26.
Statement of Tribulations
٢٦-
بيان الفتن


Description of causing fear and giving advice

بيان الترغيب والنصيحة

Mishkat al-Masabih 5381

Hudhayfah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) related to us two Hadiths. One of them I have witnessed, and the other I am awaiting. He (peace and blessings be upon him) told us that trustworthiness (honesty) was sent down and settled in the roots of the hearts of men. Then they learned from the Quran and then from the Sunnah." Then he (peace and blessings be upon him) told us about its (faith's) departure, saying: "A person will be heedless, and his faith will be snatched away from his heart, leaving a mark like a spot. Then he will be heedless again, and it (faith) will be snatched away, leaving a mark on him like a blister, as if you had rolled a burning ember on your foot, which then becomes a blister, and you see it swollen, though there is nothing in it." And people will wake up in the morning, and no one will fulfill any trust. It will be said, 'So-and-so in such-and-such tribe is a trustworthy person.' And about another, it will be said, 'How intelligent he is, how much forbearance he has, and how patient he is!' While in his heart, there is not even faith equal to a mustard seed." - Agreed upon.


Grade: Sahih

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں ، میں نے ان میں سے ایک تو دیکھ لی جبکہ دوسری کا انتظار ہے ، آپ ﷺ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ امانت (ایمان داری) آدمیوں کے دلوں کی جڑ (فطرت) میں اتری ، پھر انہوں نے قرآن سے سیکھا ، پھر سنت سے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس (ایمان) کے اٹھ جانے کے متعلق ہمیں حدیث بیان کی ، فرمایا :’’ آدمی غافل ہو گا تو ایمان اس کے دل سے اٹھا لیا جائے گا ، اس کا نشان نقطے کی طرح رہ جائے گا ، پھر وہ دوبارہ غافل ہو گا تو اس (ایمان) کو اٹھا لیا جائے گا تو آبلے کی طرح اس پر نشان رہ جائے گا جیسے تو نے اپنے پاؤں پر انگارہ لڑھکایا ہو ، وہ آبلہ بن جائے اور تو اسے پھولا ہوا دیکھے حالانکہ اس میں کوئی چیز نہیں ، اور لوگ صبح کریں گے اور کوئی ایک بھی امانت ادا نہیں کرے گا ، کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہے ، اور کسی اور آدمی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقل مند ہے ، اس کا کتنا ظرف ہے اور وہ کس قدر برداشت والا ہے ، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Huzayfa بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں ، میں نے ان میں سے ایک تو دیکھ لی جبکہ دوسری کا انتظار ہے ، آپ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ امانت (ایمان داری) آدمیوں کے دلوں کی جڑ (فطرت) میں اتری ، پھر انہوں نے قرآن سے سیکھا ، پھر سنت سے ۔‘‘ پھر آپ نے اس (ایمان) کے اٹھ جانے کے متعلق ہمیں حدیث بیان کی ، فرمایا :’’ آدمی غافل ہو گا تو ایمان اس کے دل سے اٹھا لیا جائے گا ، اس کا نشان نقطے کی طرح رہ جائے گا ، پھر وہ دوبارہ غافل ہو گا تو اس (ایمان) کو اٹھا لیا جائے گا تو آبلے کی طرح اس پر نشان رہ جائے گا جیسے تو نے اپنے پاؤں پر انگارہ لڑھکایا ہو ، وہ آبلہ بن جائے اور تو اسے پھولا ہوا دیکھے حالانکہ اس میں کوئی چیز نہیں ، اور لوگ صبح کریں گے اور کوئی ایک بھی امانت ادا نہیں کرے گا ، کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہے ، اور کسی اور آدمی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقل مند ہے ، اس کا کتنا ظرف ہے اور وہ کس قدر برداشت والا ہے ، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ: حَدَّثَنَا: «إِنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ» . وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ: يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ أَثَرُهَا مِثْلُ أَثَرِ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ قتقبض فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدُهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