1.
Book of Purification
١-
كتاب الطهارة


Chapter on Concealing Oneself When Answering the Call of Nature

باب الاستتار عند قضاء الحاجة

Sunan al-Kubra Bayhaqi 446

Sayyiduna Abdullah bin Ja'far (may Allah be pleased with him) narrates that one night I was riding behind the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He (peace and blessings of Allah be upon him) spoke to me privately. I will not disclose that matter to the people. And the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) loved to be concealed from view, due to relieving himself, behind something (like a rock) or in a date palm orchard.


Grade: Sahih

(٤٤٦) سیدنا عبداللہ بن جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ ایک پوشیدہ بات کی، وہ بات میں لوگوں سے بیان نہیں کروں گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قضائے کے لیے کسی رکاوٹ (پتھر وغیرہ) سے یا کھجوروں کے باغ میں چھپ جانا بہت پسند تھا۔

(446) syedna abdullah bin jaafar (rz) farmate hain ke main ek raat rasool allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ke peeche sawar tha, aap ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne mere sath ek poshida baat ki, woh baat main logon se bayan nahin karoon ga aur rasool allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ko qaza ke liye kisi rukawat (pathar waghaira) se ya khajuron ke bagh mein chhup jana bahut pasand tha.

٤٤٦ - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ،قَالَ:" أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ "يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 447

Sayyiduna Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) went out to relieve himself, so I followed him with a vessel of water. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) looked around, he did not see anything to conceal himself behind. There were two trees at the edge of the valley. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) went to one of them, took hold of one of its branches and said, “Obey me by the command of Allah.” So it obeyed him, becoming as subservient as a trained camel that follows its leader, until he reached the other tree. He took hold of one of its branches and said, "Obey me by the command of Allah.” It also obeyed him in the same manner. He brought the two trees together and said, “Unite over me by the command of Allah.” So they merged. Sayyiduna Jabir (may Allah be pleased with him) said: "I was sitting there talking to myself. When I looked up, suddenly the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) was in front of me and the trees had separated, each one returning to its place.”


Grade: Sahih

(٤٤٧) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے گئے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس کی اوٹ میں چھپ جائیں، وادی کے کنارے پر دو درخت تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے ایک کی طرف گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا : ” اللہ کے حکم پر میری مطیع بن جا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسے مطیع ہوگئی جیسے تابع اونٹ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے ساتھ چلا کرتا ہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر فرمایا : اللہ کے حکم کے ساتھ میرے لیے مطیع ہوجا تو وہ بھی اسی طرح مطیع ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو ملاتے ہوئے ان سے کہا کہ تم دونوں مجھ پر اللہ کے حکم سے متحد ومتفق ہو جاؤ تو وہ دونوں جڑ گئیں سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا، میں ایک نظر دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اچانک سامنے تھے اور درخت الگ الگ ہوگئے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر تھا۔

(447) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے گئے تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھے پانی کا ایک ڈول لے کر گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی ایسی چیز نہ دیکھی جس کی اوٹ میں چھپ جائیں، وادی کے کنارے پر دو درخت تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے ایک کی طرف گئے اور اس کی ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا : ” اللہ کے حکم پر میری مطیع بن جا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسے مطیع ہوگئی جیسے تابع اونٹ ہوتا ہے جو اپنے قائد کے ساتھ چلا کرتا ہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک ٹہنی کو پکڑ کر فرمایا : اللہ کے حکم کے ساتھ میرے لیے مطیع ہوجا تو وہ بھی اسی طرح مطیع ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو ملاتے ہوئے ان سے کہا کہ تم دونوں مجھ پر اللہ کے حکم سے متحد ومتفق ہو جاؤ تو وہ دونوں جڑ گئیں سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ کر اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا، میں ایک نظر دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اچانک سامنے تھے اور درخت الگ الگ ہوگئے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر تھا۔

٤٤٧ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ السِّمْسَارُ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،قَالَ:أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ فِي مَسْجِدِهِ،فَذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ:فَقَالَ جَابِرٌ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يقْضِي حَاجَتَهُ فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَتَسَتَّرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِيءِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا،فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ، حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا،فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ". فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ،حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ فِيمَا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا فَقَالَ:" الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ". ⦗١٥٣⦘ فَالْتَأَمَتَا.قَالَ جَابِرٌ:فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ، وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 448

Narrated Abu Huraira (RA): The Prophet (SAW) said: When anyone goes to answer the call of nature he should conceal himself, even if with nothing more than an arrow's shaft, and if he can find nothing at all, then let him pile up a heap of sand and face towards it, for the jinn play with the private parts of the sons of Adam. He who does so, does well, and there is no harm on him who does not do so.


Grade: Da'if

(٤٤٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل قرماتے ہیں کہ جو قضائے حاجت کو جائے تو وہ چھپ جائے۔ اگر کوئی چیز نہ پائے تو ریت کا ایک ٹیلہ اکٹھا کرے پھر اس کی طرف پیٹھ کرے؛ اس لیے کہ شیطان بنی آدم کی شرم گاہوں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔

Sayyidina Abu Huraira (RA), Nabi (SAW) se naql karte hain ke jo qaza e hajat ko jaye to wo chhup jaye agar koi cheez na paye to ret ka ek teela ikattha kare phir us ki taraf peeth kare is liye ke shaitan bani adam ki sharam gaahon ke sath khelte hain jis ne aise kiya us ne achcha kiya aur jis ne nahi kiya to koi harj nahi.

٤٤٨ - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ،قَالَا:نا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ يَجْمَعُهُ، ثُمَّ يَسْتَدْبِرُهُ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ يَلْعَبُونَ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ "