے میں گوشہ نشین تھے۔ کہ حضرت عمر ان کے پاس پہنچے اور کہا۔ اے ابوبکر ! انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! حضرت عمر نے کہا : کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں (ایسا ہی ہے) حضرت عمر نے کہا۔ تو پھر کس وجہ سے ہم اپنے دین میں یہ گھٹیا پن گوارا کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : اے عمر ! اپنا یہ خیال چھوڑ دو ۔ اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اللہ پاک، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی ہرگز نافرمانی نہیں کریں گے۔ ١٥۔ اور اس خط کی شرائط میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ہم میں سے جو تمہارے پاس آ جائے۔۔۔ اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو ۔۔۔ تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ اور تمہارے پاس سے جو ہمارے ہاں آئے گا ہم اس کو تمہاری طرف واپس ۔۔۔ نہیں کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص میری جانب سے (تمہاری طرف) آئے گا مجھے اس کی واپسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جو تو نے اپنے لیے شرائط ٹھہرائی ہے یہ میرے اور تیرے درمیان (عہد) ہے۔ ١٦۔ لوگ ابھی اسی حالت میں تھے کہ اچانک مسلمانوں کو ابو جندل بن سہیل بن عمرو بیڑیوں میں گھسٹتا ہوا دکھائی دیا۔ پس سہیل نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ناگہاں اس کا اپنا بیٹا ابو جندل تھا۔ سہیل نے کہا : یہ پہلا شخص ہے جس کی واپسی پر میں نے تیرے ساتھ صلح کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے سہیل ! ہم تو ابھی تحریر سے فارغ ہی نہیں ہوئے ۔ سہیل نے کہا۔ جب تک آپ اس کو واپس نہیں کرتے ہیں آپ سے خط و کتابت ہی نہیں کرتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا معاملہ تیرے حوالہ ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو جندل ، مسلمانوں کی طرف تیز چل کر آیا اور اس نے کہا۔ اے جماعتِ مسلمین ! مجھے مشرکین کی طرف واپس کیا جا رہا ہے جبکہ وہ مجھے میرے دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا کریں گے ؟ حضرت عمر اس کے ساتھ چپک گئے اور اس کے والد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو کھینچ لیا۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ ایک ہی تو بندہ ہے اور تمہارے پاس تلوار بھی ہے۔ لیکن ان کا والد انھیں ساتھ لے گیا۔ ١٧۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو مشرکین کی طرف واپس بھیجتے تھے جو مشرکین کی طرف سے دین اسلام قبول کر کے آتے تھے۔ پس جب یہ واپس ہونے والے افراد ایک جماعت کی شکل اختیار کر گئے اور انہی میں ابو البصیر بھی تھے۔۔۔ درآنحالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو واپس بھیجتے رہے تھے۔ تو یہ لوگ سمندر کے ساحل پر ٹھہر گئے اور انھوں نے قریش کے شام کی طرف جانے والے قافلوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ اس پر قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف (آدمی) بھیجا کہ ہمیں تم سے صلہ رحمی کی امید ہے۔ آپ ان (مفرور) لوگوں کو اپنے پاس واپس بلا لیں اور اپنے پاس اکٹھا کرلیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی طرف واپس بلا لیا۔ ١٨۔ اور تحریر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے جو ارادہ ظاہر کیا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ قریش کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوں اور اپنے مناسک کو ادا کریں اور ان کے ہاں اپنے ہدی کے جانور نحر کریں۔ قریش نے کہا۔ نہیں ! عرب کے لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے کہیں یہ طعنہ نہ دیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ چستی کا مظاہرہ کر دکھایا ہے۔ لیکن آپ اس سال واپس جائیں اور جب آئندہ سال ہوگا تو ہم آپ کو اجازت دیں گے آپ عمرہ بھی ادا فرمائیں اور تین دن قیام بھی فرمائیں۔ ١٩۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) کھڑے ہوئے اور لوگوں سے ارشاد فرمایا : ” اٹھو اور اپنے ہدی کے جانور نحر کردو۔ اور حلق کروا لو اور حلال ہو جاؤ۔ “ (یہ بات سن کر) کوئی آدمی کھڑا ہوا اور نہ ہی کسی نے کوئی حرکت کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس بات کا تین مرتبہ حکم ارشاد فرمایا :َ لیکن کوئی آدمی بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور نہ ہی کسی نے کوئی حرکت کی۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لے گئے ۔۔۔ حضرت ام سلمہ اس سفر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تشریف لائی تھیں۔ اور فرمایا : ” اے ام سلمہ ! لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میں نے ان کو تین مرتبہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ نحر کرلیں اور حلق کروا لیں اور حلال ہوجائیں۔ لیکن کوئی آدمی بھی میرے حکم کو پورا کرنے کے لیے نہیں اٹھا ؟ “ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ باہر تشریف لے جائیں اور یہ کام (پہلے خود) کریں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہدی کے جانور کی طرف قصد کیا اور اس کو نحر فرمایا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق کرنے والے کو بلایا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کے سر مبارک) کو حلق کیا۔ پس جب لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل کو دیکھا تو اپنی اپنی ہدی کی طرف لپک پڑے اور اس کو نحر کردیا۔ اور بعض ، بعض کے اوپر جھک گئے اور حلق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ بعض ، بعض کو بھیڑ کی وجہ سے نیچے دے دیتے۔ ٢٠۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ ہدی کے وہ جانور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے ساتھ لیے تھے ۔ وہ ستر تھے۔ ٢١۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ہر ایک سو افراد کے لیے ایک حصہ تھا۔

Hazrat Urwa bin Zubair se riwayat hai ki Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) Hudaibiya ke din atthara sau ki tadad ko lekar nikle aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne apne aage Banu Khuza'a ke ek shakhs... jiska naam Najeh tha... ko bheja taake woh logon ki khabar laaye. Yahan tak ki Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) maqam Asfan ke kuen par pahunche jiska naam Ghadir Ashtat tha. To aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko apna jasoos Ghadir Ashtat par mila aur usne kaha: Aye Muhammad! Main ne teri qaum... Qab bin Loay aur Aamir bin Loay... ko is haal mein chhoda hai ki unhon ne aap ke liye mutfaraq logon ko aur jo koi unki manta hai unko nafir-e-aam kiya hai. Unhon ne tere chalne ki khabar sun li hai. Aur maine unke ghulamon ko is haal mein chhoda hai ki unhen gharon mein khazira (khaas khana) khilaya jata hai. Aur Khalid bin Waleed ko to unhon ne yeh samne ghodsawaron ki jamaat ke hamrah bheja hai. 2. Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) khde hue aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne (sahaba se) poocha. Tum kya kahte ho? Tumhara kya hukm hai? Mujhe batao. Quresh aur unki taiyariyon ki khabar tumhen do martaba pahunch chuki hai. Aur yeh maqam Ghamin mein Khalid bin Waleed bhi pahunch chuka hai. Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne sahaba se poocha. Kya tumhari raay yeh hai ki hum apne rukh par chalte rahen aur jo koi hamen Baitullah se roke hum usse ladai karen? Ya tumhari raay yeh hai ki hum unke barkhilaf unke peechlon ki taraf badhen? Phir agar unmen se koi jamaat peeche aaegi to Allah Ta'ala usko tod dega. Sahaba ne arz kiya. Ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam)! Hukm, aap ka hukm hai. Aur raay bhi aap ki raay hai. Phir yeh log is teile ke daayen baayen chal diye. Is baat ka Khalid aur uske hamrah lashkar ko pata nahin chala. Yahan tak ki yeh log lashkar ke ghubar ko kar is kar gaye. 3. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki untni aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko ek buland teile se ek past zameen ki taraf le gayi. Jiska naam Baldaha tha. Aur (wahan ja kar) baith gayi. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya: "Hul, hul." Lekin woh untni nahin uthi. Logon ne kaha. "Quswa (untni ka naam hai) ad gayi hai." Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya: "Bakhuda yeh untni nahin adi aur na hi adna uski aadat hai lekin isko hathiyon ko rokne wale ne rok diya hai. Suno! Bakhuda agar aaj ke din woh mujhe kisi maqam ki taraf... jiska woh bahut ehteraam karte hain... bulayenge ya mujhe woh kisi sil-e-rahmi ki taraf bulayenge to main unhen musbat jawab dunga." Phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne untni ko daudaya to woh uchhal padi pas aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) apne qadam ke nishanat par wahin wapas ho gaye jahan se tashrif laaye the. Yahan tak ki aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) logon ko lekar Hudaibiya ke ek maqam par furokash hue jahan par pani itna qaleel tha ki log thoda thoda pani le rahe the. To (is par) logon ne Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) se pani ki qillat ki shikayat ki. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne apne tarkash mein se ek teer nikala aur ek aadmi ko hukm diya aur usne is teer ko kuen ke darmiyaan mein gaad diya. Pas pani ne itna josh mara ki log is pani se khoob sairab ho gaye. 4. Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) abhi isi halat mein the ki Budail bin Warqa'a Khuza'i, apni qaum Khuza'a ke ek giroh ke hamrah aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke paas se guzara aur usne kaha. "Aye Muhammad (Sallallahu Alaihi Wasallam)! Yeh teri qaum ke log auraton aur bachchon samet nikal chuke hain aur woh Khuda ke naam par is baat ki qasam kha rahe hain ki zaroor ba-zaroor tere aur Makkah ke darmiyaan hail honge yahan tak ki inmen se koi ek bhi na bache." Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Aye Budail! Main to kisi ke saath bhi ladne nahin aaya. Main to sirf isliye aaya hun taake apne a'maal-e-ibadat ada kar sakun aur is khaana-e-Khuda ka tawaf karun. Aur agar yeh kaam na ho to phir kya Quresh ka koi aur irada hai? Kya woh is baat par razi hain ki main unke saath ek muddat tay karlun jis mein woh mamun rahenge aur itni muddat tak woh ikathe bhi ho jayen? Aur is dauran woh mujhe aur logon ko khula chhod den? Agar mera mu'amala logon par ghalib aa gaya to unhen is baat ka ikhtiyar hoga, chaahe to logon ki tarah yeh bhi deen mein dakhil ho jayen aur chaahe to yeh ladai karlen dar-an-haalik-eh unhon ne apni tadad badha kar khoob taiyari kar li hogi." Budail ne kaha. "Main yeh baat aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki qaum ko pesh karunga." 5. Pas Budail sawar ho kar (chal pada) yahan tak ki woh Quresh ke paas se guzara to Quresh ne usse poocha. "Tum kahan se aa rahe ho?" Budail ne kaha. "Main Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke paas se aa raha hun. Aur agar tum chaho to main tumhen is baat ki khabar deta hun jo maine aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se suni aur kahi." Quresh mein se bewakoof qism ke logon ne kaha. "Tum hamen iski baat na batao jo tum dekh kar aur sun kar aaye ho." Budail ne unhen Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke saath pesh aane wala waqea bayan kiya aur jo aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne muddat ki peshkash ki thi woh bayan ki. Rawi kahte hain: "Is din Quresh (ke is giroh) mein Urwa bin Masood Saqafi bhi maujood tha. Woh uchhal pada aur usne kaha. 'Aye giroh-e-Quresh! Kya tum mujh par kisi shai ki tohmat lagate ho? Kya main (tumhara) bachcha nahin hun? Aur kya tum (mere) walid nahin ho? Kya maine tumhare liye ahl-e-Ukaz se madad talab nahin ki aur jab unhon ne mujhe mana kar diya to main khud aur apne bachchon aur maa-tahaton ko lekar tumhare paas nahin aaya?'" Unhon ne jawaban kaha: "Kyun nahin! Tune aisa hi kiya." Urwa ne kaha: "Phir tum Budail ki is baat ko kabool kar lo jo woh tumhare paas lekar aaya hai aur jo tumhare upar Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne pesh ki hai. Aur tum mujhe bhijo taake main tumhare paas is khair ki aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se taufeeq lekar aau." Quresh ne (usse) kaha. "Chal ja." 6. Urwa wahan se nikla yahan tak ki woh Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke paas maqam Hudaibiya mein utara aur usne kaha. "Aye Muhammad! Yeh teri qaum... Qab bin Loay aur Aamir bin Loay... ke log hain jo auraton aur bachchon samet bahar nikle hain. Unhon ne qasam uthayi hai ki yeh log tujhe Makkah ki taraf rasta nahin denge hatta ki inke naujawan halaak ho jayen. Aur ab aap ko apni qaum se ladai ki do suraten hain. (Ek to yeh hai ki) to apni qaum ko (ladai kar ke) نیست و نابود kar de aur tune kisi aadmi ke baare mein nahin suna hoga ki usne tujh se pehle apni qaum ko tabaah-o-barbaad kiya ho. Aur (doosri surat yeh hai ki) jin ko main aap ke hamrah dekh raha hun yeh aap ko hawala kar den. Mujhe to tumhare hamrah ajnabi qism ke mutfaraq log nazar aa rahe hain. Mujhe to inke naamon aur shaklon se bhi ma'rifat nahin hai." 7. Hazrat Abubakar... ko ghussa aaya aur... irshad farmaya: "Tum Laat ki farj chuso. Kya hum aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko ruswa karenge aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko hawala karenge?" Urwa ne kaha: "Bakhuda! Agar tumhara mujh par ehsaan na hota jiska maine badla nahin diya to main tumhen tumhari baat ka zaroor jawab deta." 8. Hazrat Mugheera bin Shuba, Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke paas khade hue the aur unke chehre par khud thi (jiski wajah se) Urwa ne unko na pehchana. Aur Urwa Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke saath baaten kar raha tha. Aur jab bhi Urwa apna haath phelata to Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki dari Mubarak ko chhuta. Hazrat Mugheera ke haath mein jo neza tha aap ne uske saath Urwa ko khabardar kiya. Jab Mugheera ne Urwa ko pareshan kiya to usne poocha. "Yeh kaun hai?" Logon ne bataya. "Ki yeh Mugheera bin Shuba hain." Urwa ne kaha. "Aye ahd-shikan! Tum yahan ho. Tum ne kal maqam-e-Ukaz mein apni ahd-shikni ko khud se kyun na dho dala?" Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Urwa bin Masood ko wahi baat kahi jo aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Budail se kahi thi. 9. Urwa wahan se khda hua aur chal diya yahan tak ki woh apni qaum mein aaya aur usne kaha. "Aye giroh-e-Quresh! Main shahon ke darbar mein bhi gaya hun. Main Qaisar ke paas uske mulk Shaam mein gaya hun aur Najashi ke paas arz-e-Habsha mein gaya hun aur Iraq mein Kisra ke paas bhi gaya hun. (Lekin) Bakhuda main kisi badshah ko apne logon mein is kadar azmat wala nahin dekha jis kadar main Muhammad ko uske sahaba mein ba-azmat dekha hai. Bakhuda woh Muhammad ki taraf nazar gaadh kar nahin dekhte aur uske paas aawaz unchi nahin karte. Aur Muhammad jis pani se wazu karta hai to uske sathi is dhowan par jama ho jate hain ki kis ko is mein se kitna hissa milta hai? Pas Budail jo khabar tumhare paas laya hai usko kabool kar lo kyunki yeh samajhdari wala mu'amala hai." 10. Quresh ne kaha: "Tum baith jao." Aur Quresh ne Bani Haarith bin Abd-e-Manaf ke ek aadmi ko bulaya jiska naam "Hulais" tha aur (isko) kaha. "Tum jao aur jo tumhen is aadmi (Nabi (Sallallahu Alaihi Wasallam)) ki taraf se nazar aae aur maloom ho usko dekho." 