This Hadith has been narrated through another chain of transmitters.
امام صاحب نے مذکورہ بالا حدیث اپنے دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔حدیث حاشیہ: This hadith has been narrated through another chain of transmitters.حدیث حاشیہ: حدیث حاشیہ: حدیث حاشیہ: حدیث حاشیہ: محمد بن جعفر(بن ابی کثیر) نے کہا: مجھے شریک نے خبر دی،کہا: مجھے عطاء بن یسار اور عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،کہہ رہے تھے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔(آگےمحمد کے بھائی) اسماعیل کی روایت کے مانند ہے۔حدیث حاشیہ: اسماعیل نے جو ابن جعفر(بن ابی کثیر) ہیں،کہا:مجھے شریک نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے خبردی،انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"(اصل) مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیتے ہیں،اصل مسکین سوال سے بچنے والا ہے،چاہو تو یہ آیت پڑھ لو:"وہ لوگوں سے چمٹ کر(اصرار سے) نہیں مانگتے۔"حدیث حاشیہ: محمد بن جعفر(بن ابی کثیر) نے کہا: مجھے شریک نے خبر دی،کہا: مجھے عطاء بن یسار اور عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،کہہ رہے تھے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔(آگےمحمد کے بھائی) اسماعیل کی روایت کے مانند ہے۔ حدیث حاشیہ: حدیث حاشیہ: محمد بن جعفر(بن ابی کثیر) نے کہا: مجھے شریک نے خبر دی،کہا: مجھے عطاء بن یسار اور عبدالرحمان بن ابی عمرہ نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،کہہ رہے تھے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔(آگےمحمد کے بھائی) اسماعیل کی روایت کے مانند ہے۔حدیث حاشیہ: رقم الحديث المذكور في التراقيم المختلفة مختلف تراقیم کے مطابق موجودہ حدیث کا نمبر × ترقیم کوڈاسم الترقيمنام ترقیمرقم الحديث (حدیث نمبر) ١.ترقيم موقع محدّث ویب سائٹ محدّث ترقیم2439٢. ترقيم فؤاد عبد الباقي (المكتبة الشاملة)ترقیم فواد عبد الباقی (مکتبہ شاملہ)1039.02٣. ترقيم العالمية (برنامج الكتب التسعة)انٹرنیشنل ترقیم (کتب تسعہ پروگرام)1723.01٤. ترقيم فؤاد عبد الباقي (برنامج الكتب التسعة)ترقیم فواد عبد الباقی (کتب تسعہ پروگرام)1039.02٦. ترقيم شركة حرف (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)2381٧. ترقيم دار إحیاء الکتب العربیة (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)ترقیم دار احیاء الکتب العربیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)1039.02٨. ترقيم دار السلامترقیم دار السلام2395 الحكم على الحديث × اسم العالمالحكم ١. إجماع علماء المسلمينأحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة تمہید باب × تمہید کتاب × "زکاۃ"زكا.يزكو.زكاةسے ہے۔اس کا لغوی معنی اگنا اور بڑھنا ہے۔بڑھوتری تبھی ممکن ہے جب اگنے والی چیز آفات و امراض سے پاک ہو، زكا کا ایک معنی اچھا یا پاک ہونا بھی ہے۔عرب کہتے ہیں۔زكت الارض اس کا معنی ہے۔طابتیعنی زمین اچھی صاف ستھری ہوگئی۔تزکیہ اسی سے ہے۔نفوس کا تزکیہ یہ ہے کہ ان کو آفات،بہت سے امراض اور آلائشوں سے پاک کیا جائے۔انسان کو اللہ تعالیٰ فطرت سلیمہ عطا کرکے دنیا میں بھیجتا ہے۔ماں باپ اور دوسرے قریبی لوگ اس کی فطرت کو آلودہ کردیتے ہیں۔سب سے زیادہ آلودگی یہ ہوتی ہے کہ انسان وجود عطاکرنے والے اور پالنے والے اللہ کی محبت کے بجائے مادی اشیاء کی محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔یہ مرض باقی دنیا کے تمام امراض کا سبب بنتا ہے۔اسی سے حرص وہوس،لالچ،خودغرضی،ظلم،سرکشی،طغیان،غرض سب بیماریاں پیدا ہوتی اور بڑھتی ہیں۔انبیائے کرام خصوصاً محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک مقصد نفوس انسانی کا تزکیہ کرنا،یعنی انھیں ان تمام مہلک بیماریوں سے نجات دلاناہے،اللہ کا ارشاد ہے"هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ"وہ جس نے امیوں(ان پڑھوں) میں انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انھیں پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے،یقیناً وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔"(الجمعۃ۔