5.
Book of Faith
٥-
كِتَابُ الْإِيمَانِ


Chapter on the Obligation of Faith

بَابُ فَرْضِ الْإِيمَانِ

Sahih Ibn Hibban 164

Al-Miqdam ibn al-Aswad narrated that he asked Allah's Messenger, "O Messenger of Allah! What is your opinion about a person from the pagans whom I meet and he fights with me and strikes one of my hands with the sword and cuts it off, and (then) he takes refuge from me by a tree and says, 'I have embraced Islam (surrendered to Allah).' Shall I kill him after he had said so?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not kill him." I said, "O Messenger of Allah! He has cut off my hand, and then he said this after cutting off my hand. Shall I kill him?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not kill him, for if you kill him, then he will be in the position of your position before you killed him, and you will be in his position before he said his statement which he said (i.e. before embracing Islam)."

حضرت مقدام بن معدیکربؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے کہ میں مشرکوں میں سے کسی ایسے شخص سے ملوں جو مجھ سے لڑے اور تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے اور پھر وہ کسی درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگے اور کہے کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے تو کیا میں اسے اس کے کہنے کے بعد قتل کردوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ میں نے کہا اللہ کے رسول ﷺ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور پھر میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد یہ کہا ہے۔ کیا میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہوگا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے اس مقام پر ہوگے جس پر وہ اپنا یہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔

Hazrat Muqdam bin Maadi Karb بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے کہ میں مشرکوں میں سے کسی ایسے شخص سے ملوں جو مجھ سے لڑے اور تلوار سے میرا ہاتھ کاٹ دے اور پھر وہ کسی درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ مانگے اور کہے کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے تو کیا میں اسے اس کے کہنے کے بعد قتل کردوں؟ رسول اللہ نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ میں نے کہا اللہ کے رسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور پھر میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد یہ کہا ہے۔ کیا میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہوگا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس کے اس مقام پر ہوگے جس پر وہ اپنا یہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَفَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «لَا تَقْتُلْهُ» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ»