3.
Book of Prayer
٣-
كتاب الصلاة


Chapter on Qunut in Prayers When Calamities Descend

باب القنوت في الصلوات عند نزول نازلة

Sunan al-Kubra Bayhaqi 3094

Narrated Anas bin Malik (RA): The tribes of Banu Rimal, Dhi Quwan, 'Usayya and Banu Lihyan asked for help from the Messenger of Allah (ﷺ) against their enemy, so he sent seventy of his companions to help them. We used to call them the reciters of the Quran in our time. They would gather firewood during the day and pray at night. When they reached a place called Bi'r Ma'unah, the aforementioned tribes martyred them and betrayed them. When the Prophet (ﷺ) received the news of this event, he invoked Allah's wrath upon some of the Arab tribes, Rimal, Dhi Quwan, 'Usayya and Banu Lihyan, for a month in the Fajr prayer. Anas (RA) said: We used to recite the Quran regarding them. Then this order was abrogated. A message reached the people of our nation that we have reached our Lord, and He is pleased with us and we are pleased with Him.


Grade: Sahih

(٣٠٩٤) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ رمل، ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان کے لوگوں نے دشمن کے خلاف مدد کی درخواست کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر صحابہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا، ان کو ہم اپنے زمانے کے قراء کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کو قیام کرتے تھے حتیٰ کہ جب یہ بئر معونہ کے مقام پر پہنچے تو ان مذکورہ قبائل نے انھیں شہید کردیا اور ان کے ساتھ دھوکا کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قبائل عرب کے کچھ قبیلوں رمل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے رہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : ہم ان کے بارے میں قرآن پڑھتے رہے۔ پھر یہ حکم اٹھا لیا گیا۔ ہماری قوم کے افراد کو پیغام پہنچ گیا کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے، وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی ہوگئے۔

(3094) سيدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ رمل، ذکوان اور عصیہ اور بنو لحیان کے لوگوں نے دشمن کے خلاف مدد کی درخواست کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ستر صحابہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا، ان کو ہم اپنے زمانے کے قراء کہا کرتے تھے، وہ دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے تھے اور رات کو قیام کرتے تھے حتیٰ کہ جب یہ بئر معونہ کے مقام پر پہنچے تو ان مذکورہ قبائل نے انھیں شہید کردیا اور ان کے ساتھ دھوکا کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ ایک مہینہ تک فجر کی نماز میں قبائل عرب کے کچھ قبیلوں رمل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے رہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : ہم ان کے بارے میں قرآن پڑھتے رہے۔ پھر یہ حکم اٹھا لیا گیا۔ ہماری قوم کے افراد کو پیغام پہنچ گیا کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے، وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی ہوگئے۔

٣٠٩٤ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءُ فِي زَمَانِهِمْ كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ وَغَدَرُوا بِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى ⦗٢٨٤⦘ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لَحْيَانَ قَالَ أَنَسٌ فَقَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا، ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ (بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا "رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ النَّرْسِيِّ