2:62)ویسے تو تمام ارکان اسلام تزکیہ نفوس کا زریعہ ہیں،ان میں سے زکاۃ بطور خاص اس مقصد کے لئے مقرر کی گئی ہے۔قرآن مجید میں صدقات اور اللہ کی راہ میں مال دینے کو تزکیے کا زریعہ بتایا گیا ہے۔رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کہا گیا: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ"ان کے مالوں میں سے صدقہ(زکاۃ) لیں،اس کے زریعے سے انھیں پاک کریں،انھیں صاف ستھرا کریں اور ان کو دعا دیں۔"(التوبہ۔9:103)اپنا تزکیہ اللہ کی راہ میں مال دے کر کیا جاسکتا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہےالَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ "جو اپنا مال دیتا ہے پاک ہونے کے لئے۔"(اللیل۔18:92)امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیںنفس المتصدق تزكو وماله يزكو(اي)يطهر ويزيد في المعني"صدقہ دینے والا خود بھی پاک ہوتا ہے اور اس کا مال بھی پاک ہوتا ہے۔۔۔"(مجموع فتاویٰ لابن تیمیہؒ8/25) اس کے مقاصد میں سے ایک مواسات بھی ہے۔بنیادی اصول یہ ہے۔(توخذ من اغنيائهم وترد الي فقرائهم)"ان کے مال داروں سے لیا جائے اور ان کے فقیروں پر لوٹایا جائے۔"اس لحاظ سے زکاۃ کی صحیح ادائیگی امت کی اجتماعیت اور یکجہتی کی ضامن ہے۔اسلام نے زکاۃ بنیادی طور پر انھی اموال میں مقرر کی ہے۔جن میں بڑھوتری(نمو) ہوتی ہے،یعنی مویشی،کھیتی باڑی،مال تجارت اورنقدی جن میں باقی تمام اموال کی قدر محفوظ رکھی جاسکتی ہے۔ یہ بھی اسلام کی رحمت کا مظہر ہے۔کہ زکاۃ کا ایک نصاب مقرر کیا گیا ہے۔مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے بعد کچھ زائد ہو۔ان سے زکاۃ وصول کی جائے،جن کے پاس بنیادی ضرورتوں کے لئے بھی مال نہ ہو یا کم ہو ان کو چھوٹ دی جائے بلکہ ان کی مدد کی جائے۔جدید معاشیات نے ٹیکس کے حوالے سے بنیادی چھوٹ کا تصور نصاب زکاۃ ہی سے لیاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت آسان اور جامع لفظوں میں بہت خوبصورتی کے ساتھ اس نصاب کو یوں بیان فرمایا:()"پا نچ وسق سے کم میں صدقہ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے۔اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں صدقہ ہے۔"اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی پانچوں انگلیوں سے اشارہ کیا۔ یہی کتاب الزکاۃ میں امام مسلم ؒ کی لائی ہوئی پہلی حدیث ہے۔ وسق ماپنے کا پیمانہ ہے۔غلہ،خشک کھجوریں،کشمش وغیرہ کا لین دین وسق سے ماپ کرہوتا تھا۔پانی اور دوسری مائع اشیاء کو بھی اسی پیمانے سے ماپا جاتا تھا۔ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔اس بارے میں اگرچہ ابن ماجہ،ابو داود،اور نسائی میں مرفوع حدیثیں بھی موجود ہیں لیکن وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔(التلخیص الجیر لابن حجر 169/2،رقم:841۔842) اس حوالے سے اعتماد اس بات پر ہے کہ اس مقدار پر اجماع ہے۔(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہؒ447/5) صاع کی مقدار پر البتہ اہل کوفہ اور اہل حجاز یا یوں کہہ لیجئے تمام ائمہ(مالک،شافعی،احمدؒ) کے درمیان اختلاف ہے۔حجاز میں زرعی اجناس کے لین دین کا نمایاں مرکز مدینہ تھا۔ان کا صاع ہی حجازی صاع کہلاتا تھا۔کوفہ میں حجاج بن یوسف نے جوصاع متعارف کروایا تھا وہ حجازی صاع سے نسبتاًبڑاتھا،اسے صاع عراقی یا صاع حجاجی کہا جاتا تھا۔ اہل کوفہ ایک صاع کووزن میں 8 رطل کے برابر قرار دیتے ہیں جبکہ اہل حجاز 5.3 رطل کے برابر۔ امام ابو یوسف اورکئی دوسرے اہل کوفہ نے حج کے موقع پر زیارت مدینہ کے دوران میں جب پتہ لگانا چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاصاع کتنا تھا تو کثیر تعداد میں مہاجرین اور انصار کے بیٹوں نے اپنے اپنے گھروں سے اپنے خاندانی صاع،جوصحابہؓ استعمال کرتے رہے تھے،لا کردکھائے،امام ابو یوسف ؒ نے کہا:میں نے ان کی مقدار جانچی تو وہ سب آپس میں مساوی اور 5.3 رطل کے برابر تھے۔(فرايت امرا قويا فقد تركت قول ابي حنيفة في الصاع واخذت بقول اهل المدينة)"میں نے بہت پختہ بات دیکھی تو میں نے صاع کے بارے میں ابو حنیفہ کا قول چھوڑ دیا اور اہل مدینہ کاقول لے لیا۔"(سنن الکبریٰ للبیہقی:171:4 وسنن الدارقطنی:150:2 حدیث 2105 ط:دارالکتب العلمیۃ۔۔۔امام شوکانیؒ اس کی سند کو جید قرار دیتے ہیں) جدید محققین نے آج کل کے حساب سے صاع کا وزن معلوم کیا تو وہ ان کے خیال کے مطابق2176۔گرام بنتاہے۔(فقہ الزکاۃ للدکتور یوسف القرضاوی372/1) گندم کے پانچ وسق 653 کلوگرام بنتے ہیں۔(فقہ الزکاۃ للدکتور یوسف القرضاوی:373/1) ایک اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں،ایک درہم کاوزن جدید تحقیق کے مطابق 2.975 گرام بنتاہے،اس طرح ایک اوقیہ کا وزن ایک سو انیس گرام اور پانچ اوقیہ چاندی کاوزن پانچ سو پچانوے گرام بنتا ہے۔اس کے تولے بنائے جائیں تو تقریباً اکاون تولے بنتے ہیں۔سابقہ اندازہ ساڑھے باون تولے چاندی کا تھا جو اس مقدار کے قریب ہی تھا۔ سونے کے نصاب زکاۃ کا تذکرہ صحیحین کی احادیث میں نہیں۔امام ابو داودؒ نے حضرت علیؓ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے،اس کے الفاظ ہیں:()"تم پر کوئی چیز(بطور زکاۃ ادا کرنا)فرض نہیں،یعنی سونے میں جب تک تمھارے پاس(کم از کم) بیس دینار نہ ہوں۔جب تمھارے پاس بیس دینار ہوں اور ان پر سال گزرجائے توان میں آدھا دینار(زکاۃ) ہے،جو اس سے زیادہ ہوگا وہی اس حساب کے مطابق(محسوب) ہوگا۔"(سنن ابی داود،الزکاۃ باب فی الذکاۃ السائمۃ حدیث 1573۔قاضی عیاض ؒ کہتے ہیں:سونے کے نصاب پر اجماع ہے۔ سونے کے دینار میں چوبیس قراط ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رومی اور ایرانی دینار استعمال ہوتے تھے۔عبدالملک بن مروان نے زکاۃ کے نصاب کو پیش نظر رکھتے ہوئے،اہل علم کے اتفاق سےجو دینار ڈھالے اور جن کے مطابق صدیوں تک دینار ڈھالے جاتے رہے وہ دینار مل بھی چکے ہیں۔ان دیناروں کے وزن کے مطابق سونے کی زکاۃ کا نصاب85گرام بنتا ہے۔یہ برصغیر پاک وہند میں سونے کے نصاب کا جو حساب لگایا گیاتھا وہ ساڑھے سات تولے تھا،اس کے ستاسی گرام بنتے ہیں،یعنی محض دو گرام زیادہ۔اب تقریباً پورے عالم اسلام کا 85 گرام پر اتفاق ہے۔ نقدی:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے عہد مبارک میں سونے چاندی یا ان کے ڈھلے ہوئے سکے بطور نقدی استعمال ہوتے تھے۔علمائے امت کا اجماع ہے کہ کرنسی کو انھی پر قیاس کیاجائے گا۔مغربی استعمار کے غلبے کے بعد دنیا میں کاغذ کی کرنسی رائج ہوئی۔ہر ملک ایسی کرنسی سونے یا چاندی کی بنیاد پر جاری کرتاتھا۔(خزانے میں کرنسی کے مساوی یا ایک خاص تناسب سے سونا یا چاندی کا موجود ہوناضروری تھا)کچھ عرصے بعد یہ بنیاد بھی ختم ہوگئی،اب کرنسی کی بنیاد نہ سونے پر ہے نہ چاندی پر۔اب لوگوں کے پاس موجودہ کرنسی پر زکاۃ کانصاب کیاہوگا؟بعض لوگ کہتے ہیں اسے چاندی کے نصاب پر قیاس کیا جائے۔بعض سونے کے نصاب پر قیاس کرنے کے قائل ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاندی اورسونے دونوں کا نصاب قیمت یا مالیت کے اعتبار سے مساوی تھا لیکن بعد میں چاندی اپنی قیمت برقرار نہ رکھ سکی،باقی اشیاء جن پر زکاۃ فرض ہے۔مثلاً بھیڑ،بکریاں،یا اونٹ وغیرہ ان کی مالیت کے ساتھ چاندی کے نصاب کی مالیت کوئی مطابقت نہیں رکھتی،ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت میں پانچ چھ سے زیادہ بکریاں نہیں خریدی جاسکتیں۔دوسری طرف سونے کی قیمت بھی غیر متناسب طریقے پر زیادہ ہورہی ہے۔اب کرنسی کی زکاۃ کامسئلہ انتہائی سنجیدہ غور وفکر کا متقاضی ہے۔ امام قرطبیؒ نے ابو عبید قاسم بن سلامؒ کے حوالے سے لکھا ہے۔کے اسلام کے ابتدائی دور میں ایرانی اور رومی د ونوں قسموں کے درہم متد اول تھے۔ایک دوسرے کا آدھا تھا۔ایک کا وزن آٹھ دانق تھا اور دوسر ے کا چاردانق،لوگ دونوں کو مساوی طور پر ملا کر یعنی آدھے بڑے اورآدھے چھوٹے دراہم سے اپنے معاملات طے کیا کرتے تھے۔اسلام آیا تو لوگوں نے زکاۃ کی ادائیگی کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا۔وہ سو ایرانی اور سو رومی درہموں کو ملا کر ان سے زکاۃ کے نصاب کا تعین کرتے۔