31.
Book of Leaders
٣١-
كِتَابُ الْأُمَرَاءِ
What was mentioned about the traditions of rulers and visiting them
مَا ذُكِرَ مِنْ حَدِيثِ الْأُمَرَاءِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهِمْ
Musannaf Ibn Abi Shaybah 30629
Anas ibn Malik narrated that a man from the Ansar and a man from among his companions set out from Medina, both riding one camel, taking turns riding it until they reached the Messenger of Allah (ﷺ). The Ansari man fell sick and his friend stayed with him until he died. His companion then came to the Messenger of Allah (ﷺ), and said: "O Messenger of Allah! So-and-so died on the way, and I bear witness that he testified that there is no deity worthy of worship but Allah alone, and that you are His Messenger, and that he prayed such and such prayers, and fasted such and such fasts." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Did anything prevent you from informing me (of his death) when he died?" He said: "His camel was one which we were taking turns riding, and I did not like to leave him." He (ﷺ) said: "Wash him with your water and your lotus leaves." So he washed him, shrouded him (in his clothes) and prayed over him. Then he (ﷺ) said to his companions: "Go out with your brother and bury him in the place where he died, and pray the funeral prayer over him in that place."
احنف بن قیس (رض) کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور ہم حج کے لیے جانا چاہتے تھے، کہتے ہیں میں چل کر طلحہ (رض) اور زبیر (رض) کے پاس آیا اور کہا کہ تم مجھے کس کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور کس کو میرے لیے پسند کرتے ہو ؟ کیونکہ میرے خیال میں تو یہ صاحب یعنی حضرت عثمان (رض) قتل ہوجائیں گے، فرمانے لگے کہ ہم تمہیں علی (رض) کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے کہا کیا تم مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیتے ہو اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہو ؟ فرمانے لگے جی ہاں ! کہتے ہیں کہ پھر میں حج کو چلا گیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گیا ، ہم وہیں تھے کہ ہمیں حضرت عثمان (رض) کے قتل کی خبر پہنچی، اور حضرت عائشہ (رض) بھی وہیں تھیں میں ان سے ملا اور پوچھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم فرماتی ہیں ؟ فرمانے لگیں کہ حضرت علی (رض) کی بیعت کا ، میں نے کہا کیا آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم کرتی ہیں اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں ؟ فرمانے لگیں جی ہاں ! اس کے بعد میں مدینہ میں حضرت علی کے پاس سے گزرا تو میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی، پھر میں بصرہ چلا گیا اور میرا خیال تھا کہ معاملہ صاف ہوگیا ہے۔ اس دوران ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ حضرت عائشہ (رض) حضرت طلحہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) خُریبہ کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں میں نے کہا وہ کس لیے تشریف لائے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ وہ آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ سے حضرت عثمان (رض) کے خون کے بارے میں مدد لیں، کیونکہ ان کو ظلماً قتل کیا گیا ہے، کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں اتنا گھبرا گیا کہ اس سے پہلے اتنی گھبراہٹ مجھ پر نہیں آئی تھی، اور میں نے سوچا کہ میرا ان حضرات کو چھوڑ دینا جن کے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ہیں نہایت سخت بات ہے، اور اسی طرح میرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد سے قتال کرنا بعد ازاں کہ یہ حضرات مجھے ان کی بیعت کا حکم بھی فرما چکے ہیں بہت ہی مشکل کام ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس پہنچا تو وہ فرمانے لگے کہ ہم آپ کے پاس آئے ہیں اور ہم آپ سے حضرت عثمان (رض) کے