4.
Statement of Prayer
٤-
بيان الصلاة


Explanation of the responsibilities of the Imam (prayer leader)

بيان مسؤولية الإمام

Mishkat al-Masabih 1129

Anas said:I never prayed behind animam, who was more brief or more perfect in his prayer than the Prophet. If he heard a boy crying he would shorten the prayer for fear his mother might be distressed. (Bukhari and Muslim.)


Grade: Sahih

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کی سی بہت ہلکی اور بہت کامل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی ، جب آپ کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس اندیشے کے پیش نظر کہ اس کی والدہ کسی آزمائش سے دوچار ہو جائے گی ، نماز ہلکی کر دیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

Anas RA bayan karte hain, maine Nabi SAW ki si bahut halki aur bahut kaamil namaz kisi imam ke peeche nahin parhi, jab aap kisi bache ke rone ki aawaz sunte to is andaishe ke pesh-e-nazar ke uski walida kisi aazmaish se dochar ho jayegi, namaz halki kar diya karte the. Muttafiq alaih.

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أمه

Mishkat al-Masabih 1130

Abu Qatada reported God’s Messenger as saying, “When I begin the prayer. I intend to make it long, but I hear a boy crying and shorten my prayer, being aware of his mother’s emotion because of his crying.” Bukhari transmitted it.


Grade: Sahih

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں لمبی نماز پڑھنے کے ارادے سے نماز شروع کرتا ہوں ، لیکن پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز میں تخفیف کر دیتا ہوں ، اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ اس کے رونے کی وجہ سے اس کی والدہ غمگین ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Abu Qatada bayan karte hain, Rasool Allah ne farmaya: “Main lambi namaz parhne ke irade se namaz shuru karta hun, lekin phir main bachay ke rone ki aawaz sunta hun to apni namaz mein takhfeef kar deta hun, isliye ke main janta hun ke uske rone ki wajah se uski walida ghamgeen hoti hai.” Riwayat Bukhari.

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وجد أمه من بكائه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

Mishkat al-Masabih 1131

Abu Huraira reported God’s Messenger as saying, “When one of you leads the people in prayer he should be brief, for among them are the sick, the weak, and the aged. But when one of you prays by himself he may be as long as he likes.” (Bukhari and Muslim.)


Grade: Sahih

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے ، کیونکہ ان میں بیمار ، ضعیف اور بوڑھے ہوتے ہیں ، اور جب تم میں سے کوئی شخص اکیلا نماز پڑھے تو پھر جس قدر چاہے لمبی پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Abu Huraira bayan karte hain, Rasool Allah ne farmaya: ''Jab tum mein se koi logon ko namaz parhaiye to wo takhfeef kare, kyunki un mein bimar, zaeef aur buddhe hote hain, aur jab tum mein se koi shakhs akela namaz parhe to phir jis qadar chahe lambi parhe.'' Muttafiq alaih.

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا صلى أحدكُم النَّاس فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ. وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ»

Mishkat al-Masabih 1132

Qais b. Abu Hazim said Abu Mas'ud told him of a man saying, “I swear by God, Messenger of God, that I keep away from the Morning Prayer on account of so and so, because he keeps us so long.” I never saw God’s Messenger more angry when giving an exhortation than he was that day. He said, “Some of you are scaring people away, so whoever of you leads the people in prayer must be brief, for among them are the weak, the aged, and people who have business to do.” (Bukhari and Muslim.)


Grade: Sahih

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، ابومسعود ؓ نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ کی قسم ! میں فلاں شخص کی وجہ سے نماز فجر دیر سے پڑھتا ہوں ، کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ، چنانچہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وعظ نصیحت کرتے وقت اس دن سے زیادہ ناراض کبھی نہیں دیکھا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک تم میں کچھ نفرت دلانے والے بھی ہیں ، پس تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ اختصار سے کام لے کیونکہ ان میں ضعیف ، بوڑھے اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Qais bin Abi Hazim bayan karte hain, Abu Masood ne mujhe bataya ki ek aadmi ne arz kiya, Allah ke Rasool! Allah ki qasam! mein falan shakhs ki wajah se namaz fajr der se parhta hun kyunki woh humain bohat lambi namaz parhata hai, chunancha maine Rasool Allah ko waz nasihat karte waqt us din se zyada naraz kabhi nahin dekha, phir aap ne farmaya: ''Be shak tum mein kuch nafrat dilane wale bhi hain, pas tum mein se jo shakhs logon ko namaz parhaye to woh ikhtesar se kaam le kyunki un mein zaeef, budhe aur hajat mand bhi hote hain.'' Muttafiq alaih.