دونوں کو مساوی تعداد میں ملانے سے پانچ اوقیہ چاندی کا نصاب پورا ہوجاتا،اسی طرح زکاۃ ادا کی جاتی۔عبدالملک نے جب اپنے درہم ڈھلوانے کا ارادہ کیا تو تمام اہل علم کو جمع کیا۔انھوں نے درہم کا وزن،دونوں درہموں کی اوسط،یعنی 4 8 دانق کا نصف6 دانق مقرر کیا۔اس طرح سے دو سو درہموں میں پانچ اوقیہ چاندی پوری ہوجاتی تھی۔ اگر سونے کی قیمتیں اسی طرح غیر متناسب انداز میں بڑھتی رہیں تو ایسا کیا جاسکتاہے کہ کرنسی کے لئے چاندی کے نصاب کی مالیت کا نصف سونے کی نصاب کی مالیت کا نصف ملا کر مقدار نصاب متعین کرلیا جائے۔اس کے لئے پورے عالم اسلام کے حوالے سے اہل علم کا اجماع حاصل کرنا ناگزیر ہوگا۔فی الحال یہی مناسب ہے کہ جب تک سونے کے نصاب اور چاندی کو چھوڑ کرباقی اشیاء کے نصاب کی قیمتیں قریب قریب رہتی ہیں سونے کے نصاب کو کرنسی کے نصاب کی بنیاد بنایا جائے۔ کتاب الذکاۃ میں امام مسلم ؒ نے جس ترتیب سے احادیث بیان کی ہیں،۔اس کے بارے میں امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:امام مسلمؒ نےامام مالک ؒ کی موطا کی طرح اپنی صحیح میں صحت کے اعلیٰ ترین معیار پر احادیث ترتیب دی ہیں۔انھوں نے پہلے چاندی کا نصاب ذکر کیا ہے۔پھر اونٹوں کا،پر اجناس خوردنی اور خشک پھلوں کا،پھر مویشی اور دیگر اشیاء کا، پھر یہ کہ ایک سال گزرنا ضروری ہے۔اس غرض سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،عمر ؓ،اور ابن عمر ؓ،کے حوالے سے روایتیں بیان کیں،اس میں اگرچہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباسؓ اختلاف کرتے ہیں،لیکن دو خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نے جو کیا ہے وہ اس لئے راحج ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهدين من بعدي"تم میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔"(شرح مشکل الآثار 3/223 حدیث 1186،نیز دیکھئے،سنن ابن ماجہ حدیث 42،43،وسنن ابی داود حدیث،4607۔4608) اور یہ بھی فرمایا:((فان يطيعواابابكر وعمر يرشدوا))"اگر وہ ابو بکر اور عمر رضوان اللہ عنھم اجمعین کی اطاعت کریں تو راہنمائی پائیں گے"(صیح مسلم حدیث 681) اس کے بعد امام مسلمؒ نے سونے کی زکاۃ کا ذکر کیا ہے۔کیونکہ اسکی دلیل کی قوت نسبتاً کم ہے۔پھر ان چیزوں کاذکر کیاگیاہے جن میں زکاۃ فرض کی گئی ہے۔اس حوالے سے قرآن کی آیات اور احادیث بیان کی ہیں۔ان میں بہترین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت اور زکاۃ کےی بارے میں آپ کا مکتوب ہے۔ان کے بعد وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ سے روایت لائے ہیں۔(مجموع فتاویٰ لابن تیمیہؒ25:9)
Imam Sahab ne mazkoorah bala hadith apney doosrey ustad se bayan ki hai. Hadith Hashia: This hadith has been narrated through another chain of transmitters. Hadith Hashia: Hadith Hashia: Hadith Hashia: Hadith Hashia: Muhammad bin Ja'far (bin Abi Kaseer) ne kaha: Mujhe Shareek ne khabar di, kaha: Mujhe Ata bin Yasar aur Abdur Rahman bin Abi Amrah ne bataya ke in donon ne Hazrat Abu Hurairah (Raziallahu Anhu) se suna, keh rahe the: Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ne farmaya... (aagey Muhammad ke bhai) Ismail ki riwayat ke manind hai. Hadith Hashia: Ismail ne jo Ibn Ja'far (bin Abi Kaseer) hain, kaha: Mujhe Shareek ne Hazrat Maimunah (Raziallahu Anha) ke azad kardah ghulam Ata bin Yasar se khabar di, unhon ne Hazrat Abu Hurairah (Raziallahu Anhu) se riwayat ki ke Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ne farmaya: "(Asal) miskeen woh nahi jise ek do khajoorain ya ek do luqme lota dete hain, asal miskeen sawal se bachne wala hai, chaho to yeh ayat padh lo: "Woh logon se chimat kar (israr se) nahi mangte." Hadith Hashia: Muhammad bin Ja'far (bin Abi Kaseer) ne kaha: Mujhe Shareek ne khabar di, kaha: Mujhe Ata bin Yasar aur Abdur Rahman bin Abi Amrah ne bataya ke in donon ne Hazrat Abu Hurairah (Raziallahu Anhu) se suna, keh rahe the: Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ne farmaya... (aagey Muhammad ke bhai) Ismail ki riwayat ke manind hai. Hadith Hashia: Hadith Hashia: Muhammad bin Ja'far (bin Abi Kaseer) ne kaha: Mujhe Shareek ne khabar di, kaha: Mujhe Ata bin Yasar aur Abdur Rahman bin Abi Amrah ne bataya ke in donon ne Hazrat Abu Hurairah (Raziallahu Anhu) se suna, keh rahe the: Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ne farmaya... (aagey Muhammad ke bhai) Ismail ki riwayat ke manind hai. Hadith Hashia: Raqam al-hadith al-madhkur fi al-taraqim al-mukhtalifah Mukhtalif taraqim ke mutabiq maujooda hadith ka number × Tarqim Code Ism al-tarqim Nam tarqim Raqam al-hadith (Hadith Number) 1. Tarqim mauqa' muhaddith Website muhaddith tarqim 2439 2. Tarqim Fuad Abdul Baqi (al-Maktabat al-Shamilah) Tarqim Fuad Abdul Baqi (Maktaba Shamilah) 1039.02 3. Tarqim al-Alamiyah (Barnamaj al-Kutub al-Tis'ah) International tarqim (Kutub Tis'ah Program) 1723.01 4. Tarqim Fuad Abdul Baqi (Barnamaj al-Kutub al-Tis'ah) Tarqim Fuad Abdul Baqi (Kutub Tis'ah Program) 1039.02 6. Tarqim Shirkat Harf (Jami' Khadim al-Haramain li al-Sunnat al-Nabawiyah) Tarqim Harf Company (Khadim al-Haramain al-Sharifain Hadith Website) 2381 7. Tarqim Dar Ihya' al-Kutub al-Arabiyah (Jami' Khadim al-Haramain li al-Sunnat al-Nabawiyah) Tarqim Dar Ihya' al-Kutub al-Arabiyah (Khadim al-Haramain al-Sharifain Hadith Website) 1039.02 8. Tarqim Dar al-Salam Tarqim Dar al-Salam 2395 Hukm 'ala al-hadith × Ism al-Alim al-Hukm 1. Ijma' Ulama al-Muslimeen Ahadith Sahih Muslim kulluha sahihah Tamheed Bab × Tamheed Kitab × "Zakat" Zaka. Yazko. Zakat se hai. Is ka lughawi ma'ani ugna aur badhna hai. Badhotri tabhi mumkin hai jab ugne wali cheez afaat-o-amraz se pak ho, zaka ka ek ma'ani achha ya pak hona bhi hai. Arab kehte hain. Zakkatil Ardh is ka ma'ani hai. Taba ya'ani zameen achhi saf suthri ho gayi. Tazkiya isi se hai. Nufoos ka tazkiya yeh hai ke in ko afaat, bahut se amraz aur alaishon se pak kiya jaye. Insan ko Allah Ta'ala fitrat-e-saleemah ata karke duniya mein bhejta hai. Maa baap aur doosre qareebi log uski fitrat ko aalooda kar dete hain. Sab se zyada aaloodgi yeh hoti hai ke insan wujood ata karne wale aur palne wale Allah ki muhabbat ke bajaye maddi ashiya ki muhabbat mein mubtala ho jata hai. Yeh marz baqi duniya ke tamam amraz ka sabab banta hai. Isi se hirs-o-havas, lalach, khud-gharzi, zulm, sarkashi, tughyan, gharz sab beemariyan paida hoti aur badhti hain. Ambiya-e-Karam khususan Muhammad Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ki ba'asat ke bunyadi maqasid mein se ek maqsad nufoos-e-insani ka tazkiya karna, ya'ani unhein un tamam muhlik beemariyon se nijat dilana hai, Allah ka irshad hai "Huwalladhi ba'asa fil ummiyyeena rasoolam minhum yatloo alaihim ayatihi wa yuzakkihim wa yu'allimuhumul kitaba wal hikmata wa in kanu min qablu lafi dhalalim mubeen." "Woh jis ne ummiyon (anpadhon) mein unhi mein se ek Rasool mab'oos kiya jo un ke samne is ki ayaat padhta hai aur unhein pak karta hai aur unhein kitab-o-hikmat sikhata hai, yaqeenan woh is se pehle khuli gumrahi mein the." (Al-Jumu'ah. 2:62) Vaise to tamam arkan-e-Islam tazkiya-e-nufoos ka zariya hain, in mein se zakat ba-tor-e-khas is maqsad ke liye muqarrar ki gayi hai. Quran Majeed mein sadaqat aur Allah ki rah mein maal dene ko tazkiye ka zariya bataya gaya hai. Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) se kaha gaya: "Khudh min amwalihim sadaqatan tutahhiruhum wa tuzakkihim biha wa salli alaihim." "Un ke malon mein se sadaqa (zakat) len, is ke zariye se unhein pak karen, unhein saf suthra karen aur un ko dua den." (At-Tawbah. 9:103) Apna tazkiya Allah ki rah mein maal de kar kiya ja sakta hai, irshad-e-Bari Ta'ala hai: "Alladhi yu'ti malahu yatazakka." "Jo apna maal deta hai pak hone ke liye." (Al-Layl. 18:92) Imam Ibn Taymiyyah (Rahmatullah Alaih) farmate hain: "Nafsul mutasaddiq tazku wa malahu yazko (ai) yutahhiru wa yazidu fil ma'ani." "Sadaqa dene wala khud bhi pak hota hai aur uska maal bhi pak hota hai..." (Majmoo' al-Fatawa li Ibn Taymiyyah (Rahmatullah Alaih) 8/25) Is ke maqasid mein se ek mu'asat bhi hai. Bunyadi usool yeh hai. (Tu'khadh min aghniya'ihim wa turaddu ila fuqara'ihim) "Un ke maldaroon se liya jaye aur un ke faqiron par lautaya jaye." Is lihaz se zakat ki sahih adaigi ummat ki ijtima'iyat aur yak-jehti ki zamin hai. Islam ne zakat bunyadi tor par unhi amwal mein muqarrar ki hai. Jin mein badhotri (namoo) hoti hai, ya'ani maweshi, kheti badi, mal-e-tijarat aur naqdi jin mein baqi tamam amwal ki qadar mehfooz rakhi ja sakti hai. Yeh bhi Islam ki rahmat ka mazhar hai. Ke zakat ka ek nisab muqarrar kiya gaya hai. Maqsood yeh hai ke jin logon ke pas bunyadi zaroorat'on ki takmeel ke baad kuch za'id ho. Un se zakat vasool ki jaye, jin ke pas bunyadi zaroorat'on ke liye bhi maal na ho ya kam ho un ko chhoot di jaye balkey un ki madad ki jaye. Jadeed mu'ashiyat ne tax ke hawale se bunyadi chhoot ka tasawwur nisab-e-zakat hi se liya hai. Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ne bahut asan aur jami' lafzon mein bahut khubsurti ke sath is nisab ko yun bayan farmaya: () "Paanch vasq se kam mein sadaqa nahi aur na paanch oonton se kam mein sadaqa hai. Aur na paanch oqiyah se kam chandi mein sadaqa hai." Aur aap (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ne apni paanchon ungliyon se ishara kiya. Yahi Kitab az-Zakat mein Imam Muslim (Rahmatullah Alaih) ki laye hui pehli hadith hai. Vasq mapne ka paimana hai. Ghallah, khushk khajoorain, kishmish waghera ka len den vasq se map kar hota tha. Pani aur doosri maya' ashiya ko bhi isi paimanay se mapa jata tha. Ek vasq sath saa' ka hota hai. Is bare mein agarche Ibn Majah, Abu Dawud, aur Nisai mein marfoo' ahadith bhi maujood hain lekin woh sab ki sab zaeef hain. (At-Talkhis al-Jiyr li Ibn Hajar 169/2, raqam: 841-842) Is hawale se a'temad is baat par hai ke is miqdar par ijma' hai. (Majmoo' al-Fatawa li Ibn Taymiyyah (Rahmatullah Alaih) 447/5) Saa' ki miqdar par albattah Ahle Kufa aur Ahle Hijaz ya yun keh lijiye tamam a'imma (Malik, Shafi'i, Ahmad (Rahmatullah Alaih)) ke darmiyan ikhtilaf hai. Hijaz mein zar'i ajnas ke len den ka numayan markaz Madinah tha. Un ka saa' hi Hijazi saa' kehlata tha. Kufa mein Hajjaj bin Yusuf ne jo saa' muta'arraf karwaya tha woh Hijazi saa' se nisbatan bada tha, usay saa' Iraqi ya saa' Hajjaji kaha jata tha. Ahle Kufa ek saa' ko wazan mein 8 ratl ke barabar qarrar dete hain jabke Ahle Hijaz 5.3 ratl ke barabar. Imam Abu Yusuf aur kayi doosre Ahle Kufa ne Hajj ke mauqe par ziyarat-e-Madinah ke dauran mein jab pata lagana chaha ke Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ka saa' kitna tha to kaseer ta'daad mein Muhajireen aur Ansar ke beton ne apney apney gharon se apney khandani saa', jo Sahaba (Raziallahu Anhu) istemal karte rahe the, la kar dikhaye, Imam Abu Yusuf (Rahmatullah Alaih) ne kaha: Main ne un ki miqdar janchee to woh sab aapas mein musawi aur 5.3 ratl ke barabar the. (Fa-ra'aitu amran qawiyyan fa-qad taraktu qawla Abi Hanifah fis saa'i wa akhadhtu bi-qawli ahlil Madinah) "Main ne bahut pukhta baat dekhi to main ne saa' ke bare mein Abu Hanifah ka qaul chhod diya aur Ahle Madinah ka qaul le liya." (Sunan al-Kubra lil Bayhaqi: 171:4 wa Sunan ad-Darqutni: 150:2 hadith 2105 T: Darul Kutub al-Ilmiyah... Imam Shawkani (Rahmatullah Alaih) is ki sanad ko jayyid qarrar dete hain) Jadeed muhaqqiqeen ne aaj kal ke hisab se saa' ka wazan maloom kiya to woh un ke khayal ke mutabiq 2176 gram banta hai. (Fiqh az-Zakat lid Doktor Yusuf al-Qardawi 372/1) Gandum ke paanch vasq 653 kilogram bante hain. (Fiqh az-Zakat lid Doktor Yusuf al-Qardawi: 373/1) Ek oqiyah mein chalis dirham hote hain, ek dirham ka wazan jadeed tehqeeq ke mutabiq 2.975 gram banta hai, is tarah ek oqiyah ka wazan ek sau unnees gram aur paanch oqiyah chandi ka wazan paanch sau pichchanve gram banta hai. Is ke tole banaye jayen to taqreeban ikyawan tole bante hain. Sabqa andaza sadhe baawan tole chandi ka tha jo is miqdar ke qareeb hi tha. Sone ke nisab-e-zakat ka tazkirah sahihain ki ahadith mein nahi. Imam Abu Dawud (Rahmatullah Alaih) ne Hazrat Ali (Raziallahu Anhu) ke hawale se hadith bayan ki hai, is ke alfaaz hain: () "Tum par koi cheez (ba-tor-e-zakat ada karna) farz nahi, ya'ani sone mein jab tak tumhare pas (kam az kam) bees dinar na ho. Jab tumhare pas bees dinar hon aur un par saal guzar jaye to un mein adha dinar (zakat) hai, jo is se zyada hoga wohi is hisab ke mutabiq (mehsoob) hoga." (Sunan Abi Dawud, az-Zakat Bab fi az-Zakat al-Sa'imah hadith 1573. Qazi Iyadh (Rahmatullah Alaih) kehte hain: Sone ke nisab par ijma' hai. Sone ke dinar mein chaubis qirat hote hain. Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ke daur mein Rumi aur Irani dinar istemal hote the. Abdul Malik bin Marwan ne zakat ke nisab ko pesh-e-nazar rakhte hue, ahle ilm ke ittifaq se jo dinar dhaley aur jin ke mutabiq sadion tak dinar dhaley jate rahe woh dinar mil bhi chuke hain. In dinaron ke wazan ke mutabiq sone ki zakat ka nisab 85 gram banta hai. Yeh Bar-e-Saghir Pak-o-Hind mein sone ke nisab ka jo hisab lagaya gaya tha woh sadhe saat tole tha, is ke satasi gram bante hain, ya'ani mahaz do gram zyada. Ab taqreeban pure aalam-e-Islam ka 85 gram par ittifaq hai. Naqdi: Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ke ahd-e-mubarak mein sone chandi ya un ke dhaley hue sikke ba-tor-e-naqdi istemal hote the. Ulama-e-ummat ka ijma' hai ke currency ko unhi par qiyas kiya jayega. Maghribi ist'imar ke ghalbe ke baad duniya mein kaghaz ki currency ra'ij hui. Har mulk aisi currency sone ya chandi ki bunyad par jari karta tha. (Khazanay mein currency ke musawi ya ek khas tanasub se sona ya chandi ka maujood hona zaroori tha) Kuch arse baad yeh bunyad bhi khatam ho gayi, ab currency ki bunyad na sone par hai na chandi par. Ab logon ke pas maujooda currency par zakat ka nisab kya hoga? Baaz log kehte hain ise chandi ke nisab par qiyas kiya jaye. Baaz sone ke nisab par qiyas karne ke qa'il hain. Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ke zamaney mein chandi aur sone donon ka nisab qeemat ya maliyat ke a'tebar se musawi tha lekin baad mein chandi apni qeemat barqarar na rakh saki, baqi ashiya jin par zakat farz hai. Maslan bher, bakriyan, ya oont waghera un ki maliyat ke sath chandi ke nisab ki maliyat koi mutabiqat nahi rakhti, sadhe baawan tole chandi ki maliyat mein paanch chhey se zyada bakriyan nahi khareedi ja saktin. Doosri taraf sone ki qeemat bhi ghair mutanasib tareeqe par zyada ho rahi hai. Ab currency ki zakat ka masla intehai sanjeeda ghaur-o-fikr ka mutaqazi hai. Imam Qurtubi (Rahmatullah Alaih) ne Abu Ubaid Qasim bin Sallam (Rahmatullah Alaih) ke hawale se likha hai. Ke Islam ke ibtedai daur mein Irani aur Rumi donon qismon ke dirham mutadawal the. Ek doosre ka adha tha. Ek ka wazan aath daniq tha aur doosre ka char daniq, log donon ko musawi tor par mila kar ya'ani aadhe bade aur aadhe chhote dirhamon se apney mu'amalat tay kiya karte the. Islam aaya to logon ne zakat ki adaigi ke liye یہی طریقہ اختیار کیا۔ وہ سو ایرانی اور سو رومی درہموں کو ملا کر ان سے زکاۃ کے نصاب کا تعین کرتے۔ دونوں کو مساوی تعداد میں ملانے سے پانچ اوقیہ چاندی کا نصاب پورا ہوجاتا، اسی طرح زکاۃ ادا کی جاتی۔ عبدالملک نے جب اپنے درہم ڈھلوانے کا ارادہ کیا تو تمام اہل علم کو جمع کیا۔ انھوں نے درہم کا وزن، دونوں درہموں کی اوسط، یعنی 4 اور 8 دانق کا نصف 6 دانق مقرر کیا۔ اس طرح سے دو سو درہموں میں پانچ اوقیہ چاندی پوری ہوجاتی تھی۔ اگر سونے کی قیمتیں اسی طرح غیر متناسب انداز میں بڑھتی رہیں تو ایسا کیا جاسکتا ہے کہ کرنسی کے لیے چاندی کے نصاب کی مالیت کا نصف سونے کی نصاب کی مالیت کا نصف ملا کر مقدار نصاب متعین کرلیا جائے۔ اس کے لیے پورے عالم اسلام کے حوالے سے اہل علم کا اجماع حاصل کرنا ناگزیر ہوگا۔ فی الحال یہی مناسب ہے کہ جب تک سونے کے نصاب اور چاندی کو چھوڑ کر باقی اشیاء کے نصاب کی قیمتیں قریب قریب رہتی ہیں سونے کے نصاب کو کرنسی کے نصاب کی بنیاد بنایا جائے۔ کتاب الذکاۃ میں امام مسلم (رحمۃ اللہ علیہ) نے جس ترتیب سے احادیث بیان کی ہیں، اس کے بارے میں امام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں: امام مسلم (رحمۃ اللہ علیہ) نے امام مالک (رحمۃ اللہ علیہ) کی موطا کی طرح اپنی صحیح میں صحت کے اعلیٰ ترین معیار پر احادیث ترتیب دی ہیں۔ انھوں نے پہلے چاندی کا نصاب ذکر کیا ہے۔ پھر اونٹوں کا، پھر اجناس خوردنی اور خشک پھلوں کا، پھر مویشی اور دیگر اشیاء کا، پھر یہ کہ ایک سال گزرنا ضروری ہے۔ اس غرض سے حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ)، عمر (رضی اللہ عنہ)، اور ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے روایتیں بیان کیں، اس میں اگرچہ حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) اور حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) اختلاف کرتے ہیں، لیکن دو خلفائے راشدین (رضوان اللہ عنہم اجمعین) نے جو کیا ہے وہ اس لیے راجح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔ "علیکم بسنتی و سنت الخلفاء الراشدین المھدین من بعدی" "تم میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔" (شرح مشکل الآثار 3/223 حدیث 1186، نیز دیکھئے، سنن ابن ماجہ حدیث 42، 43، وسنن ابی داود حدیث، 4607، 4608) اور یہ بھی فرمایا: "فان یطیعوا ابا بکر و عمر یرشدوا" "اگر وہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اور عمر (رضی اللہ عنہ) کی اطاعت کریں تو راہنمائی پائیں گے۔" (صحیح مسلم حدیث 681) اس کے بعد امام مسلم (رحمۃ اللہ علیہ) نے سونے کی زکاۃ کا ذکر کیا ہے۔ کیونکہ اس کی دلیل کی قوت نسبتاً کم ہے۔ پھر ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں زکاۃ فرض کی گئی ہے۔ اس حوالے سے قرآن کی آیات اور احادیث بیان کی ہیں۔ ان میں بہترین حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی روایت اور زکاۃ کے بارے میں آپ کا مکتوب ہے۔ ان کے بعد وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت لائے ہیں۔ (مجموع فتاویٰ لابن تیمیہ 25:9)