25.
Statement of Softening Hearts
٢٥-
بيان الأقوال التي تلين القلوب
Description of showing off and seeking fame
بيان الرياء والشهرة
Mishkat al-Masabih 5323
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "There will appear in the latter part of my Ummah people who will seek the world through their religion. They will wear sheepskins, showing gentleness to the people, their tongues sweeter than sugar, but their hearts will be like the hearts of wolves. Allah says, 'Are they deceiving Me, or are they bold against Me?' I swear by Allah that I shall certainly send upon them (Muslims) such a trial in which the patient will slip.
Grade: Da'if
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بدلے میں دنیا طلب کریں گے ، وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بکری کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں (یعنی گفتگو) چینی سے زیادہ میٹھی ہو گی ، اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں جیسے ہوں گے ، اللہ فرماتا ہے ، وہ دھوکے میں مبتلا ہیں (کہ میں انہیں مہلت دے رہا ہوں) یا وہ میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ، میں اپنی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں پر انہی میں سے ایک فتنہ برپا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم و بردبار شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Abu Huraira بیان کرتے ہیں، رسول اللہ نے فرمایا: '' آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بدلے میں دنیا طلب کریں گے، وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بکری کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں (یعنی گفتگو) چینی سے زیادہ میٹھی ہو گی، اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں جیسے ہوں گے، اللہ فرماتا ہے، وہ دھوکے میں مبتلا ہیں (کہ میں انہیں مہلت دے رہا ہوں) یا وہ میرے خلاف جرات کرتے ہیں، میں اپنی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں پر انہی میں سے ایک فتنہ برپا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم و بردبار شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ۔'' اسنادہ ضعیف جدا، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْهُ\قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ يَقُولُ اللَّهُ: «أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عليَّ يجترؤون؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تدع الْحَلِيم فيهم حيران» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\