1.
Book of Purification
١-
كتاب الطهارة


Chapter on Water Perpetually Impure When Less Than Two Qullas

باب الماء الدائم تقع فيه نجاسة وهو أقل من قلتين

Sunan al-Kubra Bayhaqi 1114

(1114) Narrated Abu Huraira (RA): Allah's Messenger (ﷺ) said: "Do not urinate in stagnant water, which is not flowing, and then bathe in it." And the Prophet (ﷺ) said, "When anyone of you gets up from sleep, he should not put his hand in the water utensil till he washes it thrice, for he does not know where his hand was during sleep." (b) Za'frani says that Imam Shafi'i (may Allah have mercy on him) has written in the old book: If the dough gets mixed with impure water, then it should not be eaten but should be fed to the animals. (c) Imam Ahmad said: It is narrated from 'Ata' and Mujahid that they used to feed such dough to chickens.


Grade: Sahih

(١١١٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے، یعنی وہ پانی جو جار ی نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھونہ لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ (ب) زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے قدیم کتاب میں لکھا ہے کہ اگر نجس پانی کے ساتھ آٹا مل جائے تو وہ نہیں کھایا جاسکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا دیا جائے۔ (ج) امام احمد فرماتے ہیں : عطاء اور مجاہد سے منقول ہے وہ ایسا آٹا مرغیوں کو کھلا دیتے تھے۔

(1114) سيدنا ابوهريرة (رض) فرماتے ہيں کہ رسول اللہ (صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے فرمايا : کھڑے ہوئے پانی ميں پيشاب نہ کيا جائے، يعنی وہ پانی جو جاری نہ ہو کہ پھر اس سے غسل کرے اور فرمايا کہ رسول اللہ (صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے فرمايا : جب تم ميں سے کوئی نيند سے بيدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن ميں نہ ڈالے جب تک کہ اس کو دھونے لے اس لیے کہ وہ نہيں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ (ب) زعفرانى کہتے ہيں کہ امام شافعی (رح) نے قديم کتاب ميں لکھا ہے کہ اگر نَجَس پانی کے ساتھ آٹا مِل جائے تو وہ نہيں کھايا جاسکتا بلکہ وہ جانوروں کو کھلا ديا جائے۔ (ج) امام احمد فرماتے ہيں : عطاء اور مجاہد سے منقول ہے وہ ايسا آٹا مرغيوں کو کھلا ديتے تھے۔

١١١٤ - أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ،قَالَ:هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ،قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَالُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يُغْتَسَلُ مَنْهُ "قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْوَضُوءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ "رَوَاهُمَا مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ⦗٣٥٨⦘ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ:قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: فَإِنْ عَجَنَ بِهِ يَعْنِي بِالْمَاءِ النَّجِسِ عَجِينًا لَمْ يَأْكُلْ وَأَطْعَمَهُ الدَّوَابَّ،قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ:وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ أَنَّهُ يُطْعِمُهُ الدَّجَاجَ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 1115

(1115) (a) Narrated Nafi: Ibn Umar (RA) informed him that the people alighted along with the Messenger of Allah (PBUH) at a place called Al-Hijr, which was the land of Thamud. The Companions drew water from their wells and kneaded flour, whereupon the Messenger of Allah (PBUH) commanded them to pour away the water they had collected and to feed the dough to the camels. He also said, "Use the water from where the she-camel used to drink." (b) Narrated Anas bin Malik (RA): This water, although not impure, was prohibited to use. Therefore, you (PBUH) commanded us to pour it away and to feed the dough to the camels. It was not prohibited due to impurity (but due to the Prophet's (PBUH) command).