خون کے خلاف مدد لینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین ! میں آپ کو اللہ عزوجل کی قسم دیتا ہوں آپ بتائیں کہ کیا میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ علی کی ، اور پھر میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتی اور ان کو میرے لیے پسند کرتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں ! فرمانے لگیں ایسا ہی ہوا ہے لیکن حضرت علی بدل گئے ہیں ، پھر میں نے کہا اے زبیر ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ! اے طلحہ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میں نے تمہیں کہا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا : علی کی، میں نے پوچھا تھا کہ کیا واقعی آپ مجھے ان کی بیعت کا حکم دیتے اور ان کو میرے لیے پسند کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا جی ہاں ! کہنے لگے کیوں نہیں، ایسا ہی ہے ، لیکن وہ بدل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میں تمہارے ساتھ قتال نہیں کروں گا کیونکہ تمہارے ساتھ ام المؤمنین اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ہیں، اور نہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد ہی سے لڑوں گا جن کی بیعت کا تم نے مجھے حکم دیا ہے۔ میری تین باتوں میں سے ایک قبول کرلو ! یا تو میرے لیے پل کا راستہ کھول دو ، میں عجمیوں کے علاقے میں چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں فیصلہ فرمائیں، یا میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں اور وہیں رہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرما دیں، یا میں علیحدگی اختیار کر کے قریب ہی کہیں رہنے لگوں، فرمانے لگے کہ ہم مشورہ کرتے ہیں، پھر ہم آپ کے پاس پیغام بھیج دیں گے، چنانچہ انھوں نے مشورہ کیا ، اور فرمایا کہ اگر ہم اس کے لیے پل کا راستہ کھول دیتے ہیں تو جو شخص لشکر سے جدا ہونا چاہے گا یا ناکام اور پسپا ہوجائے گا وہ اس کے پاس چلا جائے گا ، اور اگر اس کو مکہ مکرمہ بھیج دیا جائے تو قریش مکہ سے تمہاری خبریں لیتا رہے گا اور تمہاری خبریں انھیں پہنچاتا رہے گا، یہ کوئی درست فیصلہ نہیں ہے، اس کو یہیں قریب ہی رکھو جہاں تم اس کو اپنے لیے نرم گوش بھی رکھو گے اور اس کی نگرانی بھی کرسکو گے۔ چنانچہ وہ بصرہ سے مقام ” جلحائ “ میں علیحدہ ہوگئے اور ان کے ساتھ چھ ہزار کے لگ بھگ آدمی بھی مل گئے، پھر ان کی مڈبھیڑ ہوئی تو سب سے پہلے قتل ہونے والے حضرت طلحہ اور کعب بن مسور تھے جن کے پاس قرآن کریم کا نسخہ تھا جو دونوں جماعتوں کو نصیحت کر رہے تھے یہاں تک کہ انہی جماعتوں کے درمیان شہید ہوگئے، اور حضرت زبیر بصرہ کے مقام پر سفوان میں پہنچ گئے، اتنا دور جتنا کہ تم سے مقام قادسیہ ہے، چنانچہ ان کو قبیلہ مجاشع کا ایک نعر نامی آدمی ملا اور پوچھا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ میرے ساتھ آئیے آپ میرے ضمان میں ہیں، آپ تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا، چنانچہ آپ اس کے ساتھ چلے گئے، چنانچہ ایک آدمی احنف کے پاس آیا اور کہا زبیر یہاں سفوان میں پہنچ گئے ہیں، اس نے کہا کہ اب وہ بےخوف کیسے رہ سکتے ہیں جبکہ انھوں نے مسلمانوں کو اس طرح جمع کردیا کہ ان میں سے بعض بعض کے سروں کو مارنے لگے پھر یہ اپنے گھر کو واپس چلے جارہے ہیں۔ یہ بات عمیر بن جرموذ اور بنو تمیم کے بدمعاشوں نے سن لی، اسی طرح فضالہ بن عبید اور نفیع نے بھی، چنانچہ وہ ان کا پیچھا کرنے لگے اور ان کی حضرت زبیر کے ساتھ ملاقات ہوئی جبکہ حضرت زبیر نعر کے ساتھ تھے، عمیر بن جرموذ ان کے پیچھے آیا جبکہ وہ ایک کمزور سے گھوڑے پر سوا ر تھا، اور آ کر ان کو ہلکی سی ضرب لگائی ، حضرت زبیر (رض) نے اس کا پیچھا کیا جبکہ وہ اپنے ذوالخمار نامی گھوڑے پر سوار تھے، جب اس کو یقین ہوگیا کہ وہ حضرت زبیر کی پہنچ میں آگیا ہے تو اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی اے نفیع ! اے فضالہ ! چنانچہ انھوں نے حضرت زبیر پر حملہ کیا اور آپ کو قتل کردیا۔
Ahnaf bin Qais (RA) kehte hain ki hum Madina aye aur hum Hajj ke liye jana chahte thay, kehte hain main chal kar Talha (RA) aur Zubair (RA) ke pass aya aur kaha ki tum mujhe kiske saath rehne ka hukum dete ho aur kisko mere liye pasand karte ho? Kyunki mere khayal mein toh yeh sahib yani Hazrat Usman (RA) qatl hojaenge, farmane lage ki hum tumhein Ali (RA) ke saath rehne ka hukum dete hain, maine kaha kya tum mujhe inke saath rehne ka hukum dete ho aur inko mere liye pasand karte ho? Farmane lage ji haan! Kehte hain ki phir main Hajj ko chala gaya yahan tak ki Makkah Mukarramah pahunch gaya, hum wahin thay ki humein Hazrat Usman (RA) ke qatl ki khabar pahunchi, aur Hazrat Ayesha (RA) bhi wahin thin main inse mila aur poocha ki aap mujhe kiski bai'at ka hukum farmati hain? Farmane lageen ki Hazrat Ali (RA) ki bai'at ka, maine kaha kya aap mujhe inki bai'at ka hukum karti hain aur inko mere liye pasand karti hain? Farmane lageen ji haan! Iske baad main Madina mein Hazrat Ali ke pass se guzra toh maine inke haath par bai'at karli, phir main Basra chala gaya aur mera khayal tha ki maamla saaf hogaya hai. Is dauran ek aane wala mere pass aya aur kaha ki Hazrat Ayesha (RA), Hazrat Talha (RA) aur Hazrat Zubair (RA) Khuraiba ke kinarey padav dale hue hain maine kaha woh kis liye tashreef laye hain? Logon ne kaha ki woh aapke pass isliye aye hain ki aapse Hazrat Usman (RA) ke khoon ke bare mein madad len, kyunki inko zulman qatl kiya gaya hai, kehte hain ki yeh sunkar main itna ghabraya ki isse pehle itni ghabrahat mujh par nahin aayi thi, aur maine socha ki mera in hazrat ko chhod dena jinke saath Ummul Momineen aur Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hawari hain nihayat sakht baat hai, aur isi tarah mera Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke chachazad se qatal karna baad azaan ki yeh hazrat mujhe inki bai'at ka hukum bhi farma chuke hain bahut hi mushkil kaam hai. Farmatay hain ki jab main inke pass pahuncha toh woh farmane lage ki hum aapke pass aye hain aur hum aapse Hazrat Usman (RA) ke khoon ke khilaaf madad lena chahte hain. Maine arz kiya aye Ummul Momineen! Main aapko Allah Azzawajal ki qasam deta hun aap bataen ki kya maine aapse yeh poocha tha ki aap mujhe kiski bai'at ka hukum deti hain? Aapne farmaya tha ki Ali ki, aur phir maine aapse yeh bhi poocha tha ki kya waqai aap mujhe inki bai'at ka hukum deti aur inko mere liye pasand karti hain? Aapne farmaya tha ji haan! Farmane lageen aisa hi hua hai lekin Hazrat Ali badal gaye hain, phir maine kaha aye Zubair! Aye Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hawari! Aye Talha! Main aapko Allah ki qasam de kar kehta hun ki kya maine tumhen kaha tha ki aap mujhe kiski bai'at ka hukum dete hain? Aapne farmaya tha: Ali ki, maine poocha tha ki kya waqai aap mujhe inki bai'at ka hukum dete aur inko mere liye pasand karte hain? Aapne farmaya tha ji haan! Kehne lage kyun nahin, aisa hi hai, lekin woh badal gaye hain. Kehte hain ki maine arz kiya ki main tumhare saath qatal nahin karunga kyunki tumhare saath Ummul Momineen aur Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hawari hain, aur na main Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke chachazad hi se ladhoonga jinki bai'at ka tumne mujhe hukum diya hai. Meri teen baaton mein se ek qubool karlo! Ya toh mere liye pul ka rasta khol do, main Ajamion ke ilaqay mein chala jata hun yahan tak ki Allah Ta'ala jo chahein faisla farmaen, ya main Makkah Mukarramah chala jaun aur wahin rahun yahan tak ki Allah Ta'ala apni mashiyat ke mutabiq faisla farma den, ya main alagidgi ikhtiyar kar ke qareeb hi kahin rehne lagaun, farmane lage ki hum mashwara karte hain, phir hum aapke pass paigham bhej denge, chunancha unhon ne mashwara kiya, aur farmaya ki agar hum iske liye pul ka rasta khol dete hain toh jo shakhs lashkar se juda hona chahega ya nakaam aur paspa hojaega woh iske pass chala jaega, aur agar isko Makkah Mukarramah bhej diya jae toh Quresh Makkah se tumhari khabrain leta rahega aur tumhari khabrain inhen pahunchata rahega, yeh koi durust faisla nahin hai, isko yahin qareeb hi rakho jahan tum isko apne liye narm gosh bhi rakhoge aur iski nigrani bhi karsakoge. Chunancha woh Basra se maqam "Jilhai" mein alag hogaye aur inke saath chhe hazaar ke lag bhag aadmi bhi mil gaye, phir inki midbhidh hui toh sabse pehle qatl hone wale Hazrat Talha aur Ka'ab bin Masoor thay jinke pass Quran Kareem ka nus'kha tha jo dono jamaaton ko nasihat kar rahe thay yahan tak ki inhi jamaaton ke darmiyan shaheed hogaye, aur Hazrat Zubair Basra ke maqam par Safwan mein pahunch gaye, itna door jitna ki tumse maqam Qadisiyyah hai, chunancha inko qabeela Mujasha ka ek Na'ar nami aadmi mila aur poocha aye Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hawari! Aap kahan ja rahe hain? Mere saath aaiye aap mere zaman mein hain, aap tak koi nahin pahunch sakega, chunancha aap iske saath chale gaye, chunancha ek aadmi Ahnaf ke pass aya aur kaha Zubair yahan Safwan mein pahunch gaye hain, isne kaha ki ab woh bekhauf kaise reh sakte hain jabki inhon ne Musalmanon ko is tarah jama kardiya ki in mein se baaz baaz ke saron ko marne lage phir yeh apne ghar ko wapas chale ja rahe hain. Yeh baat Umair bin Jarmuz aur Banu Tamim ke badmaashon ne sun li, isi tarah Fazalah bin Ubaid aur Nafi' ne bhi, chunancha woh inka peechha karne lage aur inki Hazrat Zubair ke saath mulaqat hui jabki Hazrat Zubair Na'ar ke saath thay, Umair bin Jarmuz inke peechhe aya jabki woh ek kamzor se ghode par sawaar tha, aur aakar inko halki si zarb lagai, Hazrat Zubair (RA) ne iska peechha kiya jabki woh apne Zul Khamar nami ghode par sawar thay, jab isko yaqeen hogaya ki woh Hazrat Zubair ki pahunch mein aagaya hai toh apne saathiyon ko aawaz lagai aye Nafi'! Aye Fazalah! Chunancha inhon ne Hazrat Zubair par hamla kiya aur aapko qatl kardiya.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : « قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ » ، قَالَ الْأَحْنَفُ : " فَانْطَلَقْتُ فَأَتَيْتُ طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرَانِنِي بِهِ وَتَرْضَيَانِهِ لِي ، فَإِنِّي مَا أَرَى هَذَا إِلَّا مَقْتُولًا " يَعْنِي عُثْمَانَ ، قَالَا : نَأْمُرُكَ بِعَلِيٍّ ، قُلْتُ : « تَأْمُرَانِنِي بِهِ وَتَرْضَيَانِهِ لِي » ، قَالَا : نَعَمْ ، " ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَاجًّا حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ بِهَا إِذْ أَتَانَا قَتْلُ عُثْمَانَ ، وَبِهَا عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَلَقِيتُهَا فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرِينَنِي بِهِ أَنْ أُبَايِعَ " ، قَالَتْ : عَلِيٌّ ، قُلْتُ : « أَتَأْمُرِينَ بِهِ وَتَرْضِينَهُ ؟» قَالَتْ : نَعَمْ ، « فَمَرَرْتُ عَلَى عَلِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَبَايَعْتُهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْبَصْرَةِ وَأَنَا أَرَى أَنَّ الْأَمْرَ قَدِ اسْتَقَامَ ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ أَتَانِي آتٍ » فَقَالَ : هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ قَدْ نَزَلُوا جَانِبَ الْحَرْبِيَّةِ ; قَالَ فَقُلْتُ : « مَا جَاءَ بِهِمْ ؟» قَالُوا : أَرْسَلُوا إِلَيْكَ يَسْتَنْصِرُونَكَ عَلَى دَمِ عُثْمَانَ ، قُتِلَ مَظْلُومًا ، قَالَ : « فَأَتَانِي أَفْظَعُ أَمْرٍ مَا أَتَانِي قَطُّ » ، قَالَ : قُلْتُ : « إِنَّ خِذْلَانَ هَؤُلَاءِ وَمَعَهُمْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ وَحَوَارِيُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَشَدِيدٌ ، وَإِنَّ قِتَالَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَمَرُّ وَقَدْ أَمَرُونِي لِبَيْعَتِهِ لَشَدِيدٌ » ، قَالَ : « فَلَمَّا أَتَيْتُهُمْ » قَالُوا : جِئْنَا نَسْتَنْصِرُكَ عَلَى دَمِ عُثْمَانَ ; قُتِلَ مَظْلُومًا ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أُنْشِدُكَ بِاللَّهِ ، أَقُلْتِ ؟: مَا تَأْمُرِينَنِي ؟ " فَقَالَتْ : عَلِيٌّ ، فَقُلْتُ : « تَأْمُرِينَنِي بِهِ وَتَرْضِينَهُ لِي ؟» قَالَتْ : نَعَمْ ، وَلَكِنَّهُ بَدَّلَ ، فَقُلْتُ : " يَا زُبَيْرُ ، يَا حَوَارِيَّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، يَا طَلْحَةُ ، نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ : أَقُلْتُ لَكُمَا : مَنْ تَأْمُرَانِي بِهِ ، فَقُلْتُمَا : عَلِيًّا ، فَقُلْتُ : تَأْمُرَانِي بِهِ وَتَرْضَيَانِهِ لِي ، فَقُلْتُمَا : نَعَمْ " ، فَقَالَا : نَعَمْ ، وَلَكِنَّهُ بَدَّلَ قَالَ : قُلْتُ : " لَا أُقَاتِلُكُمْ وَمَعَكُمْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ وَحَوَارِيُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَلَا أُقَاتِلُ ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَمَرْتُمُونِي بِبَيْعَتِهِ ، اخْتَارُوا مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ : إِمَّا أَنْ تَفْتَحُوا لِي بَابَ الْجِسْرِ فَأَلْحَقَ بِأَرْضِ الْأَعَاجِمِ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ مِنْ أَمْرِهِ مَا قَضَى ، أَوْ أَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَأَكُونَ بِهَا حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ مِنْ أَمْرِهِ مَا قَضَى ، أَوْ أَعْتَزِلُ لَكَ فَأَكُونَ قَرِيبًا " ، فَقَالُوا : نُرْسِلُ إِلَيْكَ ، فَائْتَمَرُوا فَقَالُوا : نَفْتَحُ لَهُ بَابَ الْجِسْرِ فَلْيَلْحَقُ بِهِ الْمُنَافِقُ وَالْخَاذِلُ ، أَوْ يَلْحَقُ بِمَكَّةَ فَيَتَعَجَّلُكُمْ فِي قُرَيْشٍ وَيُخْبِرُهُمْ بِأَخْبَارِكُمْ ، لَيْسَ ذَلِكَ بِرَأْيٍ ، اجْعَلُوهُ هَهُنَا قَرِيبًا حَيْثُ تَطَأُونَ صِمَاخَهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَاعْتَزَلَ بِالْجَلْحَاءِ مِنَ الْبَصْرَةِ وَاعْتَزَلَ مَعَهُ زُهَاءُ سِتَّةِ آلَافٍ ، ثُمَّ الْتَقَى الْقَوْمُ ، فَكَانَ أَوَّلُ قَتِيلٍ طَلْحَةَ وَكَعْبَ بْنَ سَوْرٍ مَعَهُ الْمُصْحَفُ ، يُذَكِّرُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ حَتَّى قُتِلَ مِنْهُمْ مَنْ قُتِلَ ، وَبَلَغَ الزُّبَيْرُ صَفْوَانَ مِنَ الْبَصْرَةِ كَمَكَانِ الْقَادِسِيَّةِ مِنْكُمْ ، فَلَقِيَهُ النَّضْرُ : رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُجَاشِعٍ ، فَقَالَ : أَيْنَ تَذْهَبُ يَا حَوَارِيَّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، إِلَيَّ فَأَنْتَ فِي ذِمَّتِي ، لَا يُوصَلُ إِلَيْكَ ، فَأَقْبَلَ مَعَهُ ; فَأَتَى إِنْسَانٌ الْأَحْنَفَ فَقَالَ : هَذَا الزُّبَيْرُ قَدْ لَحِقَ صَفْوَانَ ، قَالَ : " فَمَا جَمَعَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى ضَرَبَ بَعْضُهُمْ حَوَاجِبَ بَعْضٍ بِالسُّيُوفِ ، ثُمَّ لَحِقَ بِبَنِيهِ وَأَهْلِهِ ، قَالَ : فَسَمِعَهُ عُمَيْرُ بْنُ جُرْمُوزٍ وَغُوَاةٌ مِنْ غُوَاةِ بَنِي تَمِيمٍ وَفُضَالَةُ بْنُ حَابِسٍ وَنُفَيْعٌ فَرَكِبُوا فِي طَلَبِهِ فَلَقُوهُ مَعَ النَّضْرِ ، فَأَتَاهُ عُمَيْرُ بْنُ جُرْمُوزٍ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ ضَعِيفَةٍ ، فَطَعَنَهُ طَعْنَةً خَفِيفَةً ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ الزُّبَيْرُ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ « ذُو الْخِمَارِ » حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَاتِلُهُ نَادَى صَاحِبَهُ يَا نُفَيْعُ ، يَا فُضَالَةُ ، فَحَمَلُوا عَلَيْهِ حَتَّى قَتَلُوهُ "