9.
Book of Funerals
٩-
كتاب الجنائز


Chapter: Entering Upon the Deceased and Kissing Them

باب الدخول على الميت وتقبيله

Sunan al-Kubra Bayhaqi 6710

(6710) Narrated Abdur Rahman bin Auf (RA): Aisha (RA), the wife of Prophet (ﷺ) narrated that Abu Bakr (RA) came from his house in Sunh riding a horse, dismounted, and entered the mosque. He didn't speak to the people, went straight to Aisha (RA), and headed towards the Messenger of Allah (ﷺ), who was covered in a Yemeni sheet. He (Abu Bakr) uncovered his (Prophet's) face, looked at him, kissed him, and wept. Then he said: "May my father be sacrificed for you! By Allah, Allah will never inflict upon you two deaths, except for the one He has ordained for you, and it has come to you." Ibn Abbas (RA) said: When Abu Bakr (RA) came out, Umar (RA) was addressing the people. Abu Bakr (RA) told Umar (RA) to sit down, but he refused. He repeated his request, but Umar (RA) still refused. Then Abu Bakr (RA) himself delivered the sermon. The people turned towards Abu Bakr (RA) leaving Umar (RA), and Abu Bakr (RA) said: "O people, whoever amongst you worshipped Muhammad (ﷺ), then know that Muhammad (ﷺ) is dead. And whoever amongst you worshipped Allah, then know that Allah is Ever-Living and will never die." Then he recited the verse: “Muhammad is but a messenger; messengers (the like of whom) have passed away before him...” (Al-Imran 3:144) until he completed the verse. Then he (Abu Bakr) said: By Allah, it was as if the people had never known that Allah had revealed this verse until Abu Bakr (RA) recited it that day. After Abu Bakr (RA) recited it, everyone started reciting it.


Grade: Sahih

(٦٧١٠) عبد الرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر (رض) کا سنح میں جو مکان تھا وہاں سے گھوڑے پر آئے ، اس سے اترے اور مسجد میں داخل ہوگئے ۔ لوگوں سے کوئی کلام نہ کی اور عائشہ (رض) کے پاس گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قصد کیا اور وہ یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے ۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھک گئے۔ پھر بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر انھوں نے کہا : میرا باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں وارد نہیں کرے گا سوائے اس موت کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آچکی۔ ابن عباس فرماتے ہیں : ابوبکر (رض) نکلے تو عمر (رض) لوگوں سے کلام کر رہے تھے ۔ ابوبکر (رض) نے عمر (رض) سے کہا : بیٹھ جاؤ مگر انھوں نے انکار کردیا۔ پھر انھوں نے کہا ۔ عمر (رض) نے پھر انکار کردیا تو ابوبکر (رض) نے خطبہ دیا ۔ لوگ عمر (رض) کو چھوڑ کر ابوبکر کی طرف متوجہ ہوئے اور ابوبکر نے کہا : اے لوگو ! جو کوئی تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کیا کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوچکے ہیں اور جو کوئی تم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ یقین جانے کہ اللہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۔۔۔ ٤٤ آل عمران “ نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مگر اللہ کے رسول تحقیق ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے، سو کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید کردیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔ یہ پوری آیت شاکرین تک پڑھی۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! لوگوں کی ایسی کیفیت تھی گویا کہ وہ یہ بات جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بھی نازل کی ہیں مگر اسی وقت جب ابوبکر (رض) نے تلاوت کی اور لوگوں نے یہ آیت ابوبکر سے لی ۔ پھر تو ہر کوئی یہی آیت تلاوت کررہا تھا۔

6710 Abdur Rahman bin Auf بیان کرتےہیں کہ سیدہ Aisha نبی کریم کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ Abubakar کا سنح میں جو مکان تھا وہاں سے ghore پر آئے، اس سے اترے اور masjid میں داخل ہوگئے۔ لوگوں سے کوئی کلام نہ کی اور Aisha کے پاس گئے اور رسول اللہ کا قصد کیا اور وہ Yamani chadar میں لپٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ پر جھک گئے۔ پھر بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر انھوں نے کہا : میرا باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں وارد نہیں کرے گا سوائے اس موت کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی۔ وہ آپ کو آچکی۔ Ibn Abbas فرماتے ہیں : Abubakar نکلے تو Umar لوگوں سے کلام کر رہے تھے ۔ Abubakar نے Umar سے کہا : بیٹھ جاؤ مگر انھوں نے انکار کردیا۔ پھر انھوں نے کہا ۔ Umar نے پھر انکار کردیا تو Abubakar نے خطبہ دیا ۔ لوگ Umar کو چھوڑ کر Abubakar کی طرف متوجہ ہوئے اور Abubakar نے کہا : اے لوگو ! جو کوئی تم میں سے Muhammad کی عبادت کیا کرتا تھا وہ جان لے کہ Muhammad فوت ہوچکے ہیں اور جو کوئی تم میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ یقین جانے کہ اللہ زندہ ہے کبھی اسے موت نہیں آئے گی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۔۔۔ ٤٤ آل عمران “ نہیں ہیں Muhammad مگر اللہ کے رسول تحقیق ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے، سو کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید کردیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔ یہ پوری آیت شاکرین تک پڑھی۔ پھر انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! لوگوں کی ایسی کیفیت تھی گویا کہ وہ یہ بات جانتے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بھی نازل کی ہیں مگر اسی وقت جب Abubakar نے تلاوت کی اور لوگوں نے یہ آیت Abubakar سے لی ۔ پھر تو ہر کوئی یہی آیت تلاوت کررہا تھا۔

٦٧١٠ -قَالَ الزُّهْرِيُّ:أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكَلِّمُ النَّاسَ،فَقَالَ:اجْلِسْ، فَأَبَى عُمَرُ أَنْ ⦗٥٧٠⦘ يَجْلِسَ،فَقَالَ:اجْلِسْ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَالَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَتَرَكُوا عُمَرَ،فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ{وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ}[آل عمران: ١٤٤]إِلَى{الشَّاكِرِينَ}[آل عمران: ١٤٤]".قَالَ:" وَاللهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ إِلَّا حِينَ تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ، فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ فَمَا يَسْمَعُ بَشَرًا إِلَّا يَتْلُوهَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 6711

Zayd bin Thabit Ansari narrated: Umm Ala, an Ansari woman who had pledged allegiance to the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him), said that when the Prophet (peace and blessings be upon him) drew lots among the Muhajireen, Uthman bin Maz'un fell to our lot. We kept him in our house, and he suffered from the illness of which he died. When he died, he was washed and shrouded in three pieces of cloth, then the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) entered. I said: "O Abu Sa'ib! May Allah have mercy on you! I bear witness that Allah has honored you." The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "How do you know that Allah has honored him?" I said: "May my father and mother be sacrificed for you! Whom would Allah honor if not him?" The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "As for him, what is certain has come to him, and by Allah, I hope for good for him. But by Allah, I do not know, even though I am the Messenger of Allah, what Allah will do with me." She said: "I said: "By Allah, I will never again claim purity for anyone."


Grade: Sahih

(٦٧١١) زید بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں : ام علاء جو انصاری عورت تھی جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی وہ خبر دیتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مھاجرین میں قرعہ اندازی کی تو ہمارے حصے میں عثمان بن مظعون آئے۔ ہم نے انھیں اپنے گھر میں رکھ لیا تو انھیں وہ تکلیف شروع ہوئی جس میں وہ فوت ہوگئے۔ جب وہ فوت ہوگئے انھیں غسل دیا گیا اور تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے۔ میں نے کہا : اے ابو سائب ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عزت بخشی ہوگی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت بخشی ہے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کسے عزت دیں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تک اس کی بات ہے تو اس کے پاس یقینی بات آچکی ہے ، اللہ کی قسم ! میں بھی اس کیلئے خیر کی توقع کرتا ہوں ویسے اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ کیا کریں گے۔ وہ کہتی ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آئندہ میں کبھی بھی کسی کو پاکیزہ نہیں کہوں گی۔

