2.
The Book of Prayer
٢-
كِتَابُ الصَّلَاةِ


Chapter on the Evidence That the Dislike of Staying Up After the Night Prayer Does Not Apply to What a Person Must Discuss Regarding the Affairs of Muslims

بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ كَرَاهَةَ السَّمَرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي غَيْرِ مَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ أَنْ يُنَاظِرَ فِيهِ، يَسْمُرُ فِيهِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ

NameFameRank
Imran ibn Husayn Imran ibn Husayn al-Azdi Sahaba
Abi Hassan Muslim ibn Abdullah al-Basri Trustworthy
Qatadah Qatadah ibn Di'amah al-Sadusi Trustworthy, Upright, Well-known for Tadlis
Abu Hilal Muhammad ibn Salim al-Rasibi Trustworthy, somewhat lenient
Affan Uffan ibn Muslim al-Bahili Trustworthy, Sound
Bundar Muhammad ibn Bashshar al-Abdi Trustworthy Hadith Scholar
Abdullah ibn Amru al-Awdi Abdullah bin Amr al-Sahmi Companion
Abi Hassan Muslim ibn Abdullah al-Basri Trustworthy
Qatadah Qatadah ibn Di'amah al-Sadusi Trustworthy, Upright, Well-known for Tadlis
Abi, haddathani Hishām ibn Abī `Abd Allāh al-Dustawā'ī Trustworthy, Sound and has been accused of Determinism
Mu'adh ibn Hisham Muadh bin Hisham Al-Dastawai Saduq (Truthful) Hasan (Good) Al-Hadith
Bundar Muhammad ibn Bashshar al-Abdi Trustworthy Hadith Scholar

Sahih Ibn Khuzaymah 1342

Imam Abu Bakr (may Allah have mercy on him) said that the narration of Abdullah bin Amr (may Allah be pleased with him) is about the same type of gathering where the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) would tell us about the Children of Israel (at night) until morning came. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) would only get up for the obligatory prayer (i.e., Fard prayer) during that time. Sayyiduna Imran bin Husain (may Allah be pleased with him) narrated the same from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). Imam Abu Bakr (may Allah have mercy on him) said that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) used to tell the Companions about the Children of Israel after the Isha prayer so that they could learn a lesson and take heed from the worldly punishment that befell the Children of Israel, and from the punishment of the Hereafter that Allah Almighty has prepared for them due to their disobedience to their Prophets and their disbelief. Therefore, it is permissible for a person to engage in such beneficial conversation after Isha prayer from which the listeners can benefit religiously. Because the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) used to have conversations after Isha prayer regarding some matters of the Muslims, which would benefit the Muslims in this world and the Hereafter, sooner or later. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) used to tell his Companions about the conditions and events of the Children of Israel so that they could benefit from his (peace and blessings of Allah be upon him) words. Therefore, there is evidence in the blessed act of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that the conversation after Isha prayer which has no religious or worldly benefit is disliked. And in my opinion, the reason why the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) disliked conversation after Isha prayer may also be that it leads to laziness and negligence in Tahajjud prayer. Because when a person is engaged in conversation in the early part of the night, he will fall into a deep sleep in the last part of the night and will not be able to wake up. And even if he wakes up, he will not be fresh and ready for Tahajjud prayer.


Grade: Sahih

امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت اسی قسم کے متعلق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات کے وقت) ہمیں بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرتے تھے حتّیٰ کہ صبح ہوجاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران صرف بڑی نماز (یعنی فرض نماز) کے لئے اُٹھتے تھے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو عشاء کے بعد بنی اسرائیل کے حالات بیان کیا کرتے تھے تاکہ وہ عبرت و نصیحت حاصل کریں، بنی اسرائیل کو ملنے والے دنیاوی عذاب سے اور اس اخروی عذاب سے جو ان کی رسولوں کی نافرمانی کرنے اور ایمان نہ لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ لہٰذا آدمی کے لئے عشاء کے بعد ایسی مفید گفتگو کرنا جائز ہے جس سے سامعین کو دینی فائدہ ہو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے امور میں سے کسی معاملہ میں عشاء کے بعد گفتگو کیا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کے دین و دنیا میں جلدی یا تاخیر سے فائدہ ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو بنی اسرائیل کے حالات و واقعات بیان کرتے تھے تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سے مستفید ہوں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل مبارک میں اس بات کی دلیل ہے کہ عشاء کے بعد وہ گفتگو ناپسندیدہ ہے جس میں دینی اور دنیاوی کوئی فائدہ نہ ہو۔ اور میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کے بعد گفتگو کو ناپسند کرنا اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ نماز تہجّد میں سستی اور غفلت کا سبب بنتی ہے، کیونکہ جب انسان ابتدائی رات میں گفتگو میں مشغول رہے گا تو رات کے آخری پہر اُسے گہری نیند آئے گی تو وہ بیدار نہیں ہوسکے گا۔ اور اگر بیدار ہو بھی جائے تو نماز تہجّد کے لئے چاق و چوبند نہیں ہو گا۔