11. Hulais wahan se nikla. Pas jab Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne usko aate hue dekha to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne usko pehchan liya aur irshad farmaya: "Yeh 'Hulais' hai aur yeh un logon mein se hai jo hadi ki ta'zeem karte hain. Pas tum iske rukh par hadi ko chala do." Sahaba ne iske rukh par hadi ko chala diya. Ibn-e-Shihab kahte hain. "Hulais ke baare mein ahadees (mein bayan) mukhtalif naqal hua hai. Baaz rawion ne bayan kiya hai ki woh aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki khidmat mein hazir hua tha aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne usko wahi baat irshad farmayi jo aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Budail aur Urwa se kahi thi. Aur baaz rawi bayan karte hain ki jab usne hadi (ke janwar ko) dekha to woh Quresh ki taraf wapas chal diya aur usne (Quresh se) kaha. 'Yaqinan main aisi baat dekhi hai ki agar tum inko rokoge to mujhe khauf hai ki tum ghalti ka irtikaab karoge. Pas (ab) tum apna mu'amala khud hi dekh lo.'" 12. Quresh ne (isse bhi) kaha. "Tum baith jao" aur Quresh ke ek aadmi ko bulaya, jiska naam "Makraz bin Hafs bin Al-Aqeef" tha. Yeh shakhs Banu Aamir bin Loay se talluq rakhta tha aur isko bheja. Pas jab isko Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne dekha to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. "Yeh ek fajir aadmi hai jo aankh se dekhta hai." Aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne isko bhi muddat ke baare mein waisi baat kahi jaisi aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Budail aur uske deegar sathion se kahi thi. Makraz wahan se mushrikeen ke paas wapas aaya aur usne (aa kar) unhen khabar di. 13. Is par Quresh ne Banu Aamir bin Loay ke Suhail bin Amr ko bheja taake woh aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se woh baat tahreer karwaye jis ki taraf aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) dawat de rahe hain. Suhail bin Amr aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke paas aaya aur kaha. "Mujhe Quresh ne aap ki taraf isliye bheja hai taake main aap se aisa faisla tahreer karwau jis par main aur aap razi hon." Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Haan (theek hai), likho, 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim.'" Rawi kahte hain: "Suhail bin Amr kahne laga. 'Main to Allah ko nahin janta aur na hi mujhe Rahman ki ma'rifat hai. Lekin main to aise hi likhunga jaisa ki hum likhte hain. Ya'ni 'Bismikallahumma'." Logon ko is baat par ghussa aaya aur kahne lage. "Hum tumhare saath kisi bhi tarah ki mukatbat nahin karenge yahan tak ki tu 'Rahman-o-Rahim' ka iqrar kare." Suhail ne kaha: "Phir to main tumhare saath kisi tarah ki mukatbat nahin karunga aur laut jaunga." Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Likho 'Bismikallahumma'. 'Yeh woh tahreer hai jis par 'Muhammad-ur-Rasool-Allah' ne baham sulah ki." Suhail ne kaha. "Main is baat ka iqrar nahin karta. Agar main aap ko Allah ka Rasool janta hota to main aap ki mukhalifat na karta aur na hi aap ki nafarmani karta. Lekin main to 'Muhammad bin Abdullah' likhunga." Is baat par bhi logon ko ghussa aaya. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Tum likho (Muhammad bin Abdullah, Suhail bin Amr)." 14. Is par Hazrat Umar bin Khattab khade ho gaye aur arz kiya. "Ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam)! Kya hum haq par nahin hain? Aur kya hamara dushman baatil par nahin?" Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya. "Kyun nahin (aisa hi hai)." Hazrat Umar ne arz kiya. "Phir hum kis bunyad par apne deen mein yeh ghatiya pan gawara kar rahe hain?" Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Main Khuda ka Rasool hun aur main hargiz iski nafarmani nahin karunga aur woh hargiz mujhe zaya nahin hone dega." Hazrat Abubakar ek kone mein gosha-nisheen the ki Hazrat Umar unke paas pahunche aur kaha. "Aye Abubakar!" Unhon ne farmaya: "Ji haan!" Hazrat Umar ne kaha: "Kya hum haq par nahin hain? Aur kya hamara dushman baatil par nahin hain?" Hazrat Abubakar ne farmaya: "Kyun nahin (aisa hi hai)." Hazrat Umar ne kaha. "To phir kis wajah se hum apne deen mein yeh ghatiya pan gawara kar rahe hain." Hazrat Abubakar ne farmaya: "Aye Umar! Apna yeh khayal chhod do, isliye ki aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Allah ke Rasool hain? Allah Pak aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko hargiz zaya nahin hone denge aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Allah Ta'ala ki hargiz nafarmani nahin karenge." 15. Aur is khat ki sharait mein ek baat yeh bhi thi ki hum mein se jo tumhare paas aa jaye... agarche woh tumhare deen par ho... tum usko hamari taraf wapas karoge aur tumhare paas se jo humare yahan aaega hum usko tumhari taraf wapas... nahin karenge. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya: "Jo shakhs meri jaanib se (tumhari taraf) aaega mujhe uski wapsi ki zaroorat nahin hai. Aur jo tune apne liye sharait thehrai hain yeh mere aur tere darmiyaan (ahd) hai." 16. Log abhi isi halat mein the ki achanak Musalmanon ko Abu Jandal bin Suhail bin Amr bediyon mein ghasitta hua dikhayi diya. Pas Suhail ne apna sar upar uthaya to naghaan uska apna beta Abu Jandal tha. Suhail ne kaha: "Yeh pehla shakhs hai jiske wapsi par maine tere saath sulah ki." Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Aye Suhail! Hum to abhi tahreer se farigh hi nahin hue." Suhail ne kaha. "Jab tak aap isko wapas nahin karte aap se khat-o-kitabbat hi nahin karta." Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya: "Iska mu'amala tere hawale hai." Rawi kahte hain. "Abu Jandal, Musalmanon ki taraf tez chal kar aaya aur usne kaha. 'Aye jamaat-e-Muslimeen! Mujhe mushrikeen ki taraf wapas kiya ja raha hai jabki woh mujhe mere deen ke baare mein fitna mein mubtala karenge?'" Hazrat Umar iske saath chipak gaye aur iske walid ne iska haath pakda aur isko kheench liya. Hazrat Umar kahne lage. "Ek hi to banda hai aur tumhare paas talwar bhi hai." Lekin unka walid unhen saath le gaya. 17. Pas Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) un logon ko mushrikeen ki taraf wapas bhejte the jo mushrikeen ki taraf se deen Islam kabool kar ke aate the. Pas jab yeh wapas hone wale afrad ek jamaat ki shakal ikhtiyar kar gaye aur inhi mein Abu Al-Baseer bhi the... dar-an-haalik-eh aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) inko wapas bhejte rahe the, to yeh log samandar ke saahil par thehar gaye aur unhon ne Quresh ke Shaam ki taraf jaane wale qaaflon ko lootna shuru kar diya. Is par Quresh ne Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki taraf (aadmi) bheja ki "Hamen tum se sil-e-rahmi ki umeed hai. Aap in (mafroor) logon ko apne paas wapas bula len aur apne paas ikattha kar len." Pas aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne unhen apni taraf wapas bula liya. 18. Aur tahreer mein aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne unke samne jo irada zahir kiya tha us mein yeh baat bhi thi ki Quresh ke log aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko chhoden taake aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Makkah mein dakhil hon aur apne maanasik ko ada karen aur unke yahan apne hadi ke janwar zahr karen. Quresh ne kaha. "Nahin! Arab ke log hamen hamesha ke liye kahin yeh ta'ana na den ki aap ne humare saath chusti ka muzayara kar dikhaya hai. Lekin aap is saal wapas jayen aur jab aayinda saal hoga to hum aap ko ijazat denge, aap Umrah bhi ada farmaen aur teen din qayam bhi farmaen." 19. Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) (wahan se) khade hue aur logon se irshad farmaya: "Utho aur apne hadi ke janwar zahr karo aur halq karwa lo aur halal ho jao." (Yeh baat sun kar) koi aadmi khda hua aur na hi kisi ne koi harkat ki. Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne logon ko is baat ka teen martaba hukm irshad farmaya. Lekin koi aadmi bhi apni jagah se utha aur na hi kisi ne koi harkat ki. Jab Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne yeh surat-e-haal dekhi to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Hazrat Umm-e-Salma ke paas tashreef le gaye... Hazrat Umm-e-Salma is safar mein aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hamrah tashreef laayi thin aur farmaya: "Aye Umm-e-Salma! Logon ko kya ho gaya hai ki maine unko teen martaba is baat ka hukm diya hai ki woh zahr kar len aur halq karwa len aur halal ho jayen. Lekin koi aadmi bhi mere hukm ko poora karne ke liye nahin utha?" Hazrat Umm-e-Salma ne arz kiya. "Ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam)! Aap bahar tashreef le jayen aur yeh kaam (pehle khud) karen." Pas Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) (wahan se) uthe aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne apne hadi ke janwar ki taraf qasd kiya aur usko zahr farmaya aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne halq karne wale ko bulaya aur usne aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) (ke sar Mubarak) ko halq kiya. Pas jab logon ne Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke is amal ko dekha to apni apni hadi ki taraf lapak pade aur usko zahr kar diya aur baaz baaz ke upar jhuk gaye aur halq karne lage. Yahan tak ki qareeb tha ki baaz baaz ko bheed ki wajah se neeche de dete. 20. Ibn-e-Shihab kahte hain. "Hadi ke woh janwar jo Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke sahaba ne saath liye the, woh sattar the." 21. Ibn-e-Shihab kahte hain. "Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Khyber ko ahl-e-Hudaibiya par atthara hisson mein taqseem kiya tha. Har ek sau afrad ke liye ek hissa tha."

خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي أَلْفٍ وَثَمَانِمِائَةٍ ، وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُدْعَى نَاجِيَةَ يَأْتِيهِ بِخَبَرِ الْقَوْمُ ، حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ غَدِيرًا بِعُسْفَانَ يُقَالُ لَهُ غَدِيرُ الْأَسْطَاطِ فَلَقِيَهُ عَيْنَهُ بِغَدِيرِ الْأَسْطَاطِ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، تَرَكْتُ قَوْمَكَ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدِ اسْتَنْفَرُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ قَدْ سَمِعُوا بِمَسِيرِكَ ، وَتَرَكْتُ عُبْدَانَهُمْ يُطْعَمُونَ الْخَزِيرَ فِي دُورِهِمْ ، وَهَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي خَيْلٍ بَعَثُوهُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ : « مَاذَا تَقُولُونَ ؟ مَاذَا تَرَوْنَ ؟ أَشِيرُوا عَلَيَّ ، قَدْ جَاءَكُمْ خَبَرُ قُرَيْشٍ مَرَّتَيْنِ وَمَا صَنَعَتْ ، فَهَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ » ، قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : « أَتَرَوْنَ أَنْ نَمْضِيَ لِوَجْهِنَا ، وَمَنْ صَدَّنَا عَنِ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ ، أَمْ تَرَوْنَ أَنْ نُخَالِفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَنْ تَرَكُوا وَرَاءَهُمْ ، فَإِنْ أَتْبَعْنَا مِنْهُمْ عُنُقٌ قَطَعَهُ اللَّهُ » ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْأَمْرُ أَمْرُكَ وَالرَّأْيُ رَأْيُكَ ، فَتَيَامَنُوا فِي هَذَا الْفِعْلِ ، فَلَمْ يَشْعُرْ بِهِ خَالِدٌ وَلَا الْخَيْلُ الَّتِي مَعَهُ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمْ فَتْرَةَ الْجَيْشِ وَأَوْفَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى ثَنِيَّةٍ تَهْبِطُ عَلَى غَائِطِ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ بَلْدَحُ ، فَبَرَكَتْ فَقَالَ : حَلْ حَلْ ، فَلَمْ تَنْبَعِثْ ، فَقَالُوا : خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ ، قَالَ : « إِنَّهَا وَاللَّهِ مَا خَلَأَتْ ، وَلَا هُوَ لَهَا بِخُلُقٍ ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ ، أَمَّا وَاللَّهِ لَا يَدْعُونِي الْيَوْمَ إِلَى خُطَّةٍ يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرْمَةً ، وَلَا يَدْعُونِي فِيهَا إِلَى صِلَةٍ إِلَّا أَجَبْتُهُمْ إِلَيْهَا » ، ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ ، فَرَجَعَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ عَوْدُهُ عَلَى بَدْئِهِ ، حَتَّى نَزَلَ بِالنَّاسِ عَلَى ثَمَدٍ مِنْ ثِمَادِ الْحُدَيْبِيَةِ ظَنُونٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُ النَّاسُ مَاءَهَا تَبَرُّضًا ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قِلَّةَ الْمَاءِ ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، فَأَمَرَ رَجُلًا فَغَرَزَهُ فِي جَوْفِ الْقَلِيبِ ، فَجَاشَ بِالْمَاءِ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ عَنْهُ بِعَطَنٍ ، فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِهِ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي رَكْبٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَؤُلَاءِ قَوْمُكَ قَدْ خَرَجُوا بِالْعُوذِ الْمَطَافِيلِ ، يُقْسِمُونَ بِاللَّهِ لَيَحُولُنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ مَكَّةَ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ ، قَالَ : « يَا بُدَيْلُ ، إِنِّي لَمْ آتِ لِقِتَالِ أَحَدٍ ، إِنَّمَا جِئْتُ أَقْضِي نُسُكِي وَأَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ ، وَإِلَّا فَهَلْ لِقُرَيْشٍ فِي غَيْرِ ذَلِكَ ، هَلْ لَهُمْ إِلَى أَنْ أُمَادَّهُمْ مُدَّةً يَأْمَنُونَ فِيهَا وَيَسْتَجِمُّونَ ، وَيُخَلُّونَ فِيهَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ ، فَإِنْ ظَهَرَ فِيهَا أَمْرِي عَلَى النَّاسِ كَانُوا فِيهَا بِالْخِيَارِ ، أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ ، وَبَيْنَ أَنْ يُقَاتِلُوا وَقَدْ جَمَعُوا وَأَعَدُّوا » ، قَالَ بُدَيْلٌ : سَأَعْرِضُ هَذَا عَلَى قَوْمِكَ ، فَرَكِبَ بُدَيْلٌ حَتَّى مَرَّ بِقُرَيْشٍ فَقَالُوا : مِنْ أَيْنَ ؟ قَالَ : جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَعَلْتُ ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ سُفَهَائِهِمْ : لَا تُخْبِرْنَا عَنْهُ شَيْئًا ، وَقَالَ نَاسٌ مِنْ ذَوِي أَسْنَانِهِمْ وَحُكَمَائِهِمْ : بَلْ أَخْبِرْنَا مَا الَّذِي رَأَيْتَ ، وَمَا الَّذِي سَمِعْتَ ؟ فَاقْتَصَّ عَلَيْهِمْ بُدَيْلٌ قِصَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَمَا عَرَضَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمُدَّةِ ، قَالَ : وَفِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ، فَوَثَبَ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَلْ تَتَّهِمُونَنِي فِي شَيْءٍ ، أَلَسْتُ بِالْوَلَدِ وَلَسْتُمْ بِالْوَالِدِ ، أَوَلَسْتُ قَدِ اسْتَنْفَرْتُ لَكُمْ أَهْلَ عُكَاظٍ ، فَلَمَّا مَلَجُوا عَلَيَّ نَفَرْتُ إِلَيْكُمْ بِنَفْسِي وَوَلَدِي وَمَنْ أَطَاعَنِي ، قَالُوا : بَلَى ، قَدْ فَعَلْتَ ، قَالَ : فَاقْبَلُوا مِنْ بُدَيْلٍ مَا جَاءَكُمْ بِهِ وَمَا عَرَضَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، وَابْعَثُونِي حَتَّى آتِيَكُمْ بِمُصَادِقِهَا مِنْ عِنْدِهِ ، قَالُوا : فَاذْهَبْ ، فَخَرَجَ عُرْوَةُ حَتَّى نَزَلَ بِرَسُولِ ⦗ص:٣٨٨⦘ اللَّهِ ﷺ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَؤُلَاءِ قَوْمُكَ ، كَعْبُ بْنُ لُؤَيٍّ وَعَامِرُ بْنُ لُؤَيٍّ قَدْ خَرَجُوا بِالْعُوذِ الْمَطَافِيلِ ، يُقْسِمُونَ لَا يُخَلُّونَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ مَكَّةَ حَتَّى تُبِيدَ خَضْرَاءَهُمْ ، وَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ قِتَالِهِمْ بَيْنَ أَحَدِ أَمْرَيْنِ : أَنْ يُجْتَاحَ قَوْمُكَ ، فَلَمْ تَسْمَعْ بِرَجُلٍ قَطُّ اجْتَاحَ أَصْلَهُ قَبْلَكَ ، وَبَيْنَ أَنْ يُسَلِّمَكَ مَنْ أَرَى مَعَكَ ، فَإِنِّي لَا أَرَى مَعَكَ إِلَّا أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ ، لَا أَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَلَا وُجُوهَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَغَضِبَ : امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ ، أَنَحْنُ نَخْذُلُهُ أَوْ نُسْلِمُهُ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : أَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا يَدٌ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ فِيمَا قُلْتَ ، وَكَانَ عُرْوَةُ قَدْ تَحَمَّلَ بِدِيَةٍ فَأَعَانَهُ أَبُو بَكْرٍ فِيهَا بِعَوْنٍ حَسَنٍ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَعَلَى وَجْهِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ عُرْوَةُ ، وَكَانَ عُرْوَةُ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَكُلَّمَا مَدَّ يَدَهُ يَمَسُّ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَرَعَهَا الْمُغِيرَةُ بِقَدَحٍ كَانَ فِي يَدِهِ ، حَتَّى إِذَا أَخْرَجَهُ قَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، قَالَ عُرْوَةُ : أَنْتَ بِذَاكَ يَا غُدَرُ ، وَهَلْ غَسَلْتَ عَنْكَ غَدْرَتَكَ الْأَمْسِ بِعُكَاظٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِعُرْوَةِ بْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَيْلٍ ، فَقَامَ عُرْوَةُ فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنِّي قَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ ، عَلَى قَيْصَرَ فِي مُلْكِهِ بِالشَّامِ ، وَعَلَى النَّجَاشِيِّ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَعَلَى كِسْرَى بِالْعِرَاقِ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا رَأَيْتَ مَلِكًا هُوَ أَعْظَمُ فِيمَنْ هُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ مِنْ مُحَمَّدٍ فِي أَصْحَابِهِ ، وَاللَّهِ مَا يَشُدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ ، وَمَا يَرْفَعُونَ عِنْدَهُ الصَّوْتَ ، وَمَا يَتَوَضَّأُ مِنْ وَضُوءٍ إِلَّا ازْدَحَمُوا عَلَيْهِ أَيُّهُمْ يَظْفَرُ مِنْهُ بِشَيْءٍ ، فَاقْبَلُوا الَّذِي جَاءَكُمْ بِهِ بُدَيْلٌ ، فَإِنَّهَا خُطَّةُ رُشْدٍ ، قَالُوا : اجْلِسْ وَدَعَوْا رَجُلًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ يُقَالُ لَهُ : الْحُلَيْسُ ، فَقَالُوا : انْطَلِقْ فَانْظُرْ مَا قِبَلَ هَذَا الرَّجُلِ وَمَا يَلْقَاكَ بِهِ ، فَخَرَجَ الْحُلَيْسُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُقْبِلًا عَرَفَهُ ; قَالَ : هَذَا الْحُلَيْسُ ، وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْهَدْيَ ، فَابْعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِهِ ، فَبَعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَاخْتَلَفَ الْحَدِيثُ فِي الْحُلَيْسِ ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ : جَاءَهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَيْلٍ وَعُرْوَةَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ : لَمَّا رَأَى الْهَدْيَ رَجَعَ إِلَى قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَمْرًا لَئِنْ صَدَدْتُمُوهُ إِنِّي لَخَائِفٌ عَلَيْكُمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ عَنَتٌ ، فَأَبْصِرُوا بَصَرَكُمْ ، قَالُوا : اجْلِسْ : وَدَعَوْا رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : مِكْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْأَحْنَفِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، فَبَعَثُوهُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ : هَذَا رَجُلٌ فَاجِرٌ يَنْظُرُ بِعَيْنٍ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَيْلٍ وَلِأَصْحَابِهِ فِي الْمُدَّةِ ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ ، فَبَعَثُوا سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ يُكَاتِبُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلَى الَّذِي دَعَا إِلَيْهِ ، فَجَاءَهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ : قَدْ بَعَثَنِي قُرَيْشٌ إِلَيْكَ أُكَاتِبُكَ عَلَى قَضِيَّةٍ نَرْتَضِي أَنَا وَأَنْتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : نَعَمِ ، اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : مَا أَعْرِفُ اللَّهَ وَلَا أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ كَمَا كُنَّا نَكْتُبُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالُوا : لَا نُكَاتِبُكَ عَلَى خُطَّةٍ حَتَّى تُقِرَّ بِالرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ سُهَيْلٌ : إِذًا لَا أُكَاتِبُهُ عَلَى خُطَّةٍ حَتَّى أَرْجِعَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : لَا أُقِرُّ ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا خَالَفْتُكَ وَلَا عَصَيْتُكَ ، وَلَكِنْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْهَا أَيْضًا ، قَالَ : « اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ » وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ؟ أَوَلَيْسَ عَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ؟ قَالَ : إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَلَنْ أَعْصِيَهُ ⦗ص:٣٨٩⦘ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي ، وَأَبُو بَكْرٍ مُتَنَحٍّ بِنَاحِيَةٍ ، فَأَتَاهُ عُمَرُ فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ؟ أَوَلَيْسَ عَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ; قَالَ : دَعْ عَنْكَ مَا تَرَى يَا عُمَرُ ، فَإِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ وَلَنْ يَعْصِيَهُ ، وَكَانَ فِي شَرْطِ الْكِتَابِ أَنَّهُ مَنْ كَانَ مِنَّا فَأَتَاكَ فَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا ، وَمَنْ جَاءَنَا مِنْ قِبَلِكَ رَدَدْنَاهُ إِلَيْكَ ، قَالَ : أَمَا مَنْ جَاءَ مِنْ قِبَلِي فَلَا حَاجَةَ لِي بِرَدِّهِ ، وَأَمَّا الَّتِي اشْتَرَطْتَ لِنَفْسِكَ فَتِلْكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ ، فَبَيْنَمَا النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي الْحَدِيدِ قَدْ خَلَا لَهُ أَسْفَلُ مَكَّةَ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ ، فَرَفَعَ سُهَيْلٌ رَأْسَهُ فَإِذَا هُوَ بِابْنِهِ أَبِي جَنْدَلٍ ، فَقَالَ ، هَذَا أَوَّلُ مَنْ قَاضَيْتُكَ عَلَى رَدِّهِ ; فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : يَا سُهَيْلُ ، إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ ، قَالَ : وَلَا أُكَاتِبُكَ عَلَى خُطَّةٍ حَتَّى تَرُدَّهُ ، قَالَ : فَشَأْنُكَ بِهِ ، قَالَ : فَهَشَّ أَبُو جَنْدَلٍ إِلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ يَفْتِنُونَنِي فِي دِينِي ، فَلَصِقَ بِهِ عُمَرُ وَأَبُوهُ آخِذٌ بِيَدِهِ يَجْتَرُّهُ وَعُمَرُ يَقُولُ : إِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ ، وَمَعَكَ السَّيْفُ ، فَانْطَلَقَ بِهِ أَبُوهُ ، فَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ مَنْ جَاءَ مِنْ قِبَلِهِمْ يَدْخُلُ فِي دِينِهِ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا نَفَرٌ فِيهِمْ أَبُو بَصِيرٍ رَدَّهُمْ إِلَيْهِمْ وَأَقَامُوا بِسَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَكَأَنَّهُمْ قَطَعُوا عَلَى قُرَيْشٍ مَتْجَرَهُمْ إِلَى الشَّامِ ، فَبَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِنَّا نَرَاهَا مِنْكَ صِلَةً أَنْ تَرُدَّهُمْ إِلَيْكَ وَتَجْمَعَهُمْ ، فَرَدَّهُمْ إِلَيْهِ ، وَكَانَ فِيمَا أَرَادَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ فِي الْكِتَابِ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ فَيَقْضِي نُسُكَهُ وَيَنْحَرُ هَدْيَهُ بَيْنَ ظَهْرَيْهِمْ ، فَقَالُوا : لَا تَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّكَ أَخَذْتَنَا ضَغْطَةً أَبَدًا ، وَلَكِنِ ارْجِعْ عَامَكَ هَذَا ، فَإِذَا كَانَ قَابِلٌ أَذِنَّا لَكَ فَاعْتَمَرْتَ وَأَقَمْتَ ثَلَاثًا ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لِلنَّاسِ : قُومُوا فَانْحَرُوا هَدْيَكُمْ ، وَاحْلِقُوا وَحِلُّوا ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ وَلَا تَحَرَّكَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ النَّاسَ بِذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَمَا تَحَرَّكَ رَجُلٌ وَلَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ ﷺ ذَلِكَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، وَكَانَ خَرَجَ بِهَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، مَا بَالُ النَّاسِ ، أَمَرْتُهُمْ ثَلَاثَ مِرَارٍ أَنْ يَنْحَرُوا وَأَنْ يَحْلِقُوا وَأَنْ يَحِلُّوا فَمَا قَامَ رَجُلٌ إِلَى مَا أَمَرْتُهُ بِهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اخْرُجْ أَنْتَ فَاصْنَعْ ذَلِكَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى يَمَّمَ هَدْيَهُ فَنَحَرَهُ وَدَعَا حَلَّاقًا فَحَلَقَهُ ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَثَبُوا إِلَى هَدْيِهِمْ فَنَحَرُوهُ ، وَأَكَبَّ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَضُمَّ بَعْضًا مِنَ الزِّحَامِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ الْهَدْيُ الَّذِي سَاقَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَيْبَرَ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا ، لِكُلِّ مِائَةِ رَجُلٍ سَهْمٌ "