37.
The Book of Fighting [The Prohibition of Bloodshed]
٣٧-
كتاب تحريم الدم


8
Chapter: Mentioning the Differences Reported from Humaid, from Anas bin Malik

٨
باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ

Sunan an-Nasa'i 4031

Anas (رضي الله تعالى عنه) narrated that some people from 'Uraynah became Muslim, but the climate of Madinah did not suit them. The Apostle of Allah (صلى الله عليه وآله وسلم) told them, ‘why don't you go out to some camels of ours and drink their milk?' (One of the narrators) Humaid said, ‘and Qatadah (رضي الله تعالى عنه) said, narrating from Anas (رضي الله تعالى عنه) 'nd their urine (as medicine).' So they did that, and when they recovered they reverted to disbelief after their Islam, killed the herdsman of the Apostle of Allah (صلى الله عليه وآله وسلم), who was a believer, drove off the camels of the Apostle of Allah (صلى الله عليه وآله وسلم), and fled as those at war. The Apostle of Allah (صلى الله عليه وآله وسلم) sent someone to bring them and they were caught. He had their hands and feet cut off and their eyes branded, then he left them in Al-Harrah until they died.’


Grade: Sahih

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے  ( تو اچھا ہوتا ) ،  ( حمید کہتے ہیں: قتادہ نے انس سے «البانہا»  ( دودھ کے )  بجائے «ابو الہا» ( پیشاب )  روایت کی ہے۔ )  انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے، رسول اللہ ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر لیے گئے۔ آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور انہیں حرہ  ( مدینے کے پاس پتھریلی زمین ) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُمَيْدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ ‏"‏ وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلاَمِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُؤْمِنًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَتَى بِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا ‏.‏