3.
Book of Prayer
٣-
كتاب الصلاة


Chapter on No Expiation for One Who Missed Prayer Due to Sleep or Forgetfulness Until Its Time Has Passed; It Is Upon Him to Make It Up If Remembered, There Is No Expiation Except That

باب لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك

Sunan al-Kubra Bayhaqi 3176

(3176) (a) Narrated Abu Huraira (RA): When the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from the battle of Khaibar, he set out at night. When we were overcome by sleep, he (ﷺ) stopped at a place. He (ﷺ) said to Bilal (RA), "Keep watch over us during the night." Bilal (RA) prayed what was ordained for him, and the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions (RA) went to sleep. When the time for Fajr approached, Bilal (RA) leaned against his mount, facing east, and he too was overcome by sleep and fell asleep, leaning against his mount. Neither the Prophet (ﷺ) nor Bilal (RA) nor any of his Companions (RA) woke up until the sun had risen. The Messenger of Allah (ﷺ) was the first to wake up, and he (ﷺ) called out in alarm, "O Bilal!" Bilal (RA) said, "O Messenger of Allah! May my parents be sacrificed for you, the One who caused you to sleep has caused me to sleep as well." You (ﷺ) said, "Let us move from here." So they all moved from there for some distance. Then the Prophet (ﷺ) performed ablution and commanded Bilal (RA) to pronounce the Adhan for prayer, and you led the Fajr prayer. When you (ﷺ) finished the prayer, you (ﷺ) said, "Whoever forgets a prayer, let him offer it when he remembers it, for Allah Almighty has said: { أَقِمِ الصَّلاَۃِ لِذِکْرِی } [Ta-Ha: 14] 'Establish prayer for My remembrance.'" (b) Yunus said: Ibn Shihab used to recite it as "لِلذِّکْرِیْ." (d) Yunus said that Ibn Shihab used to recite it in this manner. (h) Ahmad said: 'Anbasah narrated from the chain of Yunus: "لذکری." Ahmad said: "Al-Kiri" means sleep and drowsiness.


Grade: Sahih

(٣١٧٦) (ا) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ نے رات کو کوچ کیا، ہمیں نیند آنے لگ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا اور بلال (رض) سے فرمایا : آپ رات کو ہم پر پہرہ دیں۔ بلال (رض) نے نماز پڑھی جو ان کے مقدر میں تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) سو گئے، جب فجر کا وقت قریب آیا، حضرت بلال (رض) سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے ۔ ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ بھی سواری کے ساتھ سہارا لیے ہوئے سو گئے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، بلال (رض) یا آپ کے اصحاب میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا حتیٰ کہ ان پر دھوپ آگئی۔ سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھبرا کر آواز دی : اے بلال ! بلال (رض) نے عرض کیا : اے للہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جس ذات نے آپ پر نیند طاری کی، اسی نے مجھ پر بھی نیند طاری کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہاں سے کوچ کر جاؤ۔ پھر سب نے وہاں سے کچھ فاصلے کے لیے کوچ کیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور بلال (رض) کو حکم دیا، انھوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : { أَقِمِ الصَّلاَۃِ لِذِکْرِی } [طٰہ : ١٤] ” یاد آجانے کے بعد نماز قائم کرو۔ “ (ب) یونس کہتے ہیں : ابن شہاب اس کو لِلذِّکْرِیْ پڑھتے ہیں۔ (د) یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔ (ہ) احمد کہتے ہیں : عنبسہ نے یونس کی سند سے ” لذکری “ بیان کیا ہے۔ احمد کہتے ہیں : الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے۔

3176 a Hazrat Abu Hurairah بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ نے رات کو کوچ کیا ہمیں نیند آنے لگ گئی تو آپ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا اور Bilal سے فرمایا آپ رات کو ہم پر پہرہ دیں Bilal نے نماز پڑھی جو ان کے مقدر میں تھی اور رسول اللہ اور آپ کے صحابہ سو گئے جب فجر کا وقت قریب آیا حضرت Bilal سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ بھی سواری کے ساتھ سہارا لیے ہوئے سو گئے نبی Bilal یا آپ کے اصحاب میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا حتیٰ کہ ان پر دھوپ آگئی سب سے پہلے رسول اللہ بیدار ہوئے تو رسول اللہ نے گھبرا کر آواز دی اے Bilal Bilal نے عرض کیا اے للہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جس ذات نے آپ پر نیند طاری کی اسی نے مجھ پر بھی نیند طاری کی آپ نے فرمایا یہاں سے کوچ کر جاؤ پھر سب نے وہاں سے کچھ فاصلے کے لیے کوچ کیا پھر نبی نے وضو کیا اور Bilal کو حکم دیا انھوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ نے صبح کی نماز پڑھائی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے { اقم الصلوة لذکری } یاد آجانے کے بعد نماز قائم کرو b Younus کہتے ہیں Ibn Shahab اس کو للذکری پڑھتے ہیں d Younus کہتے ہیں کہ Ibn Shahab اس کو اسی طرح پڑھتے تھے h Ahmad کہتے ہیں Anbasa نے Younus کی سند سے لذکری بیان کیا ہے Ahmad کہتے ہیں الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے

٣١٧٦ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ،وَقَالَ لِبِلَالٍ:" اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ "فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَقَالَ:" أَيْ بِلَالُ "فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ،قَالَ:" اقْتَادُوا "، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاة فَصَلَّى بِهُمُ الصُّبْحَ،فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ{أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي}[طه: ١٤]"قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا" لِذِكْرَى "وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ" لِلذِّكْرَى "قَالَ يُونُسُ وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ عَنْبَسَةُ، يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ" لِذِكْرَى "قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