Grade: Sahih

(١١١٥) (الف) سیدنا نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے انھیں خبر دی کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقام حجر پر اترے، یہ ثمود کی زمین تھی۔ صحابہ نے ان کے کنوؤں سے پانی لیا اور آٹا گوندھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حاصل کردہ پانی بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا : وہ اس پانی کو استعمال کریں جہاں وہ اونٹنی آتی تھی۔ (ب) انس بن عیاض (رح) سے روایت ہے کہ یہ پانی اگرچہ نجس نہ تھا لیکن اس کا استعمال ممنوع تھا، اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہانے کا حکم دیا اور آٹا اونٹوں کو کھلانے کا حکم دیا۔ یہ نجاست کی وجہ سے ممنوع نہ تھا۔ (بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم تھا)

(1115) (alif) Sayyidina Nafi se riwayat hai ki Ibn Umar (Razi Allah Anhu) ne unhen khabar di ki log Rasul Allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ke sath maqam Hujr par utre, yeh Samood ki zameen thi. Sahaba ne unke kuon se pani liya aur aata gundha to Rasul Allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne unko hasil karda pani bahane ka hukum diya aur aata oonton ko khilane ka hukum diya aur sath hi farmaya: Woh is pani ko istemal karen jahan woh oonthni aati thi. (be) Anas bin Ayyaz (Rahimahullah) se riwayat hai ki yeh pani agarchi najis nah tha lekin iska istemal mamnoo tha, isliye aap ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne bahane ka hukum diya aur aata oonton ko khilane ka hukum diya. Yeh najasat ki wajah se mamnoo nah tha. (Balki Nabi ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ka hukum tha).

١١١٥ - وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ،ثنا أَبُو مُوسَى إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ وَهَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ قَالَا:ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ أَرْضَ ثَمُودٍ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِيَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيُطْعِمُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مَنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ وَهَذَا الْمَاءُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَجِسًا فَحِينَ كَانَ مَمْنُوعًا مَنْهُ اسْتِعْمَالُهُ أَمَرَ بِإِرَاقَتِهِ وَأَمَرَ بِإِطْعَامِ مَا عُجِنَ بِهِ الْإِبِلَ وَكَذَلِكَ مَا يَكُونُ مَمْنُوعًا مَنْهُ لِنَجَاسَتِهِ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 1116

(1116) (a) It is narrated on the authority of Sayyidina Anas (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) was asked about dough in which drops of blood had fallen. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) forbade eating it. (b) It is narrated on the authority of Sayyidina Anas (may Allah be pleased with him) that a young woman kneaded dough in a utensil and her hand was wounded, causing drops of blood to fall into the dough. She asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), and you (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Do not eat it."


Grade: Da'if

(١١١٦) (الف) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آٹے کے متعلق سوال کیا گیا جس میں خون کے قطرے گرپڑے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے سے منع فرما دیا۔ (ب) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی نے کسی برتن میں آٹا گوندھا تو اس کے ہاتھ کو زخم لگا، جس کی وجہ سے آٹے میں خون کے قطرے گرے، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ کھاؤ۔

(1116) (alif) syedna anas (raz) se riwayat hai keh nabi ((صلى الله عليه وآله وسلم)) se aate ke mutalliq sawal kya gaya jis mein khoon ke qatre gir pade the to nabi ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne isay khanay se mana farma diya (be) syedna anas (raz) se riwayat hai keh ek laundi ne kisi bartan mein aata gonda to uske hath ko zakhm laga jis ki wajah se aate mein khoon ke qatre gire usne rasool allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) se sawal kya to aap ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne farmaya isay na khao

١١١٦ - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ عَجِينٍ وَقَعَ فِيهِ قَطَرَاتٌ مَنْ دَمٍ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِهِ قَالَ الْوَلِيدُ لِأَنَّ النَّارَ لَا تُنَشِّفُ الدَّمَ،قَالَ أَبُو أَحْمَدَ:هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ مُسْلِمٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَإِنَّمَا يَرْوِي هَذَا سُوَيْدٌ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ،قَالَ:أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ عَجَنَتْ لَهُمْ عَجِينًا فِي جَفْنَةٍ فَأَصَابَتْ يَدَهَا حَدِيدَةٌ فِي الْعَجْنِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ:" لَا تَأْكُلُوهُ "قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَسُوَيْدٌ الَّذِي خَلَّطَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ فَمَرَّةً رَوَاهُ عَنْ نُوحٍ، عَنِ الْحَسَنِ وَمَرَّةً، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ،قَالَ أَبُو أَحْمَدَ:وَعَامَّةُ حَدِيثِهِ مِمَّا لَا يُتَابِعُهُ الثِّقَاتُ عَلَيْهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ كَمَا وَصَفُوهُ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَغَيْرَهُمْ مَنَ الْأَئِمَّةِ ضَعَّفُوا سُوَيْدًا