Imam Aبوبکر رحمه الله فرماتے ہيں کہ حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنه کی روايت اسی قسم کے متعلق ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم (رات کے وقت) ہميں بنی اسرائيل کے بارے ميں بيان کرتے تھے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی آپ صلى الله عليه وسلم اس دوران صرف بڑی نماز (يعنی فرض نماز) کے لئے اُٹھتے تھے۔ سيدنا عمران بن حصين رضی الله عنه نبی کريم صلى الله عليه وسلم سے اس کی مثل روايت کرتے ہيں۔ امام Aبوبکر رحمه الله فرماتے ہيں کہ نبی کريم صلى الله عليه وسلم صحابہ کرام کو عشاء کے بعد بنی اسرائيل کے حالات بيان کيا کرتے تھے تاکہ وہ عبرت و نصيحت حاصل کريں، بنی اسرائيل کو ملنے والے دنياوی عذاب سے اور اس اخروی عذاب سے جو ان کی رسولوں کی نافرمانی کرنے اور ايمان نہ لانے کی وجہ سے الله تعالى نے اُن کے لئے تيار کر رکھا ہے۔ لہٰذا آدمی کے لئے عشاء کے بعد ايسي مفيد گفتگو کرنا جائز ہے جس سے سامعين کو دينی فائدہ ہو۔ کيونکہ نبی کريم صلى الله عليه وسلم مسلمانوں کے امور ميں سے کسی معاملہ ميں عشاء کے بعد گفتگو کيا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کے دين و دنيا ميں جلدی يا تاخير سے فائدہ ہوتا۔ آپ صلى الله عليه وسلم اپنے صحابہ کرام کو بنی اسرائيل کے حالات و واقعات بيان کرتے تھے تاکہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم کی گفتگو سے مستفيد ہوں۔ لہٰذا آپ صلى الله عليه وسلم کے فعل مبارک ميں اس بات کی دليل ہے کہ عشاء کے بعد وہ گفتگو ناپسنديدہ ہے جس ميں دينی اور دنياوی کوئی فائدہ نہ ہو۔ اور میرے خيال ميں آپ صلى الله عليه وسلم کا عشاء کے بعد گفتگو کو ناپسند کرنا اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ يہ نماز تہجد ميں سستی اور غفلت کا سبب بنتی ہے، کيونکہ جب انسان ابتدائی رات ميں گفتگو ميں مشغول رہے گا تو رات کے آخری پہر اُسے گہری نيند آئے گی تو وہ بيدار نہيں ہوسکے گا۔ اور اگر بيدار ہو بھی جائے تو نماز تہجد کے لئے چاق و چوبند نہيں ہو گا۔

قَالَ أَبُو بَكْرٍ خَبَرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ هَذَا الْجِنْسِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ فِيهَا إِلا إِلَى عُظْمِ صَلاةٍ" . ثناهُ بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بَعْدَ الْعِشَاءِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لِيَتَّعِظُوا مِمَّا قَدْ نَالَهُمْ مِنَ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مِنَ الْعِقَابِ فِي الآخِرَةِ لَمَّا عَصَوْا رُسُلَهُمْ، وَلَمْ يُؤْمِنُوا فَجَائِزٌ لِلْمَرْءِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا يَعْلَمُ أَنَّ السَّامِعَ يَنْتَفِعُ بِهِ مِنْ أَمْرِ دِينِهِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَسْمُرُ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي الأَمْرِ مِنْ أُمُورِ الْمُسْلِمِينَ، مِمَّا يَرْجِعُ إِلَى مَنْفَعَتِهِمْ عَاجِلا وَآجِلا دِينًا وَدُنْيَا، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لِيَنْتَفِعُوا بِحَدِيثِهِ، فَدَلَّ فِعْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ كَرَاهَةَ الْحَدِيثِ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِمَا لا مَنْفَعَةَ فِيهِ دِينًا، وَلا دُنْيَا، وَيَخْطِرُ بِبَالِي أَنَّ كَرَاهَتَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الاشْتِغَالَ بِالسَّمَرِ، لأَنَّ ذَلِكَ يُثَبِّطُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، لأَنَّهُ إِذَا اشْتَغَلَ أَوَّلَ اللَّيْلِ بِالسَّمَرِ ثَقُلَ عَلَيْهِ النَّوْمُ آخِرَ اللَّيْلِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ، وَإِنِ اسْتَيْقَظَ لَمْ يَنْشَطْ لِلْقِيَامِ