(6711) Zaid bin Sabit Ansari bayan karte hain : Umme Alaa jo Ansari aurat thi jisne Rasul Allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ki bai't ki woh khabar deti hain ki aap ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne muhajireen mein qur'a andazi ki to hamare hisse mein Usman bin Maz'oon aaye. Humne unhen apne ghar mein rakh liya to unhen woh takleef shuru hui jis mein woh fout hogaye. Jab woh fout hogaye unhen ghusl diya gaya aur teen kapdon mein kafan diya gaya to Rasul Kareem ((صلى الله عليه وآله وسلم)) dakhil huye. Maine kaha : Aye Abu Saib! Aap par Allah ki rehmat ho. Mein gawahi deti hun ki Allah Ta'ala ne aap ko izzat bakhshi hogi to Rasul Allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne farmaya : Tujhe kaise maloom hua ki Allah ne use izzat bakhshi hai. Mere maan baap aap par fida hon. Allah Ta'ala kise izzat denge to Rasul Allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne farmaya : Jahan tak us ki baat hai to uske paas yaqeeni baat aachuki hai, Allah ki qasam! Mein bhi uske liye khair ki tawaqqa karta hun waise Allah ki qasam mein bhi nahin janta halanki mein Allah ka Rasul hun ki Allah Ta'ala mere saath kya karenge. Woh kehti hain : Maine kaha : Allah ki qasam! Aindah mein kabhi bhi kisi ko pakiza nahin kahungi.

٦٧١١ - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُقَيْلٍ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ:أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهُمُ اقْتَسَمُوا الْمُهَاجِرِينَ قُرْعَةً، يَعْنِي فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا، فَوُجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثٍ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،قَالَتْ:فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللهُ،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللهَ أَكْرَمَهُ؟" قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَنْ أَكْرَمَهُ اللهُ؟فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَمَّا هُوَ فَوَاللهِ لَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَاذَا يُفْعَلُ بِي؟فَقَالَتْ:وَاللهِ إِنِّي لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا".رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَقَالَ:وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ،وَفِي آخِرِهِ قَالَتْ:"فَوَاللهِ لَا أُزَكِّي بَعْدَهُ أَبَدًا"،قَالَ الْبُخَارِيُّ:فَقَالَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ: "مَا يُفْعَلُ بِهِ " وَتَابَعَهُ شُعَيْبٌ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ وَيُذْكَرُ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ{إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا}[الفتح: ١]الْآيَةَ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 6712

Narrated Aisha (RA): The Prophet (peace be upon him) went to `Uthman bin Maz'un (who had just died). The Prophet uncovered his face, bent over him, kissed him, and wept till I saw his tears rolling down his cheeks.


Grade: Da'if

(٦٧١٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عثمان بن مظعون کے پاس آئے اور وہ فوت ہوچکے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے چہرے سے کپڑا ہٹایا۔ پھر آپ اس پر جھک گئے اور اسے بوسہ دیا اور آپ رو دیے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسو رخساروں پر بہہ رہے تھے۔

(6712) Syeda Ayesha (RA) se riwayat hai keh Rasul Kareem ((صلى الله عليه وآله وسلم)) Usman bin Mazoon ke pass aye aur wo foot ho chuky thy to Aap ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne us ke chehry se kapra hataya. Phir Aap us par jhuk gaye aur usay bosa diya aur Aap ro diye yahan tak keh maine dekha keh Aap ke aansu rukhsaron par beh rahy thy.

٦٧١٢ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْنَتَيْهِ "

Sunan al-Kubra Bayhaqi 6713

Jabir bin Abdullah narrates that when my father passed away in the battle of Uhud, I was removing the cloth from his face and crying. The companions of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) were stopping me from doing so, but you (peace and blessings of Allah be upon him) did not stop me. And I was sobbing, so the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Do not cry," or he said: "What is making you cry?" The angels were shading him with their wings until they even lifted their wings.


Grade: Sahih

(٦٧١٣) حضرت جابربن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ جب میرا باپ غزوہ احد میں فوت ہوگیا تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹا رہا تھا اور رو رہا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی مجھے اس سے منع کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے منع نہیں کرتے تھے اور میری پھوپھی رو رہی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو نہ رو، یا فرمایا : تجھے کیا چیز رلا رہی ہے۔ فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھے حتیٰ کہ انھوں نے اپنے پر ہٹا لیے ہیں۔

Hazrat Jabir bin Abdullah bayan karte hain ki jab mera baap ghazwa uhud mein foot ho gaya to main un ke chehre se kapra hata raha tha aur ro raha tha. Nabi kareem ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ke sahabi mujhe is se mana karte the aur aap ((صلى الله عليه وآله وسلم)) mujhe mana nahin karte the aur meri phophi ro rahi thi to Rasul Allah ((صلى الله عليه وآله وسلم)) ne farmaya: "To na ro, ya farmaya: Tujhe kya cheez rula rahi hai. Farishte is par apne paron se saya kiye huye the hatta ki unhon ne apne par hata liye hain.

٦٧١٣ - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ⦗٥٧١⦘ الْبَاغِنْدِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ:سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" لَمَّا قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، وَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي عَنْ ذَلِكَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي عَنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَتْ عَمَّتِي تَبْكِي،فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَبْكِي أَوْ مَا يُبْكِيكِ؟ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعُوهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 6714

(6714) It was narrated from Ma'qil bin Yasar (RA) that when the Messenger of Allah (ﷺ) placed Na'im bin Mas'ud in his grave, he uncovered his face.


Grade: Da'if

(٦٧١٤) معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعیم بن مسعود کو قبر میں رکھا اور اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا۔

6714 Maqal bin Yasar (RA) bayan karte hain ke jab Rasul Allah (SAW) ne Naeem bin Masud ko qabar mein rakha aur uske chehre se kapda hata diya.

٦٧١٤ - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،ثنا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ قَالَ:سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أَظُنُّهُ سَمِعَهُ مِنْ مَوْلَاهُ،وَمَوْلَاهُ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ:" لَمَّا وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُعَيْمَ بْنَ مَسْعُودٍ فِي الْقَبْرِ نَزَعَ الْأَخِلَّةَ بِفِيهِ ".قَوْلُهُ:أَظُنُّهُ، أَحْسَبُهُ مِنْ قَوْلِ الدُّورِيِّ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى، وَسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْعَتَكِيِّ،أَنَّ خَلَفَ بْنَ خَلِيفَةَ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِيهِ قَالَ:بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

Sunan al-Kubra Bayhaqi 6715

Samura's (may Allah be pleased with her) son passed away so she said to me, "Walk with me to his grave. When you place him in the grave, say: 'In the name of Allah and according to the way of the Messenger of Allah.' Then untie the knot at his head and the knot at his feet."


Grade: Da'if

(٦٧١٥) سمرۃ (رض) کے بھیجتے عثمان بیان کرتے ہیں کہ سمرۃ (رض) کا بیٹا فوت ہوگیا تو انھوں نے مجھے کہا : میرے ساتھ اس کی قبر تک چل ۔ جب تو اسے لحد میں رکھے تو کہنا :” بِسمِ اللّٰہِ وعلٰی سَنَّۃِ رَسُولِ اللّٰہ “ پھر تو کھول دے اس کے سر کی گرہ اور پاؤں کی گرہ کو۔

(6715) Samra (Razi Allahu Anha) ke bhejte Usman bayan karte hain ki Samra (Razi Allahu Anha) ka beta faut hogaya to unhon ne mujhe kaha: Mere sath is ki qabar tak chal. Jab tu use lahad mein rakhe to kehna: "Bismillah wa'ala sunnati Rasoollillah" phir tu khol de is ke sar ki girah aur paon ki girah ko.

٦٧١٥ - أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ، أَخْبَرَهُمْ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَارِثِ،عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سَيَّارٍ قَالَ:حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ابْنُ أَخِي سَمُرَةَ،قَالَ:مَاتَ ابْنٌ لِسَمُرَةَ،وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ:فَقَالَ:" انْطَلِقْ بِهِ إِلَى حُفْرَتِهِ،فَإِذَا وَضَعْتَهُ فِي لَحْدِهِ فَقُلْ:بِسْمِ اللهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَطْلِقْ عَقْدَ رَأْسِهِ وَعَقْدَ رِجْلَيْهِ "