12.
Book of Hajj
١٢-
كتاب الحج


Chapter on combining Hajj with Umrah.

باب إدخال الحج على العمرة

Sunan al-Kubra Bayhaqi 8746

(8746) Narrated Jabir (RA): We went along with the Messenger of Allah (ﷺ) reciting only the Talbiyah of Hajj, while Aisha (RA) recited the Talbiyah of Umrah. When we reached Sarif, she got her menses. When we reached Makkah, we performed Tawaf of the Ka'bah and Safa and Marwa. The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever has not brought the Hadi (sacrificial animal) should declare himself Halal." We asked, "What kind of Halal is this?" He (ﷺ) said, "Complete Halal." So we became Halal, meaning we were no longer in the state of Ihram. We used perfume, wore regular clothes, and only four nights remained between us and Arafat. Then, on the Day of Tarwiyah (8th of Dhul-Hijjah), we put on the Ihram. The Messenger of Allah (ﷺ) went to Aisha (RA) and found her crying. He (ﷺ) asked, "What is the matter with you?" She said, "My situation is that I am menstruating, and the people have become Halal but I have not. I have not performed Tawaf of the Ka'bah, and the people are now going for Hajj." He (ﷺ) said, "This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. So take a bath, recite the Talbiyah for Hajj...” She did so and stayed at each place where the pilgrims stayed. When she became clean from her menses, she performed Tawaf of the Ka'bah and Safa and Marwa. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said, "Now you have become Halal from both Hajj and Umrah." She said, "O Messenger of Allah (ﷺ), there is still a doubt in my heart that I performed Hajj without having performed Tawaf of the Ka'bah." He (ﷺ) said, "O Abdur-Rahman! Take her and let her perform Umrah from Tan'im. And this is the matter of the night of al-Mashbah."


Grade: Sahih

(٨٧٤٦) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے گئے اور اور عائشہ (رض) نے عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب وہ سرف کے مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص قربانی ساتھ لے کر نہیں آیا وہ حلال ہوجائے ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا حلال ہونا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل طور پر حلال ہونا ہے تو ہم عورتوں پر واقع ہوئے، خوشبو لگائی، کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں، پھر یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو ہم نے احرام باندھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے پاس گئے تو انھیں روتے ہوئے پایا تو پوچھا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کہنے لگیں : میرا معاملہ یہ ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال بھی ہوچکے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے کہ اللہ نے اس کو بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کے لیے تلبیہ کہہ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہر ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب تو حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔ کہنے لگیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے دل میں خدشہ سا ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا حتیٰ کہ حج کرلیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا اور یہ لیلۂ حصبہ کی بات ہے۔

(8746) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہین کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے گئے اور اور عائشہ (رض) نے عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب وہ سرف کے مقام پر پہنچین تو حائضہ ہوگئین حتیٰ کہ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص قربانی ساتھ لے کر نہین آیا وہ حلال ہوجائے ۔ ہم نے پوچھا : یہ کیسا حلال ہونا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل طور پر حلال ہونا ہے تو ہم عورتون پر واقع ہوئے، خوشبو لگائی، کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھین، پھر یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو ہم نے احرام باندھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے پاس گئے تو انھیں روتے ہوئے پایا تو پوچھا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ کہنے لگین : میرا معاملہ یہ ہے کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال بھی ہوچکے ہیں اور میں حلال نہین ہوئی اور میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہین کیا اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایسا معاملہ ہے کہ اللہ نے اس کو بنات آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کر اور حج کے لیے تلبیہ کہہ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا اور ہر ٹھہرنے کی جگہ پر ٹھہرین حتیٰ کہ جب وہ حیض سے فارغ ہوئین تو کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب تو حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔ کہنے لگین : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے دل میں خدشہ سا ہے کہ میں نے بیت اللہ کا طواف نہین کیا حتیٰ کہ حج کرلیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا اور یہ لیلۂ حصبہ کی بات ہے۔.

٨٧٤٦ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،أَنَّهُ قَالَ:أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ،قَالَ:فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا؟قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ "فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ،ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ؟ "قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ،قَالَ:" فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ "فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ:" قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا "قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ "وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمُ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