44.
Book of Military Campaigns
٤٤-
كِتَابُ الْمَغَازِي


The Hadith of the Conquest of Mecca

‌حَدِيثُ فَتْحِ مَكَّةَ

Musannaf Ibn Abi Shaybah 36900

Hazrat Abu Salamah and Yahya bin Abdur Rahman bin Hatib both narrate that there was a truce between the Messenger of Allah (peace be upon him) and the polytheists of Makkah. During this time, a conflict erupted between the tribes of Banu K'ab and Banu Bakr in Makkah. A petitioner from Banu K'ab came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Allah! I appeal to Muhammad by the old oath between him and his forefathers, asking for help. May Allah guide you, provide us with strong assistance, and call upon His servants to come and help." 2. A cloud passed by and thunder roared. The Prophet (peace be upon him) remarked, "This cloud is thundering for the aid of Banu K'ab." He then instructed Aisha (may Allah be pleased with her), "Prepare my belongings and do not inform anyone." Meanwhile, Abu Bakr (may Allah be pleased with him) visited Aisha and noticed her demeanor had changed. He asked, "What is the matter?" She replied, "The Messenger of Allah (peace be upon him) has instructed me to prepare his belongings." Abu Bakr asked, "For what purpose?" She answered, "For Makkah." Abu Bakr exclaimed, "By Allah, has the truce between us and them ended?" Then Abu Bakr went to the Prophet (peace be upon him) and mentioned this. The Prophet (peace be upon him) said, "They were the first to break the truce." 3. The Prophet (peace be upon him) then ordered the roads to be blocked, and he and the Muslims set out, surrounding Makkah without the people being aware. Abu Sufyan spoke to Hakim bin Hizam, saying, "By Allah, we have been surrounded. Shall we ride to see what the situation is?" Budeel bin Warqa’ of the Khuza'a tribe also joined them. They rode toward the hills of Marr az-Zahran. 4. As they passed a Pilu tree, the Prophet's guards, a group of Ansar, captured them. Umar ibn al-Khattab was in charge of the guards that night. The guards brought Abu Sufyan and the others to Umar, who laughed upon seeing them and said, "By Allah, if you had brought me Abu Sufyan himself, it would not have been more significant." The guards replied, "By Allah, we have indeed brought Abu Sufyan." Umar said, "Detain him." The companions detained Abu Sufyan until morning, when Umar brought him to the Prophet (peace be upon him). Abu Sufyan was asked to accept Islam, and after hesitation, he did. 5. Afterward, Abu Bakr remarked to the Prophet (peace be upon him), "O Messenger of Allah, Abu Sufyan is a man who loves fame." The Prophet (peace be upon him) responded, "Whoever enters Abu Sufyan's house will be safe, except for Ibn Khatal, Miqyas bin Subabah al-Laythi, Abdullah bin Sa’d bin Abi Sarh, and two women. Even if they cling to the curtains of the Ka’bah, they are to be killed." 6. As they returned, they encountered various tribes passing by. Abu Sufyan, curious, asked Abbas about each tribe. As the Prophet (peace be upon him) and his companions passed by with their armor gleaming, Abu Sufyan remarked, "O Abbas, your nephew has acquired a great kingdom." Abbas corrected him, "No, by Allah! This is prophethood, not kingship." 7. The Prophet (peace be upon him) then handed the flag to Sa’d bin Ubadah, who later passed it to his son, Qays bin Sa’d. Abu Sufyan rode ahead and informed the people of Makkah, "Whoever enters my house will be safe." The people began to gather in his house. 8. The Prophet (peace be upon him) entered Makkah and stopped at a place called Hajoon. He appointed Zubayr bin Al-Awwam as the leader of the cavalry in the upper part of the valley and Khalid bin Walid in the lower part. He declared, "Indeed, Makkah is the most beloved land of Allah. If I had not been forced out of it, I would never have left." 9. Ibn Khatal was found clinging to the curtains of the Ka'bah and was killed. Miqyas bin Subabah was killed between Safa and Marwa by a group from Banu K'ab, despite attempts by his cousin to protect him. 10. The Prophet (peace be upon him) then performed the circumambulation (Tawaf) of the Ka'bah. He asked Uthman bin Talha for the key to the Ka'bah. Initially, Uthman's mother refused, but upon his insistence, she relented. The Prophet (peace be upon him) entered the Ka'bah, praised Allah, and performed two units of prayer. 11. Later, Bilal ascended the roof of the Ka'bah and called the Adhan. Some, like Khalid bin Asid, were surprised that Bilal, a former slave, was given such an honor. 12. The Prophet (peace be upon him) then set out toward Hunain to confront the tribe of Hawazin. Initially, the Muslims were temporarily defeated, but Allah sent tranquility upon His Messenger and the believers. 13. After the battle, the Prophet (peace be upon him) distributed the spoils of war, giving generously to many, including a hundred camels to certain groups. However, some of the Ansar felt left out and expressed their feelings. 14. The Prophet (peace be upon him) gathered the Ansar and reminded them of how Allah had guided, enriched, and united them through him. The Ansar acknowledged this, and the Prophet (peace be upon him) reassured them of his love and connection to them.