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ: فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِير وَذَا الْحَاجة

Mishkat al-Masabih 1133

Abu Huraira reported: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said, “Your (imam) will lead you in prayer. If he prays correctly, then you will have reward, and if he errs, then you will have reward and he will have sin.” Source: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī


Grade: Sahih

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (امام) تمہیں نماز پڑھائیں گے ، چنانچہ اگر انہوں نے درست پڑھائی تو تمہارے لیے اجر ہے ، اور اگر انہوں نے غلطی کی تو تمہارے لیے اجر ہے اور ان پر گناہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Abu Hurairah bayan karte hain, Rasool Allah ne farmaya: "Woh (imam) tumhein namaz parhaiyenge, chunancha agar unhon ne durust parhai to tumhare liye ajr hai, aur agar unhon ne ghalti ki to tumhare liye ajr hai aur un par gunah hai." Riwayat al-Bukhari.

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلُّونَ لَكُمْ فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي\

Mishkat al-Masabih 1134

‘Uthman b. Abul ‘As said that the last command God’s messenger gave him was, “When you act as imam for people, make the prayer short." Muslim transmitted it. In a version by him it says that God's messenger said to him, “Act as imam for your people” to which he said he replied, “Messenger of God, I find a defect in myself.” Telling him to come near and making him sit down in front of him, he placed his hand on his breast between his nipples; then telling him to turn round, he placed it on his back between his shoulders. He then said, “Act as imam for your people. Whoever acts as imam for people must be brief, for among them are the aged, among them are the sick, among them are the weak, and among them are people who have busi­ness to do. But when any of you prays alone he may pray as he likes.”


Grade: Sahih

عثمان بن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی مجھے آخری وصیت یہ تھی :’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ ۔‘‘ مسلم ۔\n انہی سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اپنے دل میں کچھ وسوسہ پاتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ قریب ہو جاؤ ۔‘‘ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ میری چھاتی پر رکھ دیا ، پھر فرمایا :’’ پہلو بدلو ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری پشت پر رکھا ، پھر فرمایا :’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ، جو شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے ، کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں ، ان میں مریض ہوتے ہیں ، ان میں ضعیف ہوتے ہیں ، اور ان میں کوئی حاجت مند ہوتے ہیں ، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو پھر جیسے چاہے پڑھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

Usman bin Abi al-Aas بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ کی مجھے آخری وصیت یہ تھی :’’ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ ۔‘‘ مسلم ۔ انہی سے مروی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ نے انہیں فرمایا :’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اپنے دل میں کچھ وسوسہ پاتا ہوں ، آپ نے فرمایا :’’ قریب ہو جاؤ ۔‘‘ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ میری چھاتی پر رکھ دیا ، پھر فرمایا :’’ پہلو بدلو ۔‘‘ پھر آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان میری پشت پر رکھا ، پھر فرمایا :’’ اپنی قوم کی امامت کراؤ ، جو شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے ، کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں ، ان میں مریض ہوتے ہیں ، ان میں ضعیف ہوتے ہیں ، اور ان میں کوئی حاجت مند ہوتے ہیں ، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو پھر جیسے چاہے پڑھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمُ الصَّلَاةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ\وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أُمَّ قَوْمَكَ» . قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ: «ادْنُهْ» . فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ثُمَّ قَالَ: «تَحَوَّلْ» . فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ثُمَّ قَالَ: «أُمَّ قَوْمَكَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فيهم الْكَبِير وَإِن فيهم الْمَرِيض وَإِن فيهم الضَّعِيف وَإِن فهيم ذاالحاجة فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ»\

Mishkat al-Masabih 1135

Ibn ‘Umar said:God's Messenger used to command us to be brief, and he would reciteas-Saffat(Al-Qur’an; 37) when he was ourimam. Nasa’i transmitted it.


Grade: Sahih

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ہمیں ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیا کرتے تھے ، جبکہ آپ سورۃ الصافات سے ہماری امامت کرایا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

Ibne Umar RA bayan karte hain, Nabi SAW humain halki namaz parhanay ka hukum diya karte thay, jabke aap Surah As-Saffat se hamari imamat karaya karte thay. Isnadahu hasan, riwaya al-Nasa'i.

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا ب (الصافات)\رَوَاهُ النَّسَائِيّ\