حضرت ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین (مکہ) کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ تھا۔ اور بنو کعب بنو بکر کے درمیان مکہ میں لڑائی ہوگئی۔ بنی کعب کی طرف سے ایک فریادی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ ع اے خدا ! میں محمد کو اپنے اور اس کے آباء کی پرانی قسم دیتا ہوں۔ کہ تم مدد کرو۔ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ سخت مدد اور اللہ کے بندوں کو بلاؤ وہ مدد کے لیے آئیں گے۔ ٢۔ پس ایک بادل گزرا اور وہ کڑکا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لیے کھڑک رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے فرمایا : میرا سامان تیار کرو۔ اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔ پس (اسی دوران) حضرت عائشہ کے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انھوں نے امی عائشہ کی حالت کو متغیر پایا تو انھوں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامان تیار کروں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا۔ کہاں کے لیے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ مکہ کے لیے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ بخدا ! ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ ختم تو نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ان لوگوں نے پہلے غدر کیا ہے۔ ٣۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راستہ بند کرنے کا حکم دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مسلمان نکل پڑے اور اہل مکہ کو یوں گھیر لیا کہ ان کو کوئی خبر نہ مل سکی۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام سے کہا۔ اے حکیم ! بخدا ! ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے اور ہم ڈھک چکے ہیں۔ کیا تم اس کام کے لیے تیار ہو۔ کہ ہم یہاں سے مرالظہران تک سوار ہو کر (حالات) دیکھیں۔ شاید ہمیں کوئی خبر مل جائے۔ قبیلہ خزاعہ کے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ ابو سفیان اور حکم نے کہا۔ اگر تم چاہو تو چل پڑو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ سوار ہو کر جب مرالظہران کی پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اور گاٹی پر چڑھ گئے۔ ٤۔ پس جب یہ پیلو کے درخت سے آگے گزرے تو انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہرہ داروں نے ۔۔۔ انصاری صحابہ کی ایک جماعت نے پکڑ لیا۔ اس رات حضرت عمر بن خطاب پہرہ داروں پر ذمہ دار تھے۔ پہرہ دار صحابہ ان کو ۔۔۔ ابو سفیان وغیرہ کو لے کر حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آ کر کہنے لگے۔ ہم آپ کے پاس اہل مکہ میں سے چند لوگ پکڑ کر لائے ہیں۔ حضرت عمر۔۔۔ انھیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور ۔۔۔ فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم میرے پاس ابو سفیان کو لے آتے تو بھی کچھ زیادہ نہ ہوتا۔ پہرہ دار صحابہ نے کہا : خدا کی قسم ! ہم آپ کے پاس ابو سفیان ہی کو لائے ہیں۔ (اس پر) حضرت عمر نے فرمایا : اس کو بند کرلو۔ صحابہ نے ابو سفیان کو بند کرلیا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر حضرت عمر ابو سفیان کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو سفیان سے کہا گیا۔ بیعت (اسلام) کرلو۔ ابو سفیان نے کہا ۔۔۔ میں اس وقت یہی صورت یا اس سے بھی بدتر صورت ہی موجود پاتا ہوں۔ پھر اس نے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) بیعت کرلی۔ پھر حکیم بن حزام سے کہا گیا۔ تم (بھی) بیعت کرلو۔ اس نے کہا : میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ لیکن میں کھڑا ہی رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ہماری طرف سے بھی کھڑے رہنے کو قبول کرو۔ ٥۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابو سفیان ایک ایسا آدمی ہے جو شہرت کو پسند کرتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے سوائے ابن خطل ، مقیس بن صبابہ اللیثی، عبداللہ بن سعد بن سرح اور دو باندیاں۔ اگر تم ان (مستثنیٰ ) لوگوں کو کعبہ کے غلافوں میں بھی چمٹا ہوا پاؤ تو بھی ان کو قتل کر ڈالو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اگر آپ ابو سفیان کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو راستہ میں روک دیا جائے اور پھر آپ لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیں۔ پس حضرت عباس نے ابوسفیان کو راستہ میں پالیا (اور روک دیا) حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ کیا تم بیٹھو گے تاکہ کچھ نظارہ کرو ؟ ابو سفیان نے کہا : کیوں نہیں ! اور یہ (راستہ میں روکنا اور نظارہ دکھانا) سب کچھ صرف اس لیے تھا کہ ابو سفیان ان کی کثرت کو دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے۔ ٦۔ اسی دوران قبیلہ جہینہ کے لوگ گزرے تو ابو سفیان نے پوچھا : اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے جواب دیا : یہ جہینہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ مجھے اجہینہ والوں سے کیا مطلب ؟ خدا کی قسم ! میری اور ان کی کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ پھر قبیلہ مزینہ کے لوگ گزرے تو ابوسفیان نے پوچھا۔ اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا۔ یہ قبیلہ مزینہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ خدا کی قسم ! مزینہ اور میرے درمیان کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ پھر قبیلہ سلیم کے لوگ گزرے تو ابو سفیان نے کہا۔ اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا۔ یہ قبیلہ سلیم کے لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر (اس طرح) عرب کے گروہ گزرتے رہے اس دوران قبیلہ اسلم اور غفار بھی گزرے۔ ابو سفیان نے ان کے بارے میں پوچھا۔ اور حضرت عباس اس کو بتاتے رہے۔ ٧۔ یہاں تک کہ تمام لوگوں کے آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین اولین اور انصار کے ہمراہ لڑائی کے سامان کے ساتھ گزرے جو آنکھوں کو چندھیا رہا تھا۔ ابو سفیان نے کہا ۔ اے عباس ، یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے صحابہ ہیں جو مہاجرین اولین اور انصار کے ہمراہ ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا۔ میرا بھتیجا تو بڑی بادشاہی والا ہوگیا ہے۔ حضرت عباس نے کہا۔ نہیں ! بخدا ! یہ بادشاہی نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے۔ یہ لوگ دس ہزار یا بارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔ ٨۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ کو دیا اور پھر انھوں نے اپنے بیٹے قیس بن سعد کو دے دیا۔ اور ابو سفیان سوار ہو کر لوگوں سے آگے نکل گیا یہاں تک کہ اس نے پہاڑی سے اہل مکہ کو دیکھا۔ اہل مکہ نے اس سے پوچھا۔ تیرے پیچھے کیسا لشکر ہے ؟ اس نے جواب دیا ۔ میرے پیچھے بہت بڑی تعداد ہے۔ میرے پیچھے وہ لشکر ہے جس کی تمہیں طاقت نہیں میرے پیچھے ایسا لشکر ہے کہ جس کی مثال میں نے نہیں دیکھی۔ جو شخص میرے گھر میں داخل ہوجائے گا۔ وہ امن پا جائے گا۔ پس لوگوں نے حضرت ابوسفیان کے گھر میں زبردستی گھسنا شروع کردیا۔ ٩۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے بالائی حصہ میں مقام حجون پر ٹھہر گئے اور حضرت زبیر بن عوام کو گھڑ سواروں کے امیر کے طور پر وادی کے بالائی حصہ سے بھیجا۔ اور حضرت خالد بن الولید کو گھڑ سواروں پر مقرر فرما کر وادی کے نچلے حصہ میں بھیجا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” تحقیق تو (مکہ) خدا کی زمین کا بہترین حصہ ہے اور خدا تعالیٰ کی زمین میں سے خدا تعالیٰ کو محبوب ترین حصہ ہے۔ بخدا ! اگر مجھے تجھ سے نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔ اور (فرمایا) یہ قطعہ زمین مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں کار گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد اور کسی کے لیے حلال کیا جائے گا ۔ میرے لیے یہ دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ اور یہ موجودہ گھڑی ہے۔ یہ مکہ حرام ہے اس کے درخت کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے حبل (لوبیان کے مشابہ پھل) کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گمشدہ چیز کو کوئی بھی نہیں اٹھائے گا الا یہ کہ وہ اس کا اعلان کرنے کے لیے اٹھائے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی نے ۔۔۔ جس کو شاہ کہا جاتا تھا ۔۔۔ کہا : بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عباس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے۔ کیونکہ وہ تو ہمارے گھروں ، قبروں اور لوہاروں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یا فرمایا : ہمارے لوہاروں اور قبروں کے استعمال میں آتی ہے۔ ١٠۔ پھر ابن خطل کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا پایا گیا تو اس کو قتل کردیا گیا اور مقیس بن صبابہ کو صحابہ نے صفا اور مروہ کے درمیان پایا تو بنو کعب کی ایک جماعت اس کی طرف لپکی تاکہ اس کو قتل کر دے۔ لیکن اس کے چچا زاد نمیلہ نے کہا۔ اس کو تم چھوڑ دو ۔ خدا کی قسم کوئی آدمی اس کے قریب نہیں آئے گا مگر یہ کہ میں اس کو اپنی اس تلوار کے ذریعہ مار کر ٹھنڈا کر دوں گا۔ لوگ اس سے پیچھے ہٹ گئے اس کے بعد اس نے اپنی تلوار سے اس (مقیس) پر حملہ کیا اور تلوار سے اس کی کھوپڑی کو پھاڑ ڈالا۔ اور اس کو یہ بات ناپسند تھی کہ کوئی (دوسرا) مسلمان آدمی اس کے قتل پر فخر کرے۔ ١١۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر عثمان بن طلحہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان سے) کہا۔ اے عثمان ! چابی کہاں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ وہ تو میری والدہ کے پاس ہے یعنی سلافہ بنت سعد کے پاس ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عورت کی طرف عثمان کو بھیجا تو اس نے جواب میں کہا۔ نہ ” لات اور عُزیّٰ کی قسم ! میں یہ چابی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالہ نہیں کروں گی۔ عثمان نے کہا۔ (امی) اب ہماری حالت پہلے والی نہیں رہی۔ اگر تم چابی حوالہ نہ کرو گی تو میں اور میرا بھائی قتل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس نے چابی بیٹے کے حوالہ کردی۔ راوی کہتے ہیں : وہ یہ چابی لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئے یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پہنچے اور ان سے چابی گرگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا کپڑا لٹکایا پھر عثمان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ کا دروازہ کھول کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے کونوں اور کناروں میں اللہ کی بڑائی اور تعریف بیان کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور چوکھٹوں کے درمیان کھڑے ہوگئے۔ حضرت علی کہتے ہیں۔ میں چابی کو بلند ہو کر دیکھنے لگا اور مجھے اس (کے حاصل ہونے) کی امید ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چابی ہمیں حوالہ فرمائیں گے پس ہمارے ہاں بیت اللہ کا سقایہ اور چوکیداری جمع ہوجائے گی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ عثمان کہاں ہیں ؟ یہ لو جو تمہیں خدا نے دیا ہے۔ (یہ کہہ کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چابی ان کے حوالہ کردی۔ ١٢۔ پھر حضرت بلال بیت اللہ کی چھت پر چڑھے اور آپ نے اذان دی۔ تو خالد بن اُسِید نے پوچھا۔ یہ کون سی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ بلال بن رباح (کی آواز ہے) ۔ خالد کہنے لگا ابوبکر کا حبشی غلام ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ ؟ لوگوں نے کہا۔ بیت اللہ کی چھت پر۔ خالد نے پوچھا : بنو ابی طلحہ کے مقام عزت پر ؟ لوگوں نے جواب دیا : ہاں ! خالد نے پوچھا : بلال کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہا ہے۔ اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ۔ اور اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ۔ خالد کہنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے ابو خالد کو اس آواز کے سننے سے محفوظ رکھ کر عزت دی۔ ابو خالد سے اس کا اپنا باپ مراد تھا اور یہ جنگ بدر میں مشرکین کے ہمراہ قتل کیا گیا تھا۔ ١٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی طرف نکل پڑے۔ حنین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سے مقابلہ) کے لیے قبیلہ ہوازن اکٹھا ہوا۔ اور انھوں نے لڑائی لڑی (عارضی طور پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو شکست ہوئی ۔ ارشاد خداوندی ہے۔ (ترجمہ) ۔ ” اور حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینہ نازل فرمائی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری سے نیچے تشریف لائے اور یہ دعا مانگی۔ اے اللہ ! اگر آپ چاہتے ہیں، آج کے بعد آپ کی عبادت نہ کی جائے۔ چہروں کو بدصورت فرما۔ پھر آپ نے فریق مخالف کی طرف وہ کنکریاں پھینک دیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھیں۔ جس پر وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں اور اموال پر قبضہ فرما لیا۔ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا۔ اگر تم چاہو تو فدیہ دے دو اور اگر چاہو تو قید ہو جاؤ۔ ان لوگوں نے کہا۔ آج کے دن ہم اپنے حسب پر کسی بات کو پسند نہیں کرتے۔ (اس پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں نکلوں تو تم مجھ سے سوال کرنا میں تمہیں اپنا حصہ دے دوں گا اور مسلمانوں میں سے بھی کوئی میری بات کو نہیں روکے گا پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (باہر) نکلے تو وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لپکے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرا حصہ ہے وہ تو میں نے تمہیں دے دیا۔ اور دیگر مسلمانوں نے بھی یہی بات ان لوگوں سے کہی سوائے عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر کے۔ انھوں نے کہا۔ جو میرا حصہ ہے میں تو وہ نہیں دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں اس میں سے تمہارا حق ملے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس اس دن انھیں ایک بھینگی بوڑھی حصہ میں ملی۔ ١٤۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا تقریباً ایک مہینہ تک محاصرہ فرمایا۔ پھر حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے اجازت دیں میں ان کے پاس جاتا ہوں اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تب تو وہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے پھر حضرت عروہ ان اہل طائف کے پاس گئے اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دی تو بنو مالک میں سے ایک آدمی نے حضرت عروہ کو تیر مار کر قتل کر ڈالا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عروہ کی مثال اپنی قوم میں ایسی ہے جیسا کہ یاسین کا ساتھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کے جانوروں پر قبضہ کرلو اور ان پر تنگی کردو۔ ١٥۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپسی کے لیے چل پڑے یہاں تک کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نخلہ مقام کے پاس پہنچے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنا شروع کردیا۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر مبارک آپ کے کندھے سے اتار ڈالی اور انھوں نے (گویا) چاند کا ٹکڑا ظاہر کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” مجھے میری چادر واپس کردو۔ کیا تم لوگ مجھ پر کنجوسی کا الزام لگاتے ہوتے ہو۔ بخدا اگر میرے پاس اونٹ اور بکریاں ہوتی تو میں تمہیں دے دیتا ” پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤلفۃ القلوب کو اس دن سو سو اونٹ دیئے اور دیگر لوگوں کو بھی عطا فرمایا۔ ١٦۔ اس پر انصار نے بھی کچھ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور فرمایا۔ کیا تم نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت دی ؟ انصار نے جواباً کہا۔ کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا میں نے تمہیں تنگ دست نہیں پایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے مالدار کردیا۔ انصار نے جواباً کہا۔ کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا میں نے تمہیں باہم دشمن نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں میرے ذریعے محبت ڈالی ؟ انصار نے جواباً کہا : کیوں نہیں ! ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اگر تم چاہو تو تم بھی یوں کہو کہ آپ بھی تو ہمارے پاس بےیارو مدد گار آئے تھے اور پھر ہم نے آپ کی نصرت کی۔ انصار نے کہا۔ (نہیں) اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ اگر تم چاہو تو تم بھی یوں کہہ سکتے ہو کہ آپ ہمارے پاس نکالے ہوئے آئے تھے تو ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا تھا۔ انصار نے جواباً کہا۔ (نہیں) اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ بھی ہمارے پاس تنگدست آئے تھے پھر ہم نے آپ کے ساتھ غمخواری کی تھی انصار نے جواباً کہا۔ اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں رسول خدا کو لے کر پلٹو ؟ انصار نے عرض کیا۔ کیوں نہیں ! اس پر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : دیگر لوگ تو اوپر والا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ کا کپڑا ہیں۔ ١٧۔ (راوی کہتے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عبد الاشہل کے حلیف عباد بن وقش کو تقسیم شدہ چیزوں پر مقرر فرمایا۔ تو (ان کے پاس) قبیلہ اسلم کا ایک ننگا آدمی آیا جس پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ اس نے آ کر کہا۔ مجھے ان چادروں میں سے ایک چادر پہنا دو ۔ عباد نے جواباً کہا۔ یہ تو مسلمانوں کے تقسیم شدہ حصے ہیں۔ اور میرے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ میں ان میں سے تجھے کچھ دوں۔ (یہ سن کر) اسلم قبیلہ کے دیگر (مسلمان) لوگوں نے کہا۔ ان میں سے اس کو ایک چادر دے دو ۔ پھر اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو یہ ہماری تقسیم اور حصہ میں سے ہوگی۔ عباد نے اس سائل کو ایک چادر دے دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا خدشہ نہیں تھا۔ عباد نے جواب دیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے یہ چادر اس کو نہیں دی یہاں تک کہ اس کی قوم نے کہا کہ اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو وہ ہماری تقسیم اور حصوں میں سے شمار کرلی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ دے، اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ دے۔

Hazrat Abu Salma aur Yahya bin Abdur Rahman bin Hatab donon bayan karte hain keh Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) aur mushrikeen (Makkah) ke darmiyaan jang bandi ka waqfa tha. Aur Banu Ka'b Banu Bakr ke darmiyaan Makkah mein laraai hogayi. Bani Ka'b ki taraf se ek farayaadi Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki khidmat mein hazir hua aur usne kaha. Aey Khuda ! mein Muhammad ko apne aur uske aba ki purani qasam deta hun. Keh tum madad karo. Allah tumhein hidayat de. Sakht madad aur Allah ke bandon ko bulao woh madad ke liye aayenge. 2. Pas ek baadal guzara aur woh karaka to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. Yeh baadal Banu Ka'b ki madad ke liye kharhak raha hai. Phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Hazrat Ayesha se farmaya : mera saman taiyar karo. Aur kisi ko yeh baat na batana. Pas (isi doran) Hazrat Ayesha ke pas Hazrat Abubakar tashreef laaye aur unhon ne Umme Ayesha ki halat ko mutagaiyyer paaya to unhon ne pucha : yeh kya hai ? Hazrat Ayesha ne jawab diya. Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne mujhe hukum farmaya hai keh mein aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ka saman taiyar karoon. Hazrat Abubakar ne pucha. Kahan ke liye ? Hazrat Ayesha ne jawab diya. Makkah ke liye . Hazrat Abubakar ne kaha. Bakhuda ! abhi tak humare aur unke darmiyaan jang bandi ka waqfa khatam to nahi hua. Phir Hazrat Abubakar Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki khidmat mein hazir huye aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke samne yeh baat zikar ki. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. In logon ne pehle ghadar kiya hai. 3. Phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne rasta band karne ka hukum diya phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) aur deegar Musalman nikal pade aur ahle Makkah ko yun gher liya keh un ko koi khabar na mil saki. Abu Sufyan ne Hakeem bin Hizam se kaha. Aey Hakeem ! bakhuda ! hum logon ko gher liya gaya hai aur hum dhak chuke hain. Kya tum is kaam ke liye taiyar ho. Keh hum yahan se Maral Zahran tak sawar ho kar (haalat) dekhen. Shayad humein koi khabar mil jaye. Qabeela Khuza'a ke Badil bin Warqa Kabhi ne kaha. Mein bhi tumhare sath chaloon. Abu Sufyan aur Hukm ne kaha. Agar tum chaho to chal paro. Rawi kehte hain. Pas yeh log sawar ho kar jab Maral Zahran ki pahadi ke qareeb pahunche. Aur ghati par chadh gaye. 4. Pas jab yeh pelu ke darakht se aage guzre to unhen Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke pahre daron ne ... Ansaari Sahaba ki ek jama'at ne pakad liya. Is raat Hazrat Umar bin Khattab pahre daron par zimma daar the. Pahre daar Sahaba in ko ... Abu Sufyan waghaira ko le kar Hazrat Umar ke pas hazir huye. Aur aa kar kehne lage. Hum aap ke pas ahle Makkah mein se chand log pakad kar laaye hain. Hazrat Umar... unhen dekh kar hansne lage aur ... farmaya : Khuda ki qasam ! agar tum mere pas Abu Sufyan ko le aate to bhi kuchh zyada na hota. Pahre daar Sahaba ne kaha : Khuda ki qasam ! hum aap ke pas Abu Sufyan hi ko laaye hain. (Is par) Hazrat Umar ne farmaya : Is ko band karlo. Sahaba ne Abu Sufyan ko band karliya. Yahan tak keh subah hogayi phir Hazrat Umar Abu Sufyan ko le kar Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki khidmat mein hazir huye. Abu Sufyan se kaha gaya. Bai'at (Islam) karlo. Abu Sufyan ne kaha ... mein is waqt yahi surat ya is se bhi badtar surat hi mojood pata hun. Phir usne (aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se) bai'at karli. Phir Hakeem bin Hizam se kaha gaya. Tum (bhi) bai'at karlo. Usne kaha : mein aap se bai'at karta hun. Lekin mein khara hi rahoon ga. Rawi kehte hain : Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya : Tum hamari taraf se bhi kharay rehne ko qubool karo. 5. Pas jab yeh log wapas huye to Hazrat Abubakar ne arz kiya. Ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ! Abu Sufyan ek aisa aadmi hai jo shohrat ko pasand karta hai. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya : Jo shakhs Abu Sufyan ke ghar mein dakhil hojaye woh mamun hai siwaye Ibn Khatal , Maqees bin Sababah al Laythee, Abdullah bin Sa'd bin Sarh aur do bandiyan. Agar tum in (mustasna ) logon ko Ka'bah ke ghilafon mein bhi chamata hua pao to bhi in ko qatl kar dalo. Rawi kehte hain. Phir jab yeh log wapas huye to Hazrat Abubakar ne arz kiya. Agar aap Abu Sufyan ke bare mein hukum den keh us ko rastay mein rok diya jaye aur phir aap logon ko کوچ karne ka hukum den. Pas Hazrat Abbas ne Abu Sufyan ko rastay mein paaliya (aur rok diya) Hazrat Abbas ne Abu Sufyan se kaha. Kya tum baitho ge taakeh kuchh nazara karo ? Abu Sufyan ne kaha : kyun nahi ! aur yeh (rastay mein rokna aur nazara dikhana) sab kuchh sirf is liye tha keh Abu Sufyan in ki kasrat ko dekhe aur in ke bare mein puche. 6. Isi doran qabeela Juhainah ke log guzre to Abu Sufyan ne pucha : Aey Abbas ! yeh kaun hain ? Hazrat Abbas ne jawab diya : Yeh Juhainah ke log hain. Abu Sufyan ne kaha. Mujhe aj hainah walon se kya matlab ? Khuda ki qasam ! meri aur in ki kabhi jang nahi hui. Phir qabeela Muzainah ke log guzre to Abu Sufyan ne pucha. Aey Abbas ! yeh kaun hain ? Hazrat Abbas ne kaha. Yeh qabeela Muzainah ke log hain. Abu Sufyan ne kaha. Mujhe Muzainah se kya matlab ? Khuda ki qasam ! Muzainah aur mere darmiyaan kabhi jang nahi hui. Phir qabeela Sulaim ke log guzre to Abu Sufyan ne kaha. Aey Abbas ! yeh kaun hain ? Hazrat Abbas ne kaha. Yeh qabeela Sulaim ke log hain. Rawi kehte hain : phir (is tarah) Arab ke giroh guzarte rahe is doran qabeela Aslam aur Ghafaar bhi guzre. Abu Sufyan ne in ke bare mein pucha. Aur Hazrat Abbas is ko batate rahe. 7. Yahan tak keh tamam logon ke akhir mein Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) Muhajireen Awalin aur Ansaar ke humrah laraai ke saman ke sath guzre jo ankhon ko chundhiya raha tha. Abu Sufyan ne kaha . Aey Abbas , yeh kaun hain ? Hazrat Abbas ne farmaya : Yeh Allah ke Rasool (Sallallahu Alaihi Wasallam) aur unke Sahaba hain jo Muhajireen Awalin aur Ansaar ke humrah hain. Abu Sufyan kehne laga. Mera bhateeja to badi badshahi wala hogaya hai. Hazrat Abbas ne kaha. Nahi ! bakhuda ! yeh badshahi nahi hai balkeh yeh nabuwat hai. Yeh log das hazaar ya barah hazaar ki tadad mein the. 8. Rawi kehte hain. Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne jhanda Hazrat Sa'd bin Ubadah ko diya aur phir unhon ne apne bete Qais bin Sa'd ko de diya. Aur Abu Sufyan sawar ho kar logon se aage nikal gaya yahan tak keh usne pahadi se ahle Makkah ko dekha. Ahle Makkah ne us se pucha. Tere peechhe kaisa lashkar hai ? Usne jawab diya . Mere peechhe bahut badi tadad hai. Mere peechhe woh lashkar hai jis ki tumhen taqat nahi mere peechhe aisa lashkar hai keh jis ki misaal maine nahi dekhi. Jo shakhs mere ghar mein dakhil hojayega. Woh aman pa jayega. Pas logon ne Hazrat Abu Sufyan ke ghar mein zabardasti ghusna shuru kardiya. 9. Phir Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) tashreef laaye aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Makkah ke balai hissa mein maqam Hajun par thehre gaye aur Hazrat Zubair bin Awwam ko ghad sawaron ke ameer ke taur par wadi ke balai hissa se bheja. Aur Hazrat Khalid bin Waleed ko ghad sawaron par muqarrar farma kar wadi ke nichey hissa mein bheja. Aur Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. ” Tahqeeq to (Makkah) Khuda ki zameen ka behtarin hissa hai aur Khuda Ta'ala ki zameen mein se Khuda Ta'ala ko mahboob tarin hissa hai. Bakhuda ! agar mujhe tujh se nikala jata to mein hargiz na nikalta. Aur (farmya) yeh qata zameen mujh se pehle kisi ke liye bhi halal nahi kar gaya tha aur na hi mere baad aur kisi ke liye halal kiya jayega . Mere liye yeh din ki ek ghari ke liye halal kiya gaya hai. Aur yeh mojooda ghari hai. Yeh Makkah haram hai is ke darakht ko nahi kata jayega aur is ke habl (lobiyan ke mushabih phal) ko nahi kata jayega aur is ki gumshuda cheez ko koi bhi nahi uthayega ila yeh keh woh is ka elan karne ke liye uthaye. “ Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se ek aadmi ne ... jis ko Shah kaha jata tha ... kaha : baaz logon ne kaha hai keh aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se Hazrat Abbas ne kaha : Ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ! Izakhar ko mustasna kar dijiye. Kyunkeh woh to humare gharon , qabron aur lohzaaron ke liye istemaal hoti hai. Ya farmaya : humare lohaaron aur qabron ke istemaal mein aati hai. 10. Phir Ibn Khatal ko Ka'bah ke pardon ke sath chamata hua paaya gaya to us ko qatl kardiya gaya aur Maqees bin Sababah ko Sahaba ne Safa aur Marwah ke darmiyaan paaya to Banu Ka'b ki ek jama'at us ki taraf lapaki taakeh us ko qatl kar de. Lekin uske chacha zaad Namila ne kaha. Is ko tum chhod do . Khuda ki qasam koi aadmi uske qareeb nahi aayega magar yeh keh mein us ko apni is talwar ke zariya maar kar thanda kar doon ga. Log usse peechhe hat gaye is ke baad usne apni talwar se us (Maqees) par hamla kiya aur talwar se us ki khopri ko phaar daala. Aur us ko yeh baat napasand thi keh koi (dusra) Musalman aadmi us ke qatl par fakhr kare. 11. Phir Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Baitullah ka tawaf kiya phir Usman bin Talha aaye to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne (un se) kaha. Aey Usman ! chabi kahan hai ? Unhon ne jawab diya. Woh to meri walida ke pas hai yani Salafa bint Sa'd ke pas . Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) is aurat ki taraf Usman ko bheja to usne jawab mein kaha. Na ” Laa aur Uzza ki qasam ! mein yeh chabi Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hawala nahi karoongi. Usman ne kaha. (Ammi) ab hamari halat pehle wali nahi rahi. Agar tum chabi hawala na karo gi to mein aur mera bhai qatl hojayeinge. Rawi kehte hain. Phir usne chabi bete ke hawala kardi. Rawi kehte hain : woh yeh chabi le kar aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki taraf aaye yahan tak keh jab woh Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke samne pahunche aur unse chabi girgayi aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) is ki taraf kharay huye aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne is par apna kapda latkaya phir Usman ne aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko Baitullah ka darwaza khol kardiya aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Baitullah ke andar tashreef le gaye aur aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Baitullah ke konon aur kinaron mein Allah ki barai aur tareef bayan ki phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne do sutunon ke darmiyaan do rakat namaz ada farmai. Phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) bahar tashreef laaye aur chaukhton ke darmiyaan kharay hogaye. Hazrat Ali kehte hain. Mein chabi ko buland ho kar dekhne laga aur mujhe is (ke hasil hone) ki umeed hui keh aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) yeh chabi humein hawala farmayeinge pas humare han Baitullah ka saqayah aur chaukidari jama hojayegi lekin Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. Usman kahan hain ? Yeh lo jo tumhen Khuda ne diya hai. (Yeh keh kar) aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne chabi unke hawala kardi. 12. Phir Hazrat Bilal Baitullah ki chhat par chadhe aur aap ne azan di. To Khalid bin Usayd ne pucha. Yeh kaun si aawaz hai ? Logon ne kaha. Bilal bin Rabah (ki aawaz hai) . Khalid kehne laga Abubakar ka Habshi ghulam ? Logon ne kaha : han ! kehne laga. Kahan hai woh ? Logon ne kaha. Baitullah ki chhat par. Khalid ne pucha : Banu Abi Talha ke maqam izzat par ? Logon ne jawab diya : han ! Khalid ne pucha : Bilal kya keh raha hai ? Logon ne bataya keh woh keh raha hai. Ash-hadu an laa ilaaha illallaah. Aur ash-hadu anna Muhammadan Rasoolullah. Khalid kehne laga . Allah Ta'ala ne Abu Khalid ko is aawaz ke sun-ne se mahfooz rakh kar izzat di. Abu Khalid se iska apna baap murad tha aur yeh jang Badr mein mushrikeen ke humrah qatl kiya gaya tha. 13. Phir Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) Hunain ki taraf nikal pare. Hunain mein aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) (se muqabla) ke liye qabeela Hawazin ikattha hua. Aur unhon ne laraai lari (aarzi taur par) Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke Sahaba ko shikast hui . Irshad Khudawandi hai. (tarjuma) . ” Aur Hunain ke din jab tumhari tadad ki kasrat ne tumhen magun kardiya tha magar woh kasrat tadad tumhare kuchh kaam na aai. “ Phir Allah Ta'ala ne apne Rasool aur ahle Imaan par sakina nazil farmai. Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) apni sawari se nichey tashreef laaye aur yeh dua maangi. Aey Allah ! agar aap chahte hain, aaj ke baad aap ki ibadat na ki jaye. Chehron ko badsurat farma. Phir aap ne fareeq mukhalif ki taraf woh kankariyan phenk din jo aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ke hath mein thin. Jis par woh log peeth phir kar bhaag gaye. To janab Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne qaidion aur amwal par qabza farma liya. Aur phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne un se kaha. Agar tum chaho to fidya de do aur agar chaho to qaid ho jao. In logon ne kaha. Aaj ke din hum apne hasb par kisi baat ko pasand nahi karte. (Is par) Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya : Jab mein niklun to tum mujh se sawal karna mein tumhen apna hissa de doon ga aur Musalmanon mein se bhi koi meri baat ko nahi rokega phir jab Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) (bahar) nikle to woh log aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki taraf lapake. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya : Jo mera hissa hai woh to maine tumhen de diya. Aur deegar Musalmanon ne bhi yahi baat in logon se kahi siwaye 'Ayenah bin Hisn bin Hazifah bin Badr ke. Unhon ne kaha. Jo mera hissa hai mein to woh nahi doon ga. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya : Tumhen is mein se tumhara haq milay ga. Rawi kehte hain : pas is din unhen ek bhaisi buddhi hissa mein mili. 14. Phir Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Taif walon ka taqreeban ek maheena tak muhasira farmaya. Phir Hazrat Umar bin Khattab ne arz kiya. Ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ! aap mujhe ijazat den mein in ke pas jata hun aur unhen Allah ki taraf dawat doon. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya. Tab to woh log tumhen qatl kar denge phir Hazrat 'Urwah in ahle Taif ke pas gaye aur unhen Allah ki taraf dawat di to Banu Malik mein se ek aadmi ne Hazrat 'Urwah ko teer maar kar qatl kar dala. To Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya : 'Urwah ki misaal apni qaum mein aisi hai jaisa keh Yaseen ka saathi. Phir Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya : In ke janwaron par qabza karlo aur in par tangi karo. 15. Phir Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) wapasi ke liye chal pare yahan tak keh jab aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) Nakhalah maqam ke pas pahunche to logon ne aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) se sawal karna shuru kardiya. Hazrat Anas kehte hain. Yahan tak keh in logon ne aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ki chadar mubarak aap ke kandhe se utar daali aur unhon ne (goya) chand ka tukda zahir kardiya. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. ” Mujhe meri chadar wapas karo. Kya tum log mujh par kanjoosi ka ilzaam lagate hote ho. Bakhuda agar mere pas oont aur bakriyan hoti to mein tumhen de deta ” phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne mulaffat ul quloob ko is din sau sau oont diye aur deegar logon ko bhi ata farmaya. 16. Is par Ansaar ne bhi kuchh kaha to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne unko bulaya aur farmaya. Kya tum ne yeh yeh baat kahi hai ? Kya maine tumhen gumrah nahi paaya tha keh phir Allah Ta'ala ne tumhen mere zariya se hidayat di ? Ansaar ne jawaban kaha. Kyun nahi ! phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne pucha. Kya maine tumhen tang dast nahi paaya keh phir Allah Ta'ala ne tumhen mere zariya se maldar kardiya. Ansaar ne jawaban kaha. Kyun nahi ! phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne pucha. Kya maine tumhen baham dushman nahi paaya tha keh phir Allah Ta'ala ne tumhare dilon mein mere zariye muhabbat daali ? Ansaar ne jawaban kaha : kyun nahi ! . Phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya : han agar tum chaho to tum bhi yun kaho keh aap bhi to humare pas bayaro madad gaar aaye the aur phir humne aap ki nusrat ki. Ansaar ne kaha. (nahi) Allah aur uske Rasool ka ehsaan zyada hai. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne kaha. Agar tum chaho to tum bhi yun keh sakte ho keh aap humare pas nikale huye aaye the to humne aap ko thikana diya tha. Ansaar ne jawaban kaha. (nahi) Allah aur uske Rasool ka ehsaan zyada hai. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya : agar tum chaho to keh sakte ho keh aap bhi humare pas tang dast aaye the phir humne aap ke sath ghamkhwari ki thi Ansaar ne jawaban kaha. Allah aur uske Rasool ka ehsaan zyada hai. Phir aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya. Kya tum is baat par raazi nahi ho keh log to bakriyan aur oont le jayen aur tum apne gharon mein Rasool Khuda ko le kar palto ? Ansaar ne arz kiya. Kyun nahi ! is par janab Nabi Kareem (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya : deegar log to upar wala kapda hain aur Ansaar jism ke sath ka kapda hain. 17. (Rawi kehte hain) Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne Banu Abd ul Ash'hal ke halif 'Abbad bin Waqash ko taqseem shuda cheezon par muqarrar farmaya. To (in ke pas) qabeela Aslam ka ek nanga aadmi aaya jis par koi kapda nahi tha. Usne aa kar kaha. Mujhe in chadron mein se ek chadar pehna do . 'Abbad ne jawaban kaha. Yeh to Musalmanon ke taqseem shuda hisse hain. Aur mere liye yeh baat halal nahi hai keh mein in mein se tujhe kuchh doon. (Yeh sun kar) Aslam qabeela ke deegar (Musalman) logon ne kaha. In mein se is ko ek chadar de do . Phir agar kisi ne iske bare mein baat ki to yeh hamari taqseem aur hissa mein se hogi. 'Abbad ne is sail ko ek chadar de di. Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ko yeh baat pahunch gayi to aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne irshad farmaya : Mujhe tumhare bare mein is baat ka khadsha nahi tha. 'Abbad ne jawab diya ya Rasool Allah (Sallallahu Alaihi Wasallam) ! maine yeh chadar is ko nahi di yahan tak keh is ki qaum ne kaha keh agar kisi ne iske bare mein baat ki to woh hamari taqseem aur hisson mein se shumaar karli jaye. Aap (Sallallahu Alaihi Wasallam) ne farmaya. Allah Ta'ala tumhen behtar badla de, Allah Ta'ala tumhen behtar badla de.

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَا : كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ هُدْنَةٌ ، فَكَانَ بَيْنَ بَنِي كَعْبٍ ، وَبَيْنَ بَنِي بَكْرٍ قِتَالٌ بِمَكَّةَ ، فَقَدِمَ صَرِيخُ بَنِي كَعْبٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ : [ البحر الرجز ] اللَّهُمَّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا … حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلَدَا فَانْصُرْ هَدَاكَ اللَّهُ نَصْرًا عُتَّدَا … وَادْعُ عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدَا فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَرَعَدَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : " إِنَّ هَذِهِ لَتَرْعَدُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ ، ثُمَّ قَالَ لِعَائِشَةَ : " جَهِّزِينِي وَلَا تُعْلِمِنَّ بِذَلِكَ أَحَدًا ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَأَنْكَرَ بَعْضَ شَأْنِهَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أُجَهِّزَهُ ، قَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالَتْ : إِلَى مَكَّةَ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا انْقَضَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَعْدُ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : إِنَّهُمْ أَوَّلُ مَنْ غَدَرَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالطَّرِيقِ فَحُبِسَتْ ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ ، فَغُمَّ لِأَهْلِ مَكَّةَ لَا يَأْتِيهِمْ خَبَرٌ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ لِحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ : أَيْ حَكِيمُ ، وَاللَّهِ لَقَدْ غَمَّنَا وَاغْتَمَمْنَا ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَرْكَبَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَرَةٍ ، لَعَلَّنَا أَنْ نَلْقَى خَبَرًا ، فَقَالَ لَهُ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْكَعْبِيُّ مِنْ خُزَاعَةَ : وَأَنَا مَعَكُمْ ، قَالَا : وَأَنْتَ إِنْ شِئْتَ ، قَالَ : فَرَكِبُوا حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْ ثَنِيَّةِ مَرَةٍ أَظْلَمُوا فَأَشْرَفُوا عَلَى الثَّنِيَّةِ ، فَإِذَا النِّيرَانُ قَدْ أَخَذَتِ الْوَادِيَ كُلَّهُ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ لِحَكِيمٍ : مَا هَذِهِ النِّيرَانُ ؟ قَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ : هَذِهِ نِيرَانُ بَنِي عَمْرٍو ، جَوَّعَتْهَا الْحَرْبُ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَا وَأَبِيكَ ، لَبَنُو عَمْرٍو أَذَلُّ وَأَقَلُّ مِنْ هَؤُلَاءِ ، فَتَكَشَّفَ عَنْهُمُ الْأَرَاكُ ، فَأَخَذَهُمْ حَرَسُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى الْحَرَسِ ، فَجَاءُوا بِهِمْ إِلَيْهِ ، فَقَالُوا : جِئْنَاكَ بِنَفَرٍ أَخَذْنَاهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَالَ عُمَرُ وَهُوَ يَضْحَكُ إِلَيْهِمْ : وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُمُونِي بِأَبِي سُفْيَانَ مَا زِدْتُمْ ، قَالُوا : قَدْ وَاللَّهِ أَتَيْنَاكَ بِأَبِي سُفْيَانَ ، فَقَالَ : احْبِسُوهُ ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَصْبَحَ ، فَغَدَا بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقِيلَ لَهُ : بَايِعْ ، فَقَالَ : لَا أَجِدُ إِلَّا ذَاكَ أَوْ شَرًّا مِنْهُ ، فَبَايَعَ ، ثُمَّ قِيلَ لِحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ : بَايِعْ ، فَقَالَ : أُبَايِعُكَ وَلَا أَخِرُّ إِلَّا قَائِمًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : " أَمَّا مِنْ قَبَلِنَا فَلَنْ تَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا ، فَلَمَّا وَلَّوْا ، قَال أَبُو بَكْرٍ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ السَّمَاعَ ، يَعْنِي الشَّرَفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ إِلَّا ابْنَ خَطَلٍ ، وَمِقْيَسَ بْنَ صُبَابَةَ اللَّيْثِيَّ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، وَالْقَيْنَتَيْنِ ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاقْتُلُوهُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّوْا قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ﷺ ، لَوْ أَمَرْتَ بِأَبِي سُفْيَانَ فَحُبِسَ عَلَى الطَّرِيقِ ، وَأُذِّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ ، فَأَدْرَكَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ : هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ تَجْلِسَ حَتَّى تَنْظُرَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنْ يَرَى ضَعْفَةً فَيَتَنَاوَلَهُمْ ، فَمَرَّتْ جُهَيْنَةُ فَقَالَ : أَيْ عَبَّاسُ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَذِهِ جُهَيْنَةُ ، قَالَ : مَا لِي وَلِجُهَيْنَةَ ، وَاللَّهِ مَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ حَرْبٌ قَطُّ ، ثُمَّ مَرَّتْ مُزَيْنَةُ فَقَالَ : أَيْ عَبَّاسُ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَذِهِ مُزَيْنَةُ ، قَالَ : مَا لِي وَلِمُزَيْنَةَ ، وَاللَّهِ مَا كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ حَرْبٌ قَطُّ ، ثُمَّ مَرَّتْ سُلَيْمٌ ، فَقَالَ : أَيْ عَبَّاسُ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَذِهِ سُلَيْمٌ ، قَالَ : ثُمَّ جَعَلَتْ تَمُرُّ طَوَائِفُ الْعَرَبِ فَمَرَّتْ عَلَيْهِ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ ، فَيَسْأَلُ عَنْهَا فَيُخْبِرُهُ الْعَبَّاسُ ، حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ ⦗ص:٣٩٩⦘ فِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي لَأَمَةٍ تَلْتَمِعُ الْبَصَرَ ، فَقَالَ : أَيْ عَبَّاسُ ، مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ : لَقَدْ أَصْبَحَ ابْنُ أَخِيكَ عَظِيمَ الْمُلْكِ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، مَا هُوَ بِمُلْكٍ ، وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ ، وَكَانُوا عَشَرَةَ آلَافٍ ، أَوِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، قَالَ : وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الرَّايَةَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَدَفَعَهَا سَعْدٌ إِلَى ابْنِهِ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَرَكِبَ أَبُو سُفْيَانَ فَسَبَقَ النَّاسَ حَتَّى اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ مِنَ الثَّنِيَّةِ ، قَالَ لَهُ أَهْلُ مَكَّةَ : مَا وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : وَرَائِي الدُّهْمُ ، وَرَائِي مَا لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ ، وَرَائِي مَنْ لَمْ أَرَ مِثْلَهُ ، مَنْ دَخَلَ دَارِي فَهُوَ آمِنٌ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقْتَحِمُونَ دَارَهُ ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَوَقَفَ بِالْحَجُونِ بِأَعْلَى مَكَّةَ ، وَبَعَثَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي الْخَيْلِ فِي أَعْلَى الْوَادِي ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فِي الْخَيْلِ فِي أَسْفَلِ الْوَادِي ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ ، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ لَمْ أُخْرَجْ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ ، وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ، وَهِيَ سَاعَتِي هَذِهِ ، حَرَامٌ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلَا يُحْتَشُّ حَشِيشُهَا ، وَلَا يَلْتَقِطُ ضَالَّتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ " فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ شَاهٌ ، وَالنَّاسُ يَقُولُونَ : قَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا وَقُيُونِنَا أَوْ لِقُيُونِنَا وَقُبُورِنَا ، فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَوُجِدَ مُتَعَلِّقًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقُتِلَ ، وَأَمَّا مِقْيَسُ بْنُ صُبَابَةَ فَوَجَدُوهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَبَادَرَهُ نَفَرٌ مِنْ بَنِي كَعْبٍ لِيَقْتُلُوهُ ; فَقَالَ ابْنُ عَمِّهِ نُمَيْلَةُ : خَلُّوا عَنْهُ ، فَوَاللَّهِ لَا يَدْنُو مِنْهُ رَجُلٌ إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا حَتَّى يَبْرُدَ ، فَتَأَخَّرُوا عَنْهُ فَحَمَلَ عَلَيْهِ بِسَيْفِهِ فَفَلَقَ بِهِ هَامَتَهُ ، وَكَرِهَ أَنْ يَفْخَرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ ، ثُمَّ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَقَالَ : أَيْ عُثْمَانُ ، أَيْنَ الْمِفْتَاحُ ؟ فَقَالَ هُوَ عِنْدَ أُمِّي سَلَّامَةَ ابْنَةِ سَعْدٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ : لَا وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، لَا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ أَبَدًا ، قَالَ : إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرٌ غَيْرُ الْأَمْرِ الَّذِي كُنَّا عَلَيْهِ ، فَإِنَّكِ إِنْ لَمْ تَفْعَلِي قُتِلْتُ أَنَا وَأَخِي ، قَالَ : فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ بِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ وِجَاهَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عُثِرَ فَسَقَطَ الْمِفْتَاحُ مِنْهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَحْنَى عَلَيْهِ ثَوْبَهُ ، ثُمَّ فَتْحَ لَهُ عُثْمَانُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْكَعْبَةَ ، فَكَبَّرَ فِي زَوَايَاهَا وَأَرْجَائِهَا ، وَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ صَلَّى بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَامَ بَيْنَ الْبَابَيْنِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَرَجَوْتُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْنَا الْمِفْتَاحَ ، فَتَكُونُ فِينَا السِّقَايَةُ وَالْحِجَابَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : أَيْنَ عُثْمَانُ ، هَاكُمْ مَا أَعْطَاكُمُ اللَّهُ ، فَدَفَعَ إِلَيْهِ الْمِفْتَاحَ ، ثُمَّ رَقَى بِلَالٌ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ فَأَذَّنَ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ أُسَيْدٍ : مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟ قَالُوا : بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ : عَبْدُ أَبِي بَكْرٍ الْحَبَشِيُّ ، قَالُوا ، نَعَمْ ، قَالَ : أَيْنَ ؟ قَالُوا : عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : عَلَى مُرْقِبَةِ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : مَا يَقُولُ ؟ قَالُوا : يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : لَقَدْ أَكْرَمَ اللَّهُ أَبَا خَالِدٍ عَنْ أَنْ يَسْمَعَ هَذَا الصَّوْتَ ، يَعْنِي أَبَاهُ ، وَكَانَ مِمَّنْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي الْمُشْرِكِينَ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى حُنَيْنٍ ، وَجُمِعَتْ لَهُ هَوَازِنُ بِحُنَيْنٍ ، فَاقْتَتَلُوا ، فَهُزِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، قَالَ اللَّهُ : ﴿ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا ﴾ [ التوبة : ٢٥ ] الْآيَةَ ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ دَابَّتِهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ ، شَاهَتِ الْوُجُوهُ ، ثُمَّ رَمَاهُمْ بِحَصَاةٍ كَانَتْ فِي يَدِهِ ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ السَّبْيَ وَالْأَمْوَالَ فَقَالَ لَهُمْ : إِنْ ⦗ص:٤٠٠⦘ شِئْتُمْ فَالْفِدَاءُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَالسَّبْيُ ، قَالُوا : لَنْ نُؤْثِرَ الْيَوْمَ عَلَى الْحَسَبِ شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : إِذَا خَرَجْتُ فَاسْأَلُونِي ، فَإِنِّي سَأُعْطِيكُمُ الَّذِي لِي ، وَلَنْ يَتَعَذَّرَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَاحُوا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : « أَمَّا الَّذِي لِي فَقَدْ أَعْطَيْتُكُمُوهُ » ، وَقَالَ الْمُسْلِمُونَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلَّا عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ فَإِنَّهُ قَالَ : أَمَّا الَّذِي لِي فَإِنِّي لَا أُعْطِيهِ ، قَالَ : أَنْتَ عَلَى حَقِّكَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصَارَتْ لَهُ يَوْمَئِذٍ عَجُوزٌ عَوْرَاءُ ، ثُمَّ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَهْلَ الطَّائِفِ قَرِيبًا مِنْ شَهْرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، دَعْنِي أَدْخُلْ عَلَيْهِمْ فَأَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّهُمْ إِذًا قَاتِلُوكَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَالِكٍ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : مَثَلُهُ فِي قَوْمِهِ مِثْلُ صَاحِبِ يَاسِينَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : خُذُوا مَوَاشِيَهُمْ وَضَيِّقُوا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَاجِعًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِنَخْلَةٍ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ ، قَالَ أَنَسٌ : حَتَّى انْتَزَعُوا رِدَاءَهُ عَنْ ظَهْرِهِ ، فَأَبْدَوْا عَنْ مِثْلِ فِلْقَةَ الْقَمَرِ ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، لَا أَبَا لَكُمْ ، أَتُبَخِّلُونَنِي ، فَوَاللَّهِ أَنْ لَوْ كَانَ مَا بَيْنَهُمَا إِبِلًا وَغَنَمًا لَأَعْطَيْتُكُمُوهُ ، فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ يَوْمَئِذٍ مِائَةً مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَأَعْطَى النَّاسَ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ : قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : أَلَمْ أَجِدْكُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ بِي ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : قَدْ جِئْتَنَا مَخْذُولًا فَنَصَرْنَاكَ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ، قَالَ : لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : جِئْتَنَا طَرِيدًا آوَيْنَاكَ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ آمِنٌ ، وَلَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ : جِئْتنَا عَائِلًا فَآسَيْنَاكَ ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ، قَالَ : أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَنْقَلِبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْبَعِيرِ ، وَتَنْقَلِبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى دِيَارِكُمْ ، قَالُوا : بَلَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : النَّاسُ دِثَارٌ ، وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ ، وَجَعَلَ عَلَى الْمَقَاسِمِ عَبَّادَ بْنَ وَقْشٍ أَخَا بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَارِيًّا لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ ، فَقَالَ : اكْسُنِي مِنْ هَذِهِ الْبُرُودِ بُرْدَةً ، قَالَ : إِنَّمَا هِيَ مَقَاسِمُ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أُعْطِيَكَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَقَالَ قَوْمُهُ : اكْسُهُ مِنْهَا بُرْدَةً ، فَإِنْ تَكَلَّمَ فِيهَا أَحَدٌ فَهِيَ مِنْ قِسْمِنَا وَأُعْطِيَّاتِنَا ، فَأَعْطَاهُ بُرْدَةً ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَخْشَى هَذَا عَلَيْهِ ، مَا كُنْتُ أَخْشَاكُمْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا حَتَّى قَالَ قَوْمُهُ : إِنْ تَكَلَّمَ فِيهَا أَحَدٌ فَهِيَ مِنْ قِسْمِنَا وَأُعْطِيَّاتِنَا ، فَقَالَ : جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا ، جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